سات دہائیوں کے دوران خاندانی سیاست نے عوام کے مفاد کو شدید نقصان پہنچایا 

مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق کسی سیاسی خانوادے سے نہیں ہے: الطاف بخاری

اُڑان نیوز نیٹ ورک

اوڑی// روایتی سیاسی جماعتوں، بالخصوص خاندانی سیاسی جماعتوں کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اپنی پارٹی کے قائد سید محمد الطاف بخاری نے ا?ج کہا ہے کہ ’’اِن سیاسی  جماعتوں اور ان کے لیڈروں نے ہمیشہ دھوکہ دہی پر مبنی سیاسی چالوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا ہے۔‘‘ اْن کا کہنا تھا کہ ’’سیاسی خاندانوں نے ہمیشہ خود کو حکمرانی کے حقدار سمجھا ہے، جبکہ عوام کو یہ اپنی رعایا سمجھتے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر اپنے فخر کا اظہار کیا کہ اْن کا تعلق کسی سیاسی خاندان نے نہیں ہے اور اس لئے وہ کبھی دھوکہ دہی کی سیاست میں مبتلا نہیں رہے ہیں۔یہ باتیں سید محمد الطاف بخاری نے کل شمالی ضلع بارہمولہ کے اْوڑی حلقہ انتخاب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب میں اْوڑی کے متعدد ذی عزت شہریوں اور نوجوان سیاسی کارکنان نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کہا: ‘گذشتہ 74 برسوں کے دوران رائے شماری،سیلف رول، اٹانومی کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا گیا اور ڈیڑھ لاکھ نوجوان چلے گئے’۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی حقیقت ہوتی تو 74 برسوں تک کوئی بھی مسئلہ التوا میں نہیں رہتا ہے۔ بخاری نے کہا کہ دھوکہ دینا آسان ہے اور میں بھی لوگوں کے جذبات اُبھار سکتا ہوں لیکن میں سچ بولتا ہوں۔انہوں نے کہا: ‘ میں سچ بولتا ہوں جس کو کچھ لوگ غداری سے تعبیر کرتے ہیں تو کچھ کسی دوسری چیز سے’۔موصوف نے کہا کہ سچائی اور سیاست کا گہرا تعلق ہے جو لوگ اس کی نفی کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ گھر سے نکل کر سیاست میں آتے ہیں ان کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، سید محمد الطاف بخاری نے بتایا کہ کس طرح سے سیاسی خاندانوں نے اپنی پْرفریب سیاست کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام نے گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں بے حد نقصانات کا سامنا کیا ہے۔ کیونکہ ہمارے لیڈروں نے ہمیں اپنے فریب پر مبنی سیاسی بیانیے میں مصروف رکھا اور ہمیں کبھی سچ نہیں بتایا۔ یہاں تک کہ اپنے زمانے کے سب سے قد آور لیڈر شیخ محمد عبداللہ بھی عوام کو سچ بولنے سے قاصر رہے اور بار بار اپنا موقف بدلتے رہے، حالانکہ وہ خود سچائی کو بخوبی جانتے تھے۔‘‘اپنی اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور اس کا فیصلہ 1947 میں ہوچکا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو ہمیشہ تسلیم کرنا چاہیے تھا اور اس پر قائم بھی رہنا چاہیے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے سیاسی لیڈران ہمیشہ معصوم لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتے رہے اور انہیں جذباتی طور بہلاتے پھسلاتے رہے ہیں۔جلسوں میں کبھی پہاڑی نمک کے ٹکڑے اور کبھی سبز رومال دکھایا جاتی تھی اور یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ یہ چیزوں کو پڑوسی ملک کی علامت ہیں۔‘‘ سید محمد الطاف بخاری نے ہمسایہ ملک کے تئیں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’میں اپنے پڑوسی ملک کا احترام کرتا ہوں اور اس کا خیر خواہ ہوں۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک باوقار اور خوشحال زندگی گزارنے کیلئے جو کچھ  بھی مطلوب ہے، وہ صرف ہمارے اپنے ملک بھارت سے حاصل ہوگا، کہیں اور سے نہیں۔‘‘اس تقریب میں پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران موجود تھے، اْن میں چودھری مشتاق، قاضی محمد شیخ، فضل بیگ، نجیب نقوی، رفیق بلوٹ، فاروق تانترے، جاوید پنڈت، سجاد احمد، محمود بخاری، اشفاق لون، راجہ مقبول، منظور لون، آزاد خان، مختار احمد نذیر احمد چیچی، زاہد احمد، مقصود شیخ، حاجی حنیف، صابر خان، جلال الدین شیخ، سید شرافت، اور دیگر اشخاص شامل تھے، جبکہ پروگرام کا اہتمام جاوید احمد بٹ اور وسیم احمد نے کیا تھا۔آج پارٹی میں شامل ہونے والے نئے شامل ہونے والوں میں غلام قادر بٹ، ظفر بٹ، نصیر احمد بٹ، فاروق احمد بٹ، جامد، ناصر رشید بٹ، ثنا اللہ تانترے، جلال الدین، جاوید احمد بٹ، اعجاز احمد بڈو اور دیگر افراد شامل ہیں۔