طوفانی آندھی اور شدید ژالہ باری کی قہر سامانیاں

کشتواڑ میں 2خواتین سمیت 4افراد لقمہ اجل
کشمیر میںایک درجن مکانوں کو نقصان،جھیل ڈل میں پھنسے درجن سیاحوں کو بچایا گیا
یو این آئی+ذوالفقارعلی
سرینگر+کشتواڑ//وادی کشمیر میں جمعرات کی سہ پہر کو طوفانی ہوائیں چلنے اور شدید ژالہ باری سے ایک درجن کے قریب مکانوں اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم مکین معجزاتی طورپر بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔جموں وکشمیر کے ضلع کشتواڑ کے کیشوان جنگلاتی علاقے میں دوران شب ایک عارضی خیمے پر بھاری بھرکم درخت گر آنے سے ایک خانہ بدوش خاندان کے چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کشتواڑ کے کیشوان جنگلاتی علاقے میں دوران شب بھاری بارشوں اور تیز ہوائوں کے نتیجے میں ایک بھاری بھر کم درخت عارضی خمیے پر گر آنے سے ایک خانہ بدوش خاندان کے 4 افراد کی موت واقع ہوئی۔یہ علاقہ قصبہ کشتواڑ سے قریب پچاس کلو میٹر دور ہے اور یہ خانہ بدوش خاندان اپنے مال مویشیوں کے ساتھ دچھن کی طرف بڑھ رہا تھا۔متوفین جن میں 3 خواتین شامل ہیں، کی شناخت 55 سالہ نذیر احمد اس کی اہلیہ 42 سالہ انور بیگم، 26 سالہ شمع بیگم اہلیہ شوکت احمد اور 17 سالہ شکیل بانو کے بطور ہوئی ہے جو سب ضلع کٹھوعہ کے رہائشی ہیں۔پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے کارروائیاں شروع کی ہیں۔دریں اثنا ایل جی منوج سنہا نے قیمتی جانوں کے ضائع ہونے پر رنج وغم کا اظہار کیا ۔ انہوں نے متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ ادھر یموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے چیئرمین غلام نبی آزاد نے جمعرات کو کشتواڑ کے بالنا علاقے میں ایک خیمے پر درخت گرنے سے بکروال خاندان کے چار افراد کی جانوں کے زیاںپر افسوس کا اظہار کیا۔ایک بیان میں آزاد نے فوری طور پر بچاو آپریشن شروع کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی کوششوں کی تعریف کی اور پارٹی کے سینئر رہنماو ¿ں کو بچا? کارروائی کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔آزاد کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعدڈی پی اے پی کے وائس چیئرمین جی ایم سروری نے ذاتی طور پر صورتحال کی نگرانی کی اور ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی۔آزاد نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ سوگوار خاندانوں کو ہر ممکن مدد اور معاوضہ فراہم کرے۔کشتواڑ ضلع کے بالنا جنگلات میںگذشتہ شب کے دوران ایک درخت عارضی خیمے پر گرنے سے ایک بکروال خاندان کے چار افراد ہلاک ہو گئے۔آزاد نے جمعرات کو کٹھوعہ ضلع کے لکھن پور علاقے میں بس حادثے میں زخمی ہونے والے 11 مسافروں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔ اس دوران شہرہ آفاق جھیل ڈل میں کشتیوں میں پھنسے ہوئے ایک درجن کے قریب سیاحوں کو ایس ڈی آر ایف اور ریور پولیس نے محفوظ جگہ منتقل کیا۔یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ جمعرا ت کی سہ پہر کو وادی کے شمال و جنوب میں موسم نے کروٹ لی جس کے ساتھ ہی طوفانی آندھی کے ساتھ ساتھ شدیدژالہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔شمالی ضلع بارہ مولہ کے کھامو ، رفیع آباد، واگورہ ، کریری اور لڈورا، پتو کھاہ ، وتر گام پٹن اور سوپور میں قہر انگیز ژالہ باری نے کھیت کھلیانوں اور باغات کو نقصان سے دوچار کیا۔نامہ نگار نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں ژالہ باری اس قدر شدید تھی کہ لوگ چھتوں پر کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کپواڑہ کے ہائی ہامہ ، گتلی پورہ ، کرالہ پورہ ، ترہگام، سوگام ، درگمولہ اور سلہ کوٹ میں بھی شدید ڑالہ باری سے سیب کے باغات کو نقصان پہنچا۔ایک معمر شہری نے یو این آئی اردوکو بتایا کہ اپنی پوری زندگی میں ایسی ژالہ باری نہیں دیکھی۔ان کے مطابق ایک اولے کا وزن ایک سو سے ڈیڑھ سو گرام تھا جس وجہ سے گاڑیوں کے شیشے بھی چکنا چور ہوئے۔جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سہ پہر کے بعد ترال کے مختلف علاقوں میں طوفانی ہوائیں چلنے سے ایک درجن کے قریب رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا۔انہوں نے بتایا کہ پنگلش ترال میں محمد اقبال شیخ کے مکان کو نقصان پہنچا، شاجن میں غلام محمد اور گامراج ترال میں کلونت سنگھ کے مکان پر بھاری برکم درخت گر آیا جس وجہ سے مکان کو نقصان پہنچا تاہم مکین معجزاتی طورپر بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔دیور ترال میں بیکری کارخانے پر چار کی شاخ گرنے کی وجہ سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ترال کے متعدد علاقوں میں رہائشی مکانوں کی چھتیں اڑنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ طوفانی آندھی چلنے کی وجہ سے ترال میں بجلی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور وسیع آبادی گھپ اندھیرے میں ڈوب گئی ہے۔دریں اثنا سری نگر کے شہر آفاق جھیل ڈل میں اس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے کئی کشتیاں ڈل کے بیچ و بیچ پھنس کر رہ گئیں۔نامہ نگار نے بتایا کہ ایس ڈی آر ایف اور ریور پولیس نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر کم از کم ایک درجن سیاحوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا۔سری نگر کے مضافاتی علاقوں میں بھی کئی درخت گر آئے ہیں۔وسطی ضلع بڈگام سے بھی نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ تیز ہوائیں چلنے سے متعدد درخت اکھڑ گئے ہیں۔