نوائے سروش

ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا, نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاک جادوئے سامری ,تو قتیل شیوہء آذری
میں نوائے سوختہ در گلو, تو پریدہ رنگ و رمیدہ بو
میں حقایت غم آرزؤ, تو حدیث ماتم دلبری
علامہ اقبال رح
برق رفتاری سے بدلتی اس دنیا میں انسانی مزاج میں,تماتر ترقی کے باوجود,سرعت کے ساتھ تنزل کا ایک سلسلہ بدستور ,انسانی اقدار کو تہ و بالا بلکہ تہ تیغ کر رہا ہے اور انسانی ذہن اسقدر تکدر کا شکار ہوا ہے کہ انسان شکم پروری اور عیش کوشی کے علاوہ کچھ اور سوچنے کی صلاحیت ہی کھو چکا ہے۔جب انسانی زندگی کا چلن اس نہج پے رواں دواں ہو تو پھر انسانی حواس بہت حد تک مفلوج ہونے میں کوئ روکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی اور حالت جب اسقدر نازک ہوجائے تو پھر انسانی انا کی تسکین خون آدم سے بھی نا ممکن ہو جاتی ہے اور اس فعل شنیع و قبیح کی داستانیں آج ہر نگر اور ہر ڈگر پے رقم ہو رہی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کرہء ارض پے بسنے والی اولاد آدم مصائب و مسائل کی شکار,بے چینی اور تذبذب کی زنجیروں میں جکڑی ,مایوسی اور حسرت کی اذیت دہ ساعتیں گذارنے پے مجبور ہے۔رشتوں ناطوں کی پاسداری مفقود ہو چکی ہے۔امانت و دیانت اور صدق صفاء ایک قصہء پارینہ بن کے رہ گئے ہیں۔آپسی رشتوں کی اساس, جذبہء ایثار اور اخوت کی بجائے بہیمی جذبات پے استوار ہو رہی ہے۔مادیت کی تعظیم و تکریم اور شرافت کی تذلیل و تحریم ,موجودہ معاشرے کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔فریب کاری اور جعلسازی اور سفلہ مزاجی ,ہماری رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے۔تساہل پسندی اور عیاشی ہماری منزل نامسعود طے پائ ہے۔مرد وزن عریانی اور فحاشی پے فرفتہ ہیں۔گویا انسان کو انسان ہونے پے کوئ فخر ہی نہیں اور اشرف المخلوقات کے اعزاز سے مطمئن ہی نہیں۔ جب انسان کی لوح مغز میں اسقدر فتور کا غلبہ ہو تو پھر توقع بس ایسے ہی حالات و واقعات کی ہوسکتی ہے جن حالات اور واقعات نے ہمیں بے بس و بے حس کر دیا ہے۔اس بحران کی ذمہ داری,راعی اور رعایہ,سائل و مسؤل,امام و مقتدی,سپاہی و سپاہ سا لار,مدرس و تلمیذ,زن و شوہر,غرض ہر کسی پے عائد ہوتی ہے۔
اس ابلیسی رہ و رسم کی یلغار پے قابو پانے کے لئے معاشرے کے عمائدین کو ہر سطح پے اپنے اپنے کردار اور اپنےاپنے اعمال کا نہایت ایمانداری کے ساتھ محاسبہ کرنا ہوگا اور اپنے کردار کی پلک نوک کو سنوارنا ہوگا تاکہ انکی تدبیر و تبلیغ میں تاثیر بھی ہو اور وزن بھی ہو۔انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں حیا سوز واقعات , خون ریزی اور بے راہ روی ,جبر و استبداد,ظلم و ستم ,سفاکیت اور درندگی اور ننگ انسانیت جرائم کا سلسلہ قائم رہا مگر ہر دور میں جب کوئ آذر لوگوں کی گمراہی کا ذریعہ بننے لگا تو کسی خلیل نے مورچہ سنبھالا اور جب کوئ سامری دعوت ظلمت کے لئے کمر بستہ ہوا تو کوئ کلیم صف بستہ ,حق کی آواز بلند کرنے کے لئے آمادہ نظر آیا۔مگر ہم نے اسلاف کی تاریخ کو طاق نسیاں کر دیا۔اصلاح ممکن کہاں جب باپ کو ہی موبائل فون سے فراغت نہیں ملتی تو اولاد کے بگڑنے میں کیا تعجب۔جب ماں ہی ٹیلی ویژن کی سکرین پے فریفتہ ہو تو گھر کی چہار دیواری کے اندر شرم و حیا کا خمیرکیسے تیارہو۔ اسی معاشرے کے افراد جب قوم و ملت کی دینی,سماجی , انتظامی اور سیاسی قیادت کو سنبھالیں تو قوم و ملت کا آغاز و انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔
خالق کائنات نے آدم اور اولاد آدم کی تخلیق ایک عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے انجام دی اور ساری کائنات میں ہمیں انسان بنا کر ایک ایسا عظیم رتبہ عطا کیا جسکا کوئ نعم البدل ممکن نہیں۔اسانیت ایک ایسا شرف محمود و مقصود ہے جو دنیا میں ہر آنے والے انسان کو بخشا گیا ہے ۔ہم میں سے جو بھی فرد,انسان ہونے میں خوش ہے دراصل وہی انسان ہے۔
آئے “انسان ” کے اس لاثانی مقام کی عظمت کو سمجھتے ہوئے ہم اپنی اپنی ذمہ داری کی حد تک, نئ نسل کی صالح تربیت کا فریضہ انجام دے کر اپنی انسانیت کی دلیل پیش کریں۔
والسلام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیل چدوس,تحصیل بانہال,ضلع رام بن
رابطہ نمبر 8493990216۔