مرکز کی براہ راست مسلسل حکمرانی عوام کش ثابت ہورہی ہے:این سی ترجمان اعلیٰ

سری نگر//جموں وکشمیر میں پچھلے 5 برسوں کے دوران مرکز کی براہ راست حکمرانی میں عوام دوست فیصلے اور اقدامات نہ ہونے کے برابر کئے گئے اور اس دوران عوام کش فیصلے لینے میں کوئی بھی کثر باقی نہیں چھوڑی گئی اور ان عوامی مخالف فیصلوں پر عمل درآمد کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی جاتی ہے۔ان باتوں کا اظہار پارٹی کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے آج اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایک وفد کے علاوہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔نوجوانوں کے وفود نے بتایا کہ لاتعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عمر کی حد پار کر گئے ہیں جبکہ بہت سارے اس حد کو پہنچنے کے قریب ہے۔ گذشتہ برسوں سے سرکاری محکموں میں بھرتی عمل معدوم ہو کر رہ گیا ہے ، جس کی وجہ ہے پہلے ہی پریشانِ حال بے روزگار نوجوان زبردست غیر یقینیت کے شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گذشتہ برسوں کے دوران بے روزگاری کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تعمیر و ترقی کا فقدان دیکھنے کو مل رہاہے ،زمینی سطح پر عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور لوگوں کو روز مرہ کی ضرورت بھی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساوی ترقی، سماجی انصاف اور عام آدمی کی فلاح و بہبود نیشنل کانفرنس کا بنیادی ایجنڈا رہا ہے اور نیشنل کانفرنس نے روز اول سے ہی لوگوں کی حمایت سے اپنے ایجنڈا پر کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے دور اقتدار کے دوران نیشنل کانفرنس نے دکھایا ہے کہ عوامی بہبود کیسی ہوتی ہے۔اپنی فلاحی ایجنڈے کے تحت نیشنل کانفرنس نے روزگار کے لاکھوں مواقعے نوجوانوں کیلئے دستیاب رکھے اور اس کے علاوہ نجی سیکٹر کو بھی دوام بخشا تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگا رکے مزید مواقعے قائم کئے جاسکے۔ اسی فلاحی توسیع کے ذریعے اس جماعت نے بے روزگاروں کیلئے ماہانہ مشارہ، معمر افراد اور بیوا?ں کیلئے پنشن اور ہزاروں غریب گھرانوں کی بیٹیوں کی شادی کرنے کے لئے مالی مدد فراہم کی۔نیشنل کانفرنس نے تن دہی کیساتھ ے معاشرے کے معذور طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کیا ہے۔تنویر صادق نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے کیونکہ انتظامیہ اس جانب کوئی بھی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہے۔ خصوصی بھرتی عمل تو دور کی بات گذشتہ برسوں سے یہاں معمول کی بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس جانب خصوصی توجہ نہ دی گئی تو بے روزگاری کی ایک سنگین صورتحال برپا ہوگی جسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔یو این آئی