غیر معینہ مدت کیلئے موخر یکم جنوری تا5مئی،17ہلاکتیں ،10 فوجی جوان بھی شامل:حکام

نیوزڈیسک
نئی دہلی//مرکزی وزارت داخلہ نے حالیہ ملی ٹنٹ حملوں کے پیش نظر جموں خطے کے بعض علاقوں سے فوج کی مرحلہ وار واپسی کے منصوبے کوغیر معینہ مدت کیلئے روک دیا ہے۔ملی تفصیلات کے مطابق بدھ کونئی دہلی میں حکام نے کہاکہ حکومت نے جموں خطے میں فوج کی انسداد بغاوت فورس (راشٹریہ رائفلز )کی موجودگی یا اس فورس کے قدموں کے نشانات کو کم کرنے اور سیکورٹی کو جموں و کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔تاہم راجوری اورپونچھ میں حالیہ ملی ٹنٹ حملوںکے پیش نظر اس منصوبے کو فی الحال التواء میں ڈال دیاگیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ جموں کے علاقے میں فوج کے پاس 3 انسداد بغاوت فورس ہیں ،جن میںڈیلٹا فورس (جو ڈوڈہ کے علاقے کی دیکھ بھال کرتی ہے)، رومیو فورس (راجوری اور پونچھ کے علاقوں کی دیکھ بھال کرتی ہے) اور یونیفارم فورس (اْدھم پور اور بانہال کے علاقوں کی دیکھ بھال کرتی ہے)۔حکام نے بتایا کہ فوج کے کچھ یونٹوں نے پیر پنجال (جموں خطہ) کے جنوب میں آہستہ آہستہ سیکورٹی اور امن و امان کا انتظام مقامی پولیس اور نیم فوجی یونٹوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم، حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر اس سال دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس تجویز کو غیر معینہ مدت کیلئے موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے مزید کہاکہ جموں خطے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ذریعہ 17 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں10 فوجی جوان بھی شامل ہیں۔ اس سال یکم جنوری کو راجوری کے ڈانگری گاؤں میں 7 شہری مارے گئے تھے۔ ان میں سے، یکم جنوری کی شام کو دہشت گردوں کی فائرنگ میں 5شہری مارے گئے تھے جبکہ2نابالغ اس وقت اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب دہشت گردوں نے فرار ہونے سے پہلے پیچھے دھماکہ خیز مواد چھوڑ دیا تھا،جو اگلے دن پھٹ گیا۔اسی طرح سے 20اپریل کو پونچھ ضلع کی مینڈھر تحصیل میں بھٹہ دوریاں کے مقام پر دہشت گردوں نے فوج کی گاڑی پر حملہ کیا تو فوج کے 5 اہلکار اس وقت مارے گئے۔5 مئی کو راجوری کے کنڈی جنگل میں دہشت گردوں کے ایک آئی ای ڈی کے دھماکے میں5 پیرا کمانڈوز ہلاک اور ایک میجر رینک کا افسر زخمی ہوا۔حکام نے بتایاکہ جموں خطے کے کئی اندرونی علاقوں سے فوج کو واپس بلانے کی تجویز پر کچھ عرصے سے بحث چل رہی تھی اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی میں یونیفائیڈ ہیڈکوارٹر میں حتمی سفارش کی جانی تھی،لیکن حالیہ حملوں وہلاکتوں کوے پیش نظر فوج کی مرحلہ وار واپسی کے منصوبے کو روک دیاگیاہے۔