دعوے بڑے نتائج صفر

جموںو نواحی اضلاع گذشتہ کچھ ہفتوںسے ڈینگو کے قہر سے جونجھ رہا ہے ۔جموںشہر و نواحی علاقہ جات میں گذشتہ ایک ماہ سے ڈینگو کے قہر میںمبتلا ہے ،ڈینگو مچھر سے پھیلتا ہے ،جس سے مریض کی جان پر بن آتی ہے ،جموںمیڈیکل ہسپتال میںدرج کیسوںکے بڑھنے کے بعد جموںمیونسپل کارپوریشن ہوش میںآیا ۔جس کے ڈپٹی میئر نے پریس کانفرنس میںعوام کو بڑے وثوق سے یقین دلایا کہ جموںوالوںکو گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیںہے ،جے ایم سی اس بیماری کو قابو کر نے میںکوئی کسر باقی نہ رکھے گا ،شہر و گرد ونواح میںڈینگو کا ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جا ئیںگے ۔اس وقت جب پریس کانفرنس کی گئی مہر روز تین چار درجن کیس درج ہو رہے تھے جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار اس سے زیادہ ہو سکتے تھے ،لیکن پریس کانفرنس کے بعد نہ صرف ڈینگو کے کیسوںمیںبھاری اضافہ ہوا ،اور ہر دنج ان کیسوںمیںبڑٖھوتری دیکھی جانے لگی ،اس دوران اس بیماری نے مریضوںکی جان لینی شروع کر دی ،اب تک صوبہ میںڈینگو سے چار افراد موت کو گلے لگا چکے ہیںجبکہ ہر روز ہسپتال میںایک سو سے زیادہ مریض آرہے ہیںمگر جو مریض ہسپتال نہیںجا رہے ہیں،ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ،غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہر چار افراد میںسے ایک مریض ڈینگو کا نکل رہا ہے ،اس مریض کی علامات بخار کے ساتھ کندھوںو ٹانگوںمیںزبردست درد کے ساتھ بھوک کا ختم ہونا ہے ،سر بھاری ہو جاتا ہے ،مریض کی ٹانگوںمیںاس شدت کا درد ہو تا ہے کہ اس سے چلا نہیںجا تا ہے ،مریض کو بروقت ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے دس دن کا وقت ریکوری میںلگ جاتا ہے ،اس دوران مریض کو کافی مشکل دور سے گذرنا پڑ تا ہے ،جے ایم سی کے ڈپٹی میئر کی پریس کانفرنس کے بعد خا ص کچھ اقدامات دیکھے نہ گئے م،فوگنگ کی بات کی جائے تو برائے نام کچھ ہی وارڈز میںکی گئی وہ بھی من مرضی سے ،جبکہ ڈینگو سے ہر ایک وارڈ متاثر ہے ،صفائی ستھرائی میںکوئی جہت نہ لائی گئی ،روزمرہ کی طرح ہی کام چلایا جا رہا ہے ،جے ایم سی عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے کیونکہ صفائی پر جتنا دھیان دینے اور جن مقامات کی صفائی کرنا لازمی ہو جاتا ہے ،اس جانب کوئی توجہ نہ دی جا رہی ہے ،عوام کو بھی ڈینگو سے بیدار کرنے کے لئے پریس کانفرنس کے دن منادی کرانے پر اکتفا کیا گیا جبکہ اس بارے جے ایم سی کو بیداری مہم چلانے و صاف صفائی پر خصوصی توجہ مبذول کرکے مچھر وںکی افزائس پر قابو پانے کے لئے شروع کی جا نی چاہئے تھی ،مگر ایسا کچھ دیکھا نہ گیا بلکہ یہاںخالی اعلانات و زبانی جمع خرچ سے ہی کام چلایا گیا ،جس سے شہرداران کو کافی مشکل دور سے گذرنا پڑ رہا ہے ۔اس لئے عوام کو خود ہی ڈینگو سے بچائو کے لئے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔کسی ذمہ دار کی باتوںپر بھروسہ کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔