ڈول ہستی پرجیکٹ کے لئے فراہم کردہ زمین ما لکان پریشان ،تعلیم یافتہ نوجوان روزگار سے محروم ،انتظامیہ توجہ دے

ذوالفقار علی
ضلع کشتواڑ کا رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ریاست جموں کشمیر کے اکثراضلاع سے بڑا ضلع ہے ۔قدرتی حُسن آب و ہوا نیزمعدنی ذخائیرسے مالامال یہ علاقہ سیاسی لحاظ سے استحصال کا شکار رہا ہے سال 1947ء میں ضلع کا مطالبہ کر نے والوں کے جلوس پر انتظامیہ سرکار نے گولی چلائی۔کالج کا مطالبہ کر نے والے نوجواں پر گو لیا ں بر سائی گئیں، مزدور وں کو اپنی مزوری مانگنے پر سزاوار ٹھہرایا گیا، یہاں کی عوام پر ظلم نہ صرف سابق ریاستی سرکار کی طرف سے ہوا بلکہ مرکزی سرکار کا سلوک بھی اس سے مختلف نہیں رہا ہے۔
آج سے 30 سال قبل جن زمینداروں کی زمین (N.H.P.C)نے ڈول ہستی پر اجیکٹ کی تعمیر کیلئے اس وعدے کی بیناد پر لی تھی کہ ان متاثرہ زمیندار گھرانوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی مذکورہ کار پوریشن میں روزگار دیا جا ئیگا کیوں کہ ان زمین داروں کا اسی فیصد روزگار ان ہی زمینوں پر تھا اس کے ساتھ ہی اس علاقے میں بجلی ،پانی،اور سڑکوں کی سہولیات نیز طبی سہولتوں کا بھی وعدہ کیا گیا تھا جس کیلئے آج یہ پڑھے لکھے زمینداروں کے بچے زمیندارفورم کی شکل میں جدو جہدکر رہے ہیں حالانکہ بیرون ریاست ہماچل میں کا رپویشن نے اُس زمیندارکو مستقل روزگار فرہم کیا جس کی زمین 50فی صدی سے زائید کا رپوریشن نے لی، اس کے ساتھ جس ایریا میں پروجیکٹ بنتاہے اُس علاقے کو ماڈل ٹاون یعنی سڑکیں بجلی،سکول اور ہسپتال کی سہولیات وہاں کے باشندوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ لیکن یہاں پر المیہ یہ ہے کہ جو نئی سڑکیں پروجیکٹ کی تعمیر و تر قی کے لئے بنائی ناگذیرتھیں اور جن پر مذکورہ کارپوریشن نے تعمیر کی ہیں ان سڑکوں پر یہاں کے باشندوں کی آمدورفت کو ممنوع قراردیا گیا ہے ۔
مخصوص لوگوں کو کارپویشن میں ٹھیکیداری کا حق حاصل ہے جن کا اثرو رسوخ سیاسی یا ذاتی بناپر کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ ہیںَ آج یہاں کے زمیندار جو کہ قدیمی باشندے ہیں محسوس کر رہے ہیں کہ مذکورہ کار پوریشن ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی سامراج کے اُس نو آبادیاتی نظام کی علم بروار ہے جس نے صرف اپنے مفاد کے خاطر یہاں کی غریب عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا یہاں کی غریب عوام اور مزدوروں کے ساتھ وہی سلوک روارکھا جو کبھی بر طانوی سامراج کا ہندستان کے ساتھ رہا ہے۔کشتواڑ ضلع میں چل رہے پاورپرجیکٹ میں ملازمین بیرون ریاست بھرتی کئے گئے ہیں، ان پارو پرجیکٹوں میں سے ایک پکل ڈول جو ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا اور دوسرا بُرسرجو ایک ہزار بیس میگاواٹ بجلی تیار کرے گا ایک اور چوتھا پراجیکٹ کرتھائی کُر و ریٹلی پاور پرجیکٹ شامل ہیں۔ اس طرح سے یہ ضلع کشتواڑ ایشیامیں واحدضلع ہوگا جو سب سے زیادہ پن بجلی تیار کرے گا۔
ان تمام پراجیکٹوں میں کم از کم 50ہزار لوگوں کو براہ راست روزگار ملے گا جس کا فائیدہ یہاں کے تجارت پیشہ مزدوروں ملازم کو ہوگا جس کے لئے عر صہ 30سالوں سے زمین دار فورم جدوجہد کر رہی ہے ۔یہاں کی عوام کے ساتھ کارپوریشن ،مرکزی سرکار نیز ریاستی سرکار کے اس نا رواسلوک نے یہاں کے باشندے کو خود کو بے بس سمجھنے کے احساس میں مبتلاکیا ہے اور یہ احساس جب کسی گروہ میں پیدا ہو تا ہے تو آنے والا وقت اس کو وہاں کے صاحب اقتدار کی عاقبت نا اندیشی اور کو تا ہ نظری ثابت کر دیتا ہے ۔