ملی ٹینٹ سازش کیس ,شوپیاں اور پلوامہ میں چھاپہ ماری این آئی اے ٹیم نے ڈیجیٹل مواد ضبط کیا

یو این آئی
سرینگر//قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ملی ٹینٹ سازش کیس کی تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے جمعرات کے روز پاکستان کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیموں سے وابستہ ہائبرڈ ملی ٹینٹوں، بالائی ورکروں اور سہولیت کاروں کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کے دوران ڈیجیٹل اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا ہے۔این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جمعرات کے روز تفتیشی ایجنسی نے شوپیاں، اونتی پورہ اور پلوامہ میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے۔انہوں نے کہاکہ تحقیقاتی ایجنسی نے نئی تشکیل شدہ ملی ٹینٹ تنظیموں جن میں ٹی آر ایف، یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ جموں وکشمیر، مجاہدین غزو تہ الہند ، جموں وکشمیر فریڈم فائٹرس، کشمیر ٹائیگرس ، پی اے اے ایف وغیرہ شامل ہیں سے وابستہ ہائبرڈ ملی ٹینٹوں سہولیت کاروں اور مد د گاروں کے گھروں پر چھاپے ڈالے۔یہ ذیلی تنظیمیں لشکر طیبہ ، جیش، حزب المجاہدین، البدر ، القاعدہ وغیرہ جیسی کالعدم پاکستانی حمایت یافتہ جماعتوں سے وابستہ ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران ڈیجیٹل مواد کو برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران این آئی اے نے بڑی مقدار میں مجرمانہ ڈیٹا پر مشتمل کئی ڈیجیٹل آلات برآمد کئے، جس سے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہے۔این آئی اے نے ملی ٹینٹ سازش کیس 21جون 2022کو درج کیا تھا اور اس کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے جموں و کشمیر میں سٹکی بم، آئی ای ڈیز اور چھوٹے ہتھیاروں وغیرہ سے پرتشدد دہشت گردانہ حملے کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعے سازشیں رچانا بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیمیں جموں وکشمیر امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کی خاطر مقامی نوجوانوں کو بنیاد پرستی کی اور راغب کرنے اور بالائی ورکروں کو متحرک کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران منکشف ہوا ہے کہ اس سازش کے پیچھے پاکستان میں مقیم لوگ دہشت پھیلانے اور تخریبی سرگرمیوں کو انجام دینے کی خاطر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں، وہ وادی کشمیر میں اپنے ایجنٹوں اور کارکنوں کو اسلحہ وگولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، منشیات وغیرہ پہنچانے کی خاطر ڈرون کا بھی استعمال کر رہے تھے۔ان کے مطابق دہشت گرد سازش کیس کا تعلق ممنوع تنظیموں کی طرف سے جسمانی اور سوشل میڈیا کے ذریعے جموں وکشمیر میں سٹکی بموں ، آئی ای ڈیز اور چھوٹے ہتھیاروں سے پر تشدد دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے کی منصوبہ بندی سے ہے۔