منوج سنہا کاننون بیس کیمپ دورہ یاتریوں کے لئے انتظامات کا جائزہ لیا

نیوزڈیسک
پہلگام//جموں وکشمیر کے لیفٹینںٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز پہلگام میں واقع ننون بیس کیمپ پر یاتریوں کے لئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو یاترا کے لئے بہتریہن انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔موصوف لیفٹیننٹ گورنرنے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘ننون بیس کیمپ پر یاتریوں کے لئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا’۔انہوں نے کہا: ‘لاجسٹکس، قیام، صحت اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ یاترا کے لئے بہترین انتطامات کریں’۔قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر کے ہمالیہ پہاڑوں میں 3 ہزار 8 سو 80 میٹر کی بلندیوں پر واقع شری امر ناتھ مندر کی سالانہ یاترا یکم جولائی سے شروع ہوگی جو 31 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔جموں وکشمیر انتظامیہ یاترا کے لئے تمام تر انتطامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔یاتریوں کے لئے جہاں سیکورٹی کا فقید المثال بندو بست کیا جا رہا ہے وہیں انہیں تمام تر سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔شری امرناتھ شرائن بورڈ (ایس اے ایس بی) نے امسال یاترا کے دوران قائم کئے جانے ولے لنگروں پر جنک فوڈ اور دوسرے غیر صحت بخش کھانے پینے کی چیزوں پر پابندی عائد کر دی ہیگذشتہ ماہ قبل جی بی آر لیفٹیننٹ جنرل راجیو چودری نے بالتل اور چندن واڑی کا دورہ کرکے دونوں یاترا راستوں کا معائنہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سال گذشتہ 3 لاکھ 65 ہزار یاتریوں نے شری امرناتھ مندر کی یاترا کی جن میں سے 45 فیصد یاتریوں نے بالتل کے راستے سے جبکہ 55 فیصد پہلگام کے راستے سے یاترا کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال 5 لاکھ یاتریوں کے آنے کی توقع ہے۔بی آر او حکام کا کہنا ہے کہ پہلگام کی طرف یاترا راستوں کو 15 جون سے قبل ہی مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں وکشمیر نے تمام متعلقہ افسروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ یاترا کے دوران ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی چھٹیوں کی درخواستوں کو منظور کریں نہ آگے بڑھائیں۔