نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی خصوصیات

نئی دہلی//نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے لوک سبھا چیمبر میں اتوار کے روز تاریخی سینگول نصب کیا گیا، جو وراثت کو جدیدیت سے جوڑنے کی علامت ہے۔نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر صرف ڈھائی سال میں مکمل ہوئی ہے۔ اس کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نریندر مودی نے 10 دسمبر 2020 کو رکھا تھا۔پارلیمنٹ کی نئی عمارت 20,000 کروڑ روپے کی لاگت والی سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا حصہ ہے۔اس کے لوک سبھا ہال میں 1280 افراد کے بیٹھنے کا بندوبست ہے۔نئی عمارت کے لوک سبھا چیمبر میں 888 ممبران اور راجیہ سبھا کے چیمبر میں 300 ممبران آرام سے بیٹھ سکتے ہیں۔ ہر سیٹ پر دو ممبران کے بیٹھنے کا انتظام ہوگا اور ڈیسک پر ان کے لیے ٹچ اسکرین گیجٹس ہوں گے۔ڈائمنڈ کی شکل کی نئی عمارت کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں لائبریری کی عمارت سمیت تین عمارتیں ہوگئی ہیں۔کل 64500 مربع میٹر میں بنائے گئے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے تین اہم دروازے ہیں – گیان دوار، شکتی دوار اور کرما دوار۔ وی وی آئی پیز، ایم پیز اور ناظرین کو مختلف دروازوں سے داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔اسے ٹاٹا انڈسٹریز گروپ کی کمپنی ٹاٹا پروجیکٹس لمیٹڈ نے بنایا ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا ہال ہے، جس میں ہندوستان کے جمہوری وراثت کی ایک جھانکی پیش کی گئی ہے۔ اس میں ممبران پارلیمنٹ کے لئے لاؤنج، لائبریری، کئی کمیٹی رومز، کھانے پینے کی جگہ اور پارکنگ کی جگہ بنی ہے۔نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر میں 60 ہزار مزدوروں نے کام کیا ہے۔ یہ جدید الیکٹرانک آلات سے لیس ہے جس سے پارلیمانی کام میں آسانی ہوگی۔پارلیمنٹ ہاؤس میں استعمال ہونے والا مٹیریئل ملک کے مختلف حصوں سے لایا گیا ہے۔ لکڑی مہاراشٹر کے ناگپور سے ، سرخ اور سفید سنگ مرمر راجستھان سے آئے ہیں۔ اس میں ادے پور سے لائے گئے گرین پتھر بھی ہیں۔ لال گرینائٹ اجمیر کے لاکھا کی ہے۔ کچھ سفید سنگ مرمر راجستھان میں ہی امباجی سے لائے گئے ہیں۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ایوانوں کی اونچی دیواریں اور ایوان کے باہر نصب بہت بڑے اشوک چکر اندور سے منگوائے گئے ہیں۔ اشوکا ستون کی تعمیر میں استعمال ہونے والا سامان اورنگ آباد اور جے پور سے لایا گیا تھا۔اس میں استعمال ہونے والی ریت اور فلائیش ہریانہ میں چرخی دادری اور اُتر پردیش سے لائی گئی ہے۔نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں توانائی کی بچت اور پانی کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔