فلسطین-اسرائیل جنگ: غزہ میں 1 لاکھ 23 ہزار 538 افراد نقل مکانی پر مجبور

اسرائیل اور فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو ساحلی علاقے میں شروع ہوئی جنگ کے تباہ کن اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ شروعاتی تین دنوں میں ہی غزل میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 23 ہزار 538 افراد داخلی طور پر نقل مکانی کو مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے افسر نے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد جاری کرتے ہوئے مزید برے حالات کا اندیشہ ظاہر کیا۔

انسانی معاملوں کے کوآرڈنیشن کے لیے اقوام متحدہ دفتر (او سی ایچ اے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے درمیان خوف، سیکورٹی فکر اور ان کے گھروں کی تباہی کے سبب 17500 سے زیادہ کنبے، جن میں 1 لاکھ 23 ہزار 538 سے زیادہ لوگ شامل ہیں، داخلی طور سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے تعلق سے اقوام متحدہ راحت و کارگزاری ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ وہ موجودہ وقت میں غزہ پٹی کے سبھی علاقوں میں اپنے 64 اسکولوں میں 73 ہزار 538 داخلی طور پر نقل مکانی کو مجبور لوگوں (آئی ڈی پی) کو پناہ دے رہی ہے۔ ان میں سے 45 نامزد ایمرجنسی پناہ گاہ (ڈی ای ایس) ہیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کے ایک ترجمان عدنان ابو حسنہ کو اندیشہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی تعداد مزید بڑھے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ان اسکولوں میں بجلی ہے، ہم انھیں کھانا، صاف پانی، نفسیاتی امداد اور طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔‘‘ ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ پٹی میں 225 سے زیادہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو پناہ دینے والا یو این آر ڈبلیو اے اسکول اسرائیلی ہوائی حملے کی زد میں آ گیا۔ پناہ گزینوں میں کوئی ہلاک نہیں ہوا ہے، لیکن اسکول کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں 23 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ 7 اکتوبر کو جب اسرائیل نے جوابی ہوائی حملہ شروع کیا تو اس سے پہلے کچھ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ دی تھی۔ دونوں فریقین (حماس اور اسرائیل) کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اب تک کم از کم 493 فلسطینی اور کم و بیش 1000 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں فریقین کے تقریباً 3000 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔