غیروں پہ کرم اپنوںپر ستم

سمارٹ میٹرز و پری پیڈ کنکشن کے مدعے پر جموںشہر میںسیاست تیز ہی تھی کہ اب وادی کشمیر کی سیاست کو بھی گرمایا گیا ہے ۔تین روز قبل جس انداز سے سرکار نے امریکی سیب و دوسرے میووںپر کسٹم ڈیوٹی اچانک 75سے 15فیصدی کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس سے کشمیر و ہماچل پردیش کے میوہ اگانے و سیب انڈسٹری سے وابسہ لوگ شش و پنچ میںپڑ گئے ہیں۔کہ اس سے مقامی کاروباریوںکو بے تحاشہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ،کیونکہ امریکی سیب ہماری منڈیوںپر چھا جائے گا جس سے مقامی فروٹ گرورس کو مشکلات کا سامناکرنا پڑے گا ،یاد رہے کہ پہلے ہی کشمیر میںنامصائب موسم کے سبب میوہ اگانے والے کے ساتھ باغات مالکان کو لا تلافی ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے ،ہونا تو چاہئے تھا کہ جس طرح سے سسٹم چل رہا تھا ،اس کو جاری رکھا جاتا تاکہ مقامی صنعت کو فروغ پانے کا موقعہ ملتا ،یہ بات ہر کسی کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک جانب مقامی اشیاء کی کھپت بڑھانے پر زور دیا جا تا رہا ہے مگر دوسری جانب مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس پر دبائو بنایا جا رہا ہے ۔اس سے مقامی میوہ اگانے والوںکی حوصلہ شکنی ہو گی ۔امریکہ کو جس قسم کی رعایت دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے وہ مقامی میوہ صنعت کو ختم کرنے کے مترادف ہے ۔کیونکہ امریکی سیب و دوسرا میوہ جات ہمارے ملک کی منڈیوںمیںچھا جا ئے گا اور ہمارے میوہ اگانے والوںکو امریکی سیب و دوسرے میوہ جات کا مقابلہ کرنے میںپریشانی ہو سکتی ہے ۔اب اسی پر کشمیر کے سبھی سیاسی و سماجی تنظیموںنے اس فیصلے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے تاکہ مقامی میوہ صنعت سے وابستہ افراد کو جینے کا موقعہ مل سکے ۔،یاد رہے کہ حالیہ موسم برسات کے دوران جس قسم کی جانی و مالی تباہی ہماچل پردیش میںہو ئی ہے اس کی ماضی میںنظیر نہیںملتی ہے ۔اس ریاسست کو آفت زدہ قرار دئے جانے کی مانگ کی جا رہی ہے ،اس ناساز گار موسم سے ہماچل میوہ مالکان کو بھی لاتلافی نقصان پہنچا ہے ،ہونا تو چاہئے تھا کہ ہماچل میوہ مالکان کی حوصلہ افزائی کی جاتی مگر اس کے بر عکس ان پر امریکی صنعت کو فوقیت دی گئی ۔ایسے فیصلے کو عوام دوست قرار نہیںدیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر ملک مقامی صنعت کا مفاد دیکھ کر فیصلے لیتا ہے ،یہی حال امریکہ کا بھی ہے وہ بھی ملکی مفاد کو دیکھ کر دوسرے ملکوںسے تعلقات استوار کرتا ہے مگر ہمارے یہاںمقامی صنعت کو فروغ دینے کی باتیںتو بڑے زور و شور سے کی جا کر غیروںکو فوقیت دے کر مقامی صنعت کا گلہ دبانے کا کام کیا جا رہا ہے ،اس سے فروٹ گرورس میںبھاری تنائو پایا جا رہا ہے ،اس لئے مرکزی سرکار کو چاہئے کہ وہ عوام کی آواز کو سنجیدگی سے لیتے ہو ئے غیر ملکیوںکو غیر ضروری رعائت دینے کا فیصلہ واپس لے کر ملک کے عوام کی بہبود ی کو یقینی بنائے تاکہ جموںوکشمیر اور ہمال پردیش کے فروٹ گرورس کی حوصلہ افزائی ہو سکے ،امید کی جانی چاہئے کہ مرکزی سرکار ملکی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گا ۔