قبائلی طلباء کو وظائف کی تقسیم شروع

بذریعہ ڈی بی ٹی موڈکل رقم 45کروڑ روپے کھاتوں میںجمع کئے جائیں گے
نیوزڈیسک
جموں//جموںوکشمیر کے قبائلی اَمور محکمہ نے مختلف سکالر شپ سکیموں کے تحت قبائلی طلباء کو وظائف کی تقسیم شروع کی ہے۔نیشنل سکالر شپ پورٹل پر عمل کی منتقلی اور پی ایف ایم ایس سے اس کے اِنضمام کی وجہ سے پورے عمل کو شفاف اور صارف دوست بنایا گیا ہے۔پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک سکالر شپ سکیموں کے تحت اِستفادہ کنند گان کے بینک اکائونٹ میں بذریعہ ڈی بی ٹی موڈکل رقم 45کروڑ روپے جمع کئے جائیں گے ۔ اِس اقدام کا مقصد جموںوکشمیر میں مقیم قبائلی آباد ی کی فلاح و بہبود ہے۔سیکرٹری قبائلی اَمور محکمہ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے کہا ہے کہ قبائلی طلباء کی تعلیم جموں وکشمیر کی اوّلین ترجیح ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اَ ب تک کے سب سے زیادہ سکالر شپ کی تقسیم کی ہدایت دی ہے جس کی رقم 45کروڑ روپے ہے۔ پوسٹ گریجویٹ سطح ، گریجویٹ سطح ، پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک سطحوں پر کورسز کرنے والے قبائلی طلباء کی تعلیمی ضروریات کو پوری کرے گا۔جموں وکشمیر کے قبائلی اَمور محکمہ نے پبلک فائنانشل مینجمنٹ سسٹم ( پی ایف ایم ایس ) متعارف کروا کر اور این ایس پی پورٹل کے ساتھ اِس کے اِنضمام سے سکالر شپ کی تقسیم کے پورے عمل میں اِصلاحات پر کا م کیا ہے۔محکمہ نے خانہ بدوش کنبوں کے سیزنل تعلیمی مراکز کے 32,000 سے زیادہ طلباء کو خصوصی وظائف کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کی ہے تاکہ ان کی حوصلہ اَفزائی کی جاسکے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے اِس اہم اقدام میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔