کوکر ناگ گڈول انکاؤنٹر: سماعت شکن دھماکے سے علاقہ لرز اُٹھا لشکر طیبہ کے دو ملی ٹینٹ محاصرے میں:پولیس

ANANTNAG, SEP 14 (UNI):- Security personnel with sniffer dogs take position at the encounter site after fresh firing resumes near the encounter site at Godole area of Kokarnag in Anantnag district on Thursday. UNI PHOTO-39U

اُڑان نیوز نیٹ ورک
کوکرناگ //جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکر ناگ کے گھنے جنگلاتی علاقے میں چھپے جنگجووں کو مار گرانے کے لئے جمعرات کو دوسرے دن بھی وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔بتادیں کہ اس علاقے میں بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ، کرنل اور میجر سمیت تین اعلیٰ آفیسران جاں بحق ہوئے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ انکائوںٹر کے مقام پر رات کی خاموشی کے بعد سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تازہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ رات کو اندھیرے کے پیش نظر آپریشن معطل کر دیا گیا تھا اور جمعرات کی صبح اضافی فورسز کو طلب کرکے آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا اور پھنسے ہوئے ملی ٹنٹوں کے فرار ہونے کے تمام راستوں کو مسدود کر دیا گیا۔قبل ازیں کشمیر زون پولیس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کرنل منپریت سنگھ،میجر آشیش دھونک اور ڈی ایس پی ہمایوں بٹ کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افسروں نے غیر متزلزل بہادری کا مظاہرہ کرکے اس آپریشن کے دوران سب سے آگے لڑتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ٹویٹ میں کہا گیا: ‘ہماری افواج غیر متزلزل عزم کے ساتھ قائم ہے انہوں نے عزیز خان سمیت لشکر طیبہ کے 2 دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا ہے’۔معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلی علاقے میں محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر فوج کی خصوصی ونگ’مونٹین بریگیڈ‘ جنہیں پہاڑوں پر چڑھنے کی مہارت حاصل ہے کو طلب کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فوج، پولیس ، سی آر پی ایف کی اضافی نفری نے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کرکے لوگوں کے چلنے پھرنے پر مکمل طورپر پابندی عائد کی ہے۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس فوج اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں جنگلی علاقے میں خیمہ زن ہے۔دریں اثنا جمعرات کی سہ پہر تصادم کی جگہ ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پورا علاقہ لرز اٹھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اس کمین گاہ کو اڑا دیا جس میں ملی ٹینٹ محصور ہے تاہم ابھی تک کسی بھی ملی ٹینٹ کی لاش برآمد نہیں کی جا سکی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین تصادم جاری ہے اورا س میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ان کے مطابق گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کیا گیا ہے اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرون کیمروں کی مدد سے علاقے میں نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گڈول کوکر ناگ کا جنگلی علاقہ کافی بڑا ہے جس کے پیش نظر اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔

فوجی افسران کے قاتلوں
کوعبرت نا ک سزا نہیں ملے گی: بی جے پی
اُڑان نیوز نیٹ ورک
سرینگر //بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چْگ نے جو جموں و کشمیر کے پارٹی انچارج بھی ہیں، نے اننت ناگ انکاؤنٹر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ایک آرمی کرنل اور ایک میجر سمیت تین اعلیٰ سیکورٹی افسران کی ہلاکت کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’ہمارے بہادروں کے قاتل۔ افسران سزا کے بغیر نہیں جائیں گے۔کرنل منپریت سنگھ، 19 آر آر کے کمانڈنگ آفیسر، میجر آشیش دھونچک، ڈی وائی ایس پی ہمایوں بٹ، سابق ڈی آئی جی کشمیر غلام حسن بٹ بیٹے کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، چْگ نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کی ایک مایوس کن کارروائی ہے جو دہشت گردوں کے دباؤ کی وجہ سے مایوس ہو رہے ہیں۔ سیکورٹی فورسزانہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے جس سے ان کے عزائم کو فیصلہ کن طور پر ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔ ہماری بہادر افواج کے اہلکاروں کی قربانی “ناقابل فراموش” ہے اور قاتلوں کو “بغیر سزا نہیں دی جائے گی”۔چگ نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے پرامن ماحول کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو زخم دینے کے لیے دن رات اپنے مذموم حربے استعمال کر رہا ہے ۔انہوں نے ہلاکتوں کی مذمت کی اور فورسز کے مقتول اہلکاروں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ چغ نے مزید کہا، “میرا دل اس وقت باہر نکل جاتا ہے لیکن یہ دہشت گردی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو تمام جڑوں کے ساتھ ختم کرنے کے ہمارے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔”