یکساں سیول کوڈ ملک میں مزید تنائو پھیلے گا: غلام نبی آزاد

اُڑان نیوز
سرینگر//کانگریس کے سابق لیڈر اور ایکس سی ایم جموں کشمیر پروگریسو ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو یو سی سی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے، کیونکہ اس سے تمام مذاہب کے لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ یونیفارم سول کوڈ کو لے کر ملک میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ لا کمیشن نے اس معاملے پر ملک کے لوگوں اور مذہبی تنظیموں سے رائے طلب کی ہے۔ دریں اثنا، اسی عنوان سے ایک خوش گوار ماحول میں ایک نشست سابق وزیر اعلیٰ اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد کی میزبانی میں رکھی گئی تھی ۔صدر آف آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ و چیئر مین انجمن انقلاب مہدی لداخ حجت الاسلام و المسلمین آغا سید محمد روح اللہ موسوی اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے یکساں سول کوڈ پر ردعمل ظاہر کیا حجت الاسلام والمسلمین سید محمد روح اللہ نے اس موضوع پر غلام نبی آزاد کے موقف کو سراہا دونوں نے اس بات توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو یو سی سی کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے، کیونکہ اس سے تمام مذاہب کے لوگ ناراض ہو جائیں گے۔اس سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ سکھ، عیسائی، آدیواسی، پارسی، جین وغیرہ بھی متاثر ہوں گے بیک وقت اتنے مذاہب کو ناراض کرنا کسی بھی حکومت کے لیے اچھا نہیں ہوگا اور اس حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ ایسا قدم اٹھانے کے بارے میں کبھی نہ سوچے۔ خیال رہے کہ یو سی سی پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان کے بعد پورے ملک میں اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے جمعرات کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، این سی پی کے سربراہ شرد پوار اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے اس معاملے پر بات چیت کی۔ اس کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ کانگریس نے یقین دلایا ہے کہ جب یو سی سی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے آئے گا تو پارٹی ان کے تحفظات کا نوٹس لے گی۔