مودی سرکار کے 9 سال مکمل

یہ ناکامی اور بدحالی کے 9 برس ہیں: کانگریس
نیوزڈیسک
نئی دہلی//کانگریس نے مودی حکومت کے 9 سال مکمل ہونے پر لکھا، کوئی آواز اٹھائے اسے دبا دو، کچل دو، ،جیل میں ڈال دو، بلڈوزر چلا دو، ای ڈی، سی بی آئی کا ڈر دکھاو، اس حکومت نے یہی سب کیا ہے۔ مودی حکومت نے آج مرکز میں اپنے اقتدار کے 9 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر حکومت بڑی شدت سے اپنی کامیابیاں شمار کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ 9 سالوں میں حکومت نے کیسے بڑے فیصلے لیے اور عوام کے لیے کیا کیا۔ دوسری طرف اپوزیشن کانگریس کی جانب سے اسے ناکامی کے 9 سال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ٹوئٹ کیا گیا ہے جس میں مودی حکومت کے 9 سال کا ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس نے بے روزگاری سے لے کر مہنگائی اور دیگر مسائل پر حکومت کو گھیرتے ہوئے اور کہا ہے کہ مصائب کے 9 سال مکمل ہو چکے ہیں۔کانگریس کے ٹوئٹ میں لکھا گیا ’’آج مودی حکومت نے 9 سال مکمل کر لیے ہیں، یہ ‘ناکامی کے 9 سال’ ہیں۔ 9 سال ملک کی بدحالی ہے، ان 9 سالوں میں عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بے روزگاری اور آمرانہ فیصلوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جملوں کے بل بوتے پر برسراقتدار آنے والی مودی سرکار نے اپنا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ بس تاریخ کے بعد تاریخ دیتے رہے۔ مثلاً 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ۔ 2022 تک سب کو گھر فراہم کرنے کا وعدہ، کالا دھن واپس لا کر 15 لاکھ دینے کا وعدہ، ہر سال 2 کروڑ نوکریوں کا وعدہ، یہ صرف بانگی بھر ہے، ان کے جملے گننے بیٹھ گئے تو کئی دن گزر جائیں گے۔کانگریس نے کہا، پی ایم مودی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، الٹا انہوں نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے ملک کو مشکل میں ڈال دیا۔ نوٹ بندی نے معیشت کو تباہ کر دیا اور وہ خوفناک منظر کون بھول سکتا ہے جب لوگ بینکوں کی لائنوں میں مر گئے۔ گبر سنگھ ٹیکس (جی ایس ٹی) سے تاجر تباہ ہو گئے۔ آئے دن اس پر احتجاج ہوتا ہے لیکن سننے والا مور کو دانہ دینے میں مصروف ہو تو لوگ کیا کر سکتے ہیں۔ اگنی ویر کے فیصلے نے نوجوانوں کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ جب انہوں نے احتجاج کیا تو انہیں دھمکی دی گئی کہ اس کا مستقبل تباہ کر دیا جائے گا۔ مودی سرکار عوام کو ڈرا کر، طاقت خرید کر، دوستوں کو سب کچھ بیچ کر مزے کرنے کے فارمولے پر چل رہی ہے۔مودی حکومت کے 9 سال مکمل ہونے پر کانگریس نے لکھا، جو بھی آواز اٹھی اسے دباو، کچل دو، جیل میں ڈال دو، بلڈوزر چلا دو، ای ڈی، سی بی آئی کا خوف دکھاو?۔ حکومت نہ بنے تو پیسے کے بل بوتے پر اقتدار خریدو اور جمہوریت کا قتل کرو، ملک کی بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بڑے بڑے منصوبے ‘متر’ کو بیچ دو اور آرام سے ‘متر کال’ میں مہنگا مشروم کھاتے رہو، فوٹو کھنچواتے رہو۔ اس حکومت میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ پروپیگنڈا صبح سے شام تک جاری رہتا ہے۔ ’مہامانو‘ کی فرضی شبیہ گڑھی جاتی ہے اور آخر میں وہ مہامانو ‘لال شرٹ’ پہن کر چین کو مائل کرتے نظر آتے ہیں۔چین کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا، یاد ہی ہوگا کہ چین کو سرخ آنکھیں دکھانے کی بات ہو رہی تھی۔ بالآخر معاملہ لال شرٹ تک جا پہنچا۔ آج چین ہمیں ہماری زمین پر گشت کرنے سے روک رہا ہے۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے اس کے لیے جام شہادت نوش بھی کیا اور آخر کار اس مہامانو نے لال شرٹ پہن کر چین کو مائل کرنا شروع کر دیا، یہ ان کی بزدلی ہے۔کانگریس نے مزید کہا ’’ان کی ناکامی کی بہت سی باتیں ہیں۔ اتنی کہ کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن پھر بھی بہت سی چیزیں رہ جائیں گی۔ یہ ‘ناکامی کے 9 سال’ ہیں۔ اب لوگ ان سے اکتا چکے ہیں۔ کرناٹک کا الیکشن اس کا ثبوت ہے، جہاں عوام نے براہ راست پی ایم مودی اور ان کی بدعنوان حکومت کو مسترد کر دیا۔ بے اطمینانی کی یہ لہر جنوب سے شروع ہوئی ہے جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ عوام انتظار کر رہی ہے اور کرارا جواب دیں گے۔‘‘