سروس بک میں تاریخ ِ پیدائش کا غلط اندراج

Justice Sindhu Sharma

اگر ملازم نے تقرری سے پانچ برس کے اندر درخواست دی تو درستی کرنالازمی:عدالت عالیہ
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملازم کی سروس بُک میں تاریخ ِ پیدائش کا غلط اندراج ہوگیا ہے تو وہ تقرری کے بعد پانچ سالوں کے اندر درستی کے لئے متعلقہ محکمہ کے حکام کے پاس درخواست دے سکتا ہے۔ اگر تصدیق کرنے پر ملازم کی طرف سے درستی کا دعویٰ صحیح ثابت ہوتو حکومت پر لازمی ہے کہ تاریخ ِ پیدائش میں درستی کی جائے۔یہ اہم فیصلہ ہائی کورٹ کی سرینگر بنچ سال 2019کو دائر سروس رٹ پٹیشن پر صادر کیا۔ ’خالدہ بانو بنام حکومت جموں وکشمیر ‘عنوان سے اِس عرضی میں مدعی نے 30مارچ2019کو سرینگر ڈولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے پاس آرڈر کو چیلنج کیاتھا جس کے تحت 31مارچ2019سے مدعی کو ملازمت سے سبکدوش کر دیاتھا ۔ رٹ پٹیشن کے مطابق مدعی کی سرینگر ڈولپمنٹ اتھارٹی میں سال 1988کو بطور جونیئر اسسٹنٹ تقرری ہوئی ۔کلریکل غلطی کی وجہ سے سروس ریکارڈ میں اُس کی تاریخ پیدائش 07اگست1959کی بجائے 07مارچ1959لکھی گئی۔جب مدعی کو سروس بک میں ہوئی اِس غلطی کا پتہ چلا تو اُس نے ضروری درستی کے لئے متعلقہ حکام کے اس درخواست دی لیکن بقول اُس کے درستی عمل میں نہ لائی گئی ۔ مدعی نے دوبارہ سے محکمہ کے پاس درخواست دی جس کو تاریخ ِ پیدائش کی تصدیق کے لئے سال2012کو جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے پاس فاورڈ کیاگیاجہاں سے تصدیق کی گئی کہ صحیح تاریخ ِ پیدائش 7اگست 1959ہی ہے۔ بعد ازاں سروس بک میں ضروری درستی کی گئی اور مدعی کی درست تاریخ ِ پیدائش یعنی7اگست1959ہی کے تحت نان گزیٹیڈ سٹاف کی نوٹیفکیشن نمبرSDA/VC/123/2017کے تحت جاری سنیارٹی لسٹ اُس کو بھی شامل کیاگیا لیکن حیران کن طریقہ سے30مارچ 2019کو جاری میں ریٹائرمنٹ تاریخ 31مارچ2019بتائی گئی ۔ اس آرڈر کو مدعی نے عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی کہ اُس کی صحیح تاریخ ِ پیدائش کے مطابق ریٹائرمنٹ 07اگست2019تصور کی جائے اور تب تلک اُس کو نوکری کرنے کی اجازت دی جائے ۔ اس پر عدالت نے 30مارچ2019کے آرڈر پر حکم امتناعی جاری کر کے سرکار کو حکم دیاتھاکہ مدعی کو مزید نوکری کرنے دی جائے۔ حتمی بحث کے دوران ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایاکہ مدعی کی تقرری کے وقت سروس بک میں تاریخ ِ پیدائش 07مارچ1959تھی ۔جموں وکشمیر سول سروس ریگولیشن میں واضح ہے کہ مدعی کو تاریخ ِ پیدائش میں درستی کے لئے تقرری سے پانچ سالوں کے اندر درخواست دینی تھی جوکہ وہ دینے میں ناکام رہی ۔ مدعی نے سال 2008اورپھر2018میں تاریخ پیدائش کی درستی کے لئے اپلائی کیا۔ 2008میں دی گئی درخواست پر یہ فیصلہ لیاگیاتھاکہ تاریخ ِ پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی کیونکہ مدعی نے پانچ سال کی معیاد کے بعد درخواست دی ہے۔ البتہ انہوں نے یہ تسلیم کیاکہ عدالت عالیہ کی عبوری ہدایت کے مطابق پٹیشنرکو 09اپریل2019تک نوکری کرنے کی بھی اجازت دی گئی۔ وہیں وکیل ِ مدعی نے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ 2008نہیں بلکہ 1990کو تاریخ ِ پیدائش کی تصحیح کیلئے محکمہ کے پاس درخواست مدعی نے دی تھی ۔ علاوہ ازیں JKBOSEریکارڈ کے مطابق بھی مدعی کی تاریخ پیدائش 07-08-1959ہی ہے۔ عدالت عالیہ نے 1990کو مدعی کی طرف سے دی گئی عرضی متعلق سیکریٹری سرینگر ڈولپمنٹ اتھارٹی سے وضاحت بھی طلب کیا جس کے جواب میں بتایاگیاکہ ریکارڈ دستیاب نہیں ، کیونکہ ریکارڈ پرانا ہے اور شاہد سال 2014کے سیلاب میں کہیں ضائع ہوگیا ، ریکارڈ کیپر نے بھی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کی بات کی ۔ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ مدعی کی طرف سے مئی 1990کو جس درخواست کو پیش کرنے کا دعویٰ کیاجارہا ہے وہ یاتو فائل ہی نہیں کی گئی یا بعد میں دی گئی کیونکہ ریکارڈ کیپر نے صرف اتنا کہا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا ہے کہ ری پریزنٹیشن دستیاب ہی نہیں۔ اصل سروس ریکارڈ سے تو مدعی کی تاریخ ِپیدائش 07-03-1959ہے لہٰذا مدعی کی عرضی خارج کی جائے۔ جسٹس رجنیش اوسوال نے وکلاءفریقین کی مدلل دلائل کو سننے کے بعد اپنے فیصلے میں کہاکہ اگر مدعی نے تاریخ ِ پیدائش میں تصحیح کے لئے مئی 1990یعنی کے تقرری کے دو سال بعد عرضی دی تھی تو درستی کی جانی چاہئے تھی اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ درخواست دی گئی تھی ۔جسٹس موصوف نے کہاکہ مدعا علیان نے اپنے جواب میں یہ تسلیم کیا ہے عبوری ہدایت کے مطابق مدعی نے30مارچ2019کے بعد بھی ملازمت کی ہے ، لہٰذا اُس کی بقیہ تنخواہ اور دیگر مراعات تحت ضابطہ واگذار کی جائیں اور سروس بُک میں اُس کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ 7اگست2019درج کی جائے۔