نئے پارلیمنٹ ہائوس کا فرش کشمیری قالینوں سے آراستہ و پیراستہ

یو این آئی
سرینگر//ملک کے نئے پارلیمنٹ ہائوس کا فرش کشمیر کے دستکاروں کے ہاتھوں سے بْنے ہوئے سلک آن سلک قالینوں سے آراستہ و پیراستہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو دہلی میں نئے پارلیمنٹ ہائوس کا افتتاح کیا۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے کھاگ گائوں سے تعلق رکھنے والے 50 دستکاریوں نے نئے پارلیمنٹ ہائوس کے لئے یہ قالین تیار کئے ہیں۔طاہری کارپٹس کے مالک قمر علی خان جس کو دہلی کی ایک کمپنی سے یہ آرڈر ستمبر 2021 میں نمونے پیش کرنے کے بعد ملا تھا، بہت ہی خوش نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے یو این آئی کو بتایا: ‘یہ ہمارے لئے فخر کا لمحہ ہے خاص طور پر ان دستکاروں کے لئے جنہوں نے رات دن کام کرکے ان قالینوں کو تیار کیا جن سے نئے پارلیمنٹ ہائوس کا فرش آراستہ و پیراستہ ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ملک کے سب سے بڑے آئینی ادارے کا فرش ہمارے دستکاروں کے ہاتھوں سے تیار کئے گئے قالینوں سے سجا ہوا ہے اس سے بڑھ کر عزت افزائی کی کیا بات ہوسکتی ہے’۔موصوف نے کہا کہ 50 دستکاروں جن میں خواتین دستکار بھی شامل تھیں، نے دن رات کام کرکے ان قالینوں کو ڈیڈ لائن سے قبل ہی تیار کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دستکاروں نے کشمیر کے روایتی طریقے سے ان قالینوں کو تیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس طرح ہمارے قالین ملک کے قد آور لیڈروں کی نظروں میں بھی آئیں گے جس سے اس فن کو دوام مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں قالین بافی کا فن زوال پذیر ہے جو کسی زمانے میں یہاں کی ایک بہت بڑی صنعت مانی جاتی تھی۔قمر علی خان کا کہنا ہے کہ ہماری آرزو ہے کہ کشمیر کے قالین نہ صرف ملک بلکہ دنیا کے بڑے بڑے سرکاری اداروں کے فرش پر بچھ جائیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی کئی دستکاریاں جن میں قالین بافی بھی شامل ہے، گذشتہ کئی برسوں سے رو بہ زوال ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘مجھے امید ہے کہ ملک کے پارلیمنٹ ہائوس کے فرش پر بچھ جانے کے بعد قالین کی صنعت کو ضرور استحکام ملے گا’۔طاہری کارپیٹس کے مالک نے کہا کہ سلک آن سلک قالینوں کی مانگ نہ ہونے کے برابر تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کئی برسوں بعد سلک آن سلک قالین تیار کئے کیونکہ یہ کمپنی کا ہی مطالبہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قالینوں کو نئے پارلیمنٹ ہائوس کے ڈیزائن کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے۔قمر علی نے کہا کہ یہ قالین تیار کرنے میں ہمارے دستکاروں کو کسی بھی مشکل سامنا نہیں کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ دستکاروں کی محنت شاقہ کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم یہ قالین وقت مقررہ سے قبل ہی تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کشمیر کی جملہ کارپٹ انڈسٹری کے لئے خوشی اور فخر کی بات ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے آرڈر ملتے رہیں گے۔تاہم قمر علی خان نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ نئے پارلیمنٹ ہائوس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ان کاریگروں کو بھی مدعو کیا جانا چاہئے تھا جنہوں نے یہ قالین تیار کئے ہیں۔