بی جے پی کا مشن پارلیمنٹ 2024 مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے اقلیتی محاذ کو سونپی ذمہ داری

نیوزڈیسک
نئی دہلی //بی جے پی ایک عرصے سے مسلم طبقہ میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اب 2024 سے پہلے وہ کم از کم 10 فیصد مسلم ووٹوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔سی این آئی کے مطابق اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات 2024 کے پیش نظر اقلیتی محاذ مسلم ووٹروں کا بی جے پی میں اعتماد بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ این ڈی ٹی وی پر شائع رپورٹ کے مطابق تنظیم سے وابستہ ملک بھر کے کارکنوں کی ورکشاپ میں حکومت کی پالیسیوں کو مسلم اکثریتی علاقوں تک لے جانے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
اقلیتی مورچہ کے صدر جمال صدیقی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ملک بھر کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے ہی 30 فیصد سے زیادہ مسلم ووٹروں والی 65 لوک سبھا سیٹوں پر ’مودی دوست‘ بنانے کی مہم شروع کی ہے۔ لیکن جمال صدیقی جانتے ہیں کہ بی جے پی پر ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کے الزامات کے درمیان مسلم ووٹروں کا اعتماد جیتنا ایک مشکل کام ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں میں بی جے پی کے خلاف نفرت اپوزیشن پارٹیوں کی وجہ سے ہے!این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے جمال صدیقی نے کہا ’’بی جے پی کو ہم نے بنایا ہے لیکن دوسری پارٹیوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ اس لیے بی جے پی ہی ہماری پارٹی ہے!‘‘اقلیتی مورچہ کی اس میٹنگ میں تنظیم کے جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش کے علاوہ بی جے پی میڈیا انچارج انیل بلونی نے بھی عہدیداروں سے خطاب کیا۔
ہندوتوا کی سیاست کے ساتھ ساتھ مسلم ووٹروں کو پارٹی سے جوڑنے کی بی جے پی کی بڑی حکمت عملی ہے۔ یہ اس وقت سے بننا شروع ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا ’تمام طبقات کو شامل کریں اور سب کو گلے لگائیں۔‘‘اتر پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے 350 سے زائد مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا، جن میں سے 45 امیدوار کامیاب ہوئے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا کا کہنا ہے کہ “یوپی میں بلدیاتی انتخابات میں بہت سے لوگ بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے ہیں۔
ہم پسماندہ مسلمانوں کے درمیان تمام کام کر رہے ہیں۔ انہیں حکومت کی پالیسیوں سے فائدہ ہوا ہے۔‘‘بی جے پی ایک عرصے سے مسلم طبقہ میں اپنی دخول بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب 2024 سے پہلے وہ کم از کم 10 فیصد مسلم ووٹوں کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے لیے پارٹی مسلم طبقہ کے لوگوں، تاجروں اور پڑھے لکھے لوگوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو پسماندہ ہونے کے ساتھ مرکزی اسکیموں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘