جموں و کشمیر میں آج بھی 1931جیسا شخصی راج نافذ 13جولائی کو صرف مذہبی ترازو میں تولنا افسوس کن

نیوزڈیسک
سرینگر // جس شخصی راج کیخلاف 1931میں شہدائے کشمیر نے اپنی جانیں نچھار کیں ویسا ہی شخصی راج آج بھی جموں و کشمیر میں دیکھنے کو مل رہاہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہمیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دن بُرے تھے یا موجودہ دور سخت ہے لیکن اتنا وثوق کیساتھ ہوں کہ تب بھی شخصی راج تھا اور آج بھی شخصی راج کا نظام ہے یہ بھی ضرور کہوں گا کہ وہ نظام بھی نہیں رہا اور انشاللہ موجودہ نظام بھی نہیں رہے گا، طاقت دوبارہ لوگوں کے ہاتھوں میں لو ٹ آئے گی اور اس کیلئے ہم اپنی لڑائی لڑتے رہیں گے کیونکہ ہم اصولوں کی لڑائی لڑتے ہیں، ہم دھوکہ نہیں دیتے ہیں، ہم وہی وعدے کرتے ہیں جو ہم حاصل کرسکتے ہیں۔پارٹی ہیڈکوارٹر پر یومِ شہداء کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے موجودہ حکمران سپریم کورٹ میں جب اپنا مؤقف رکھتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے، چاروں طرف امن و امان اور خوشحالی ہے کوئی ناراض نہیں، کسی پر پابندی نہیں، لوگ جمہوریت کا مزہ لے رہے ہیں، جیسے اچھے حالات آج جموںوکشمیرمیں ہیں ویسے ماضی میں کبھی نہیں تھے لیکن جب ہم عمل طور پر دیکھتے ہیں کہ زمینی سطح پر کیا ہو رہاہے تو یہ تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوجاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے سوال کیاکہ اگر یہاں حالات ٹھیک ہیں اور کسی پر پابندی نہیں تو آج کے دن پر ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ہم تو ماضی کی طرح مزارِ شہداء پر جاکر فاتحہ خوانی اور خراج عقیدت پیش کرکے پُرامن طور پر واپس آنا چاہتے تھے، ہمیں وہاں نہ کوئی احتجاج کرنا تھا اور نہ کسی کیخلاف کوئی تقریر کرنی تھی۔ لیکن یہ لوگ اتنے ہلے ہوئے ہیں کہ آج ہمیں گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ‘‘ این سی نائب صدر نے کہا کہ باقی ملک میں جن لوگوں نے شخصی راج یا انگریزوں کیخلاف قربانی دی اُن کو آج بھی بڑے بڑے ایوانوںمیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے جن لوگوں ویسی ہی تحریک چلائی اور قربانی پیش کی اُن کی اہمیت کو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔1931کے شہدائے کشمیر نے بھی شخصی راج کیخلاف اور اپنے عوام کیلئے انصاف و آزادی حاصل کرنے کیلئے قربانیاں دیں۔13جولائی ہمارا قومی دن تھا، اس دن یہاں ریاستی سطح پر تقریات ہوتی تھیں اور یہاں چھٹی ہوا کرتی تھی۔ ان لوگوں نے یہاں سرکاری تقریبات بھی ختم کردی اور چھٹی کو بھی منسوخ کردیا ہے۔ لیکن حسد اور بغض کی نشاندہی اُس وقت ہوتی ہے جب ہم جیسے لوگوں کو مزارِ شہداء پر جانے سے روکا جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے کیا جاتا ہے کہ موجودہ حکمران سارے فیصلے مذہب کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’حقیقت یہ ہے کہ 1931میںجو شہید ہوئے وہ مسلمان تھے اور جس کیخلاف تحریک چل رہی تھی وہ غیر مسلم تھا، اسی لئے ان کو یہ ہضم نہیں ہوتا۔اگر 1931میں شخصی راج کرنے والا مسلمان ہوتا اور شہادت دینے والے غیر مسلم ہوتے تو آج صبح سویرے ہی لیفٹیننٹ گورنر صاحب اُن کی تصویروں پر پھول چڑھارہے ہوتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کو اصولوں کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں، ان کو سوچ کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں، ان کو اس بات کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں کہ یہ لڑائی کسی ایک سوچ یا مذہب کیخلاف نہیں تھی بلکہ اُس نظام کیخلاف تھی جس میں لوگ بلا لحاظ ظلم کی چکی تلے پس رہے تھے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ آج ہمارے اس قومی دن کو صرف اور صرف مذہب ترازو میں تولتے ہیں، اسی لئے ہمیں پھول چڑھانے اور فاتحہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مذہب کا بھید بہائو نہیں لیکن ہم تو ان کو بھید بھائو ثابت کر کے دکھاتے ہیں، اگر آپ کے پاس میری اس بات کا جواب ہے تو دیجئے،اگر میں غلط ہوں تو مجھے ثابت کر کے دکھائے۔یہ بھید بھائو مجھے محسوس ہوتا ہے جس نے کبھی مذہب کے نام پر سیاست نہیں کی اور میں اس بات کا اندازہ بھی بخوبی لگ سکتا ہوں کہ عام لوگوں کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ رہی بات اپنے حقوق کی تو ہم جموںوکشمیر کے عوام کے حقوق کی لڑائی میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریںگے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت شروع ہوگئی ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہمارا کیس مضبوط اور دم دار ہے اور انشاء اللہ ہم بڑھ چڑھ کر کیس لڑیں گے اور کامیابی حاصل کریں گے اور یہاں کے عوام کو انصاف دلانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ جب ہمارے حکمران باہر جاتے ہیں تو دنیا بھر میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن جب جموں وکشمیر میں جمہوریت کو زندہ کرنے کی بات آتی ہے تو یہ کام ان سے نہیں ہوتا ہے۔ اگر یہاں سب کچھ ٹھیک ہے اور پورے ملک میں جمہوریت کا بول بھالا ہے تو پھر جموںو کشمیر میں گذشتہ5برسوں سے گورنر راج کیوں نافذ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھاجپا کے پاس لوگوں کے سامنے جانے کی ہمت نہیں۔ اگر آج کی تاریخ میں جموں وکشمیر میں انتخابات ہونگے تو بھاجپا10سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کرے گی۔