معاشی تفریق: جموں کشمیر کی دیہی خواتین کا المیہ

شازیہ چودھری// راجوروی، جموں و کشمیر

جس طرح ہمارے ملک ہندوستان کی 70 فی صد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اسی طرح مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے اور ان کا ذریعہ معاش زراعت سے منسلک ہے۔ جموں و کشمیر زیادہ تر زرعی معیشت والا علاقہ ہے جہاں دیہی علاقوں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ لیکن برابر محنت کے باوجود یہ لاکھوں دیہی خواتین اپنے حقوق کے حصول میں مردوں سے بہت پیچھے ہیں۔ بیشک جموں کشمیر کی دیہی خواتین کا معاشی سرگرمیوں میں حصہ اچھا خاصا ہے لیکن چونکہ اکثریتی سطح پر یا تو یہ کام بلامعاوضہ ہیں یا اپنے گھر یا خاندان کے ساتھ مددگار کے طور پر سمجھے جاتے ہیں جس کا نقصان یہ ہے کہ ان کا معاشی کردار اعدادوشمار میں نہیں گنا جاتاہے۔ یہ خواتین بنیادی طور پر کاشت کاری، مال مویشی، گائے، بھینس،بھیڑ بکریاں اور مرغے پالنے، ماہی گیری اور دست کاری جیسی معاشی سرگرمیوں میں مصروف عمل نظر آتی ہیں۔ تاہم آج بھی زیادہ تر دیہی خواتین ان شعبوں میں بلامعاوضہ، خاندانی مزدور یا کم اجرت پر کام کرتی ہیں۔اگر خواتین کے سارے کاموں کو ورک فورس یا لیبر فورس میں شامل کیاجائے تو خواتین کے کام کی شرح چونتیس فی صد سے بڑھ کر باون فی صد ہو جائے گی۔باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور صحیح سوال پوچھے جائیں تو خواتین کا کام ساٹھ فی صد تک پہنچ سکتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں عورتیں زیادہ تر ڈیئری اور لائیو اسٹاک کا کام کرتی ہیں۔ صرف انیس فی صد خواتین معاوضہ پر کام کرتی ہیں اورساٹھ فی صد خواتین بغیر کسی معاوضہ کے گھریلو ذمہ داری سمجھ کر کرتی ہیں۔دوسرا المیہ یہ ہے کہ دیہی خواتین، کام کے حوالے سے آج بھی دوہرے بوجھ کا شکار ہیں۔
اکثر دیہی خواتین غیررسمی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مزید سماجی اور گھریلو ذمہ داریاں بھی سرانجام دیتی ہیں جیسے کہ تولید، پانی اور ایندھن لانا، مویشیوں کے لئے چارہ،پانی اکٹھا کرنا گھر، بچوں اور بڑوں کی نگہداش، رسم ورواج وغیرہ۔ ان تمام ذمہ داریوں اور معاشی عمل میں بھرپور کردار کے باوجود اکثر خواتین کے پاس جائیداد اور وسائل کی ملکیت کا اختیار نہیں ہے۔ چند خواتین کو اگر کہیں جائیداد کا حق مل بھی جاتا ہے تو اکثر ان کے اس حق کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ایسے میں اگر دیہی خواتین سماجی اور حکومتی سطح پر موجود وسائل یا سہولیات سے مستفید ہونا چاہیں تو اس میں سے اکثر تک یا تو ناکافی رسائی حاصل ہے اور یہ طریقہ کار اتنا مشکل ہے کہ اس سے فائدہ لینا ایک عام خاتون کے بس کی بات نہیں معلومات ہوتی ہے۔سہولیات تک رساء سے محرومی جموں کشمیر کی دیہی خواتین کی معاشی طور پر خود مختاری میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ان دیہی خواتین کی معاشی پسماندگی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کو جدید ٹیکنالوجی، عوامی خدمات (صحت، تعلیم، تربیت اور ٹرانسپورٹ) تک کم رسائی حاصل ہے اور اگر کہیں کہیں پر کچھ سہولیات میسر ہیں تو وہ یا تو موثر نہیں ہیں، یا وہاں پر خواتین کو سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اکثر اوقات صنفی بنیاد پر تفریق کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔دیہی علاقوں میں اکثر خواتین اور بچیوں کی خاطر خواہ تعداد ایسی خواتین کی ہوتی ہے جنہیں کوئی نہ کوء معذور ی ہے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے کی وجہ سے ان خواتین اور بچیوں کو بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔دیہی علاقوں میں رہنے والی اکثر معذور خواتین اور بچیوں کی معلومات تک رسائی بالکل نہیں ہوتی اوروالدین بھی غربت اور لاعلمی کی وجہ سے ان خواتین اور بچیوں کی بہتر زندگی کیلئے کسی قسم کی کوشش نہیں کرتے۔ دیہی علاقوں میں اقتصادی وسائل کی کمی کی وجہ سے اکثر خواتین و مرد محرومی کا شکار رہتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ غربت کی وجہ سے لوگ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے اور یوں معاشرے میں فرسٹریشن پھیلتی ہے جس کا نتیجہ متشدد رویوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ خواتین چونکہ معاشرے کا کمزور حصہ ہیں، اس لئے یہ فرسٹریشن ان پر نکالی جاتی ہے۔
دیہی خواتین کھیتی باڑی کرتے ہوئے،مال مویشیوں کو چراتے ہوئے یا ان کے لئے چارہ پانی اکٹھا کرتے یوں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کا شکار بھی ہوتی ہیں۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان خواتین کو اپنے مال مویشیوں سے بڑا لگاؤ ہوتا ہے۔ہو بھی کیوں نہیں، کیونکہ گھر کا دارومدار ہی ان ہی مال مویشیوں سے چلتا ہے۔دودھ، انڈے، مکھن، گھی،گوشت وغیرہ سب چیزیں انہیں گھر میں ہی تیار ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ گھر میں استعمال کرنے کے علاوہ ان کو بیچا بھی جاتا ہے۔ اس طرح ان کا جموں و کشمیر کی معیشت میں بھی کردار نمایاں ہے۔دیہی علاقوں کی خواتین کے مسائل چاہے وہ معاشی ہوں یا سماجی، بڑی وجہ تعلیم سے محرومی ہے اور یہ خواتین تعلیم سے محروم اس لئے بھی ہیں کہ دور درازکے دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی مشکل ہے۔ اسکی اہم وجہ تعلیمی اداروں کی کمی بھی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ دیہی خواتین امتیازی سلوک کا سامنا کرتی ہیں اور غیر متناسب طور پر معاشی، سماجی اور سیاسی پسماندگی کا شکار ہوتی ہیں۔دیہی خواتین کے معاشی کردار کی پذیرائی کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل اور ترقی کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے اور اس میں خصوصی طور پر دیہی خواتین کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔ وقت اور مزدور بچانے والی ٹیکنالوجی دیہی خواتین کی فلاح و بہبود، کام کا بوجھ کم کرنے اور معاشی طور پہ بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایسی ٹیکنالوجیز جو معلومات تک رسائی کو بہتر بناتی ہیں ان کے زرعی کام (فصلوں کی پیداوار، لائیو سٹاک مینجمنٹ) اور غیر زرعی روزگار خواتین کو دستیاب ہونا چاہیے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جانا چاہیے۔
موبائل فون کے استعمال میں تیزی سے اضافے نے دیہی مردوں اور عورتوں کے لیے معلومات اور ٹیکنالوجی تک بروقت اور کم لاگت سے موثر رسائی کے نئے مواقع کو جنم دیا ہے۔ لہذا سادہ مقامی زبانوں مثلاً،کشمیری، ڈوگری،پہاڑی، گوجری میں معلومات کی فراہمی سے دیہی خواتین کے کاروباری رویوں کو نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے مزید موثر بنایا جاسکتا ہے۔دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے مڈل، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور طالبات کو اپنے تعلیمی اداروں میں جانے کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔اسکے ساتھ دیہی طالبات کو ہائیر سیکنڈری تک کی تعلیم مفت دی جائے کیونکہ اکثر طالبات وسائل کی کمی کی وجہ سے مڈل یا ہائی اسکول کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیتی ہیں۔ حکومت کو ضلعی سطح پر دیہی خواتین کے لیے پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی ڈپلوما کورسز شروع کرنے چاہئے جو مڈل یا میٹرک کے بعد سکول میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی ہیں۔عورتوں کے جنسی ہراسانی اور تشدد، (چاہے گھر، کام کی جگہ اور عوامی جگہوں پر ہوں) کے قانون کی منظوری سے اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس پر موثر عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ عملی طور پر خواتین محفوظ محسوس کریں اور سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت اور ترقی کے مواقع سے محروم نہ ہوں۔موسم کی تبدیلی دیہی خواتین کی معاش اور معاشی مواقع کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ دیہی خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے موثرحکمت عملی کی ضرورت ہے جو ہر طرح سے دیہی خواتین کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کی متعدد سطحوں پر شرکت و شمولیت کو ممکن بنائے۔