ملی ٹینسی سازش کیس

جیش محمد کا کارکن گرفتار: این آئی اے
یو این آئی
کپواڑہ //قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اتوار کے روز جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی سازش کیس کے سلسلے میں جیش محمد سے وابستہ شمالی ضلع کپوارہ کے ایک کارکن کو گرفتار کیا ہے۔این آئی اے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ گرفتاری این آئی اے کے سر حد پارواقع کالعدم جنگجو تنظیموں کی طرف سے رچائی جا رہی سازشوں کے ایک حصے کے بطور ہوئی ہے جو جموں وکشمیر میں ملی ٹنٹ حملے کرکے بھارت کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔بیان میں گرفتار شدہ ملزم کی شناخت محمد عبید ملک ساکن کپوارہ کے بطور ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار شدہ ملزم جیش محمد کے پاکستان نشین کمانڈر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔این آئی اے ترجمان نے بتایا: ‘تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم خفیہ معلومات، خاص کر فوج اور سیکورٹی فورسز کی نقل و حمل کے متعلق، پاکستان میں مقیم کمانڈر کو فراہم کرتا تھا’۔بیان میں کہا گیا: ‘این آئی اے نے ملزم کی تحویل سے مختلف قابل اعتراض دستاویزات بر آمد کئے جو جموں وکشمیرمیں ملی ٹنٹ سرگرمیوں کو بڑھا وا دینے میں اس کے ملوث ہونے کو ظاہر کرتے ہیں’۔
بیان کے مطابق یہ کیس این آئی اے نے 21 جون 2022 کو از خود درج کیا تھا۔این آئی اے ترجمان نے بیان میں کہا: ‘اس کیس کا تعلق مختلف کالعدم جنگجو تنظیموں کے کیڈرز اور جنگجو معاونین کی جانب سے پاکستان میں مقیم اپنے کمانڈروں کے ساتھ مل کر رچی جانے والی سازشوں کے ساتھ ہے’۔انہوں نے کہا: ‘اس میں منشیات، نقدی رقم، ہتھیاروں، آئی ای ڈیز کی بھاری کھیپ بشمول رموٹ کنٹرول سے چلنے والے سٹکی بم، کو جمع کرنا اور تقسیم کرنا شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آئی ای ڈیز اور دھماکہ خیز مواد کو اکثر ڈرون کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور اس کو جموں وکشمیر میں ملی ٹنٹ حملے انجام دینے کے لئے مقامی طور پر جمع کیا جاتا ہے۔این آئی اے ترجمان نے بیان میں بتایا کہ ان حملوں میں خاص طور پر اقلیتی فرقوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔بیا
ن میں کہا گیا: ‘امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے، جنگجویانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے اور حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بڑے مقصد کے لئے انکرپیٹڈ سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر جسمانی طور پر اور سائیبر سپیس میں سازشیں رچی جا رہی ہیں’۔بیان کے مطابق اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔