پاکستان دہشت گردی بند کرے نہیں تو دہشت گرد ملک کہلائے گا: فاروق عبداللہ

نیوڈیسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کی کوششیں کرنی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے ایسا نہیں کیا تو یہ دنیا میں ایک دہشت گرد ملک کہلائے گا اور اس ملک کے عوام پر مصیبتیں آئیں گی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس وقت دونوں ملکوں میں جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جنگ کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پارلیمان رمیش کمار وانکوانی کے دورہ بھارت پر کہا کہ اس اقدام سے ہند پاک کشیدگی میں کمی آئے گی۔ ان باتوں کا اظہار فاروق عبداللہ نے پیر کے روز یہاں نوائے صبح کمپلیکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد حال ہی میں سکریٹری /کمشنر آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے عہدے سے رضاکارانہ طور سبکدوش ہوئے آئی اے ایس آفیسر فارو ق احمد شاہ کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ تقریب پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی ناصر اسلم وانی ، سینئر لیڈران چودھری محمد رمضان، مبارک گل، محمد اکبر لون، شمیمہ فردوس، نذیر احمد خان گریزی، جاوید احمد ڈار، شمی اوبرائے اور بشارت بخاری کے علاوہ کئی سرکردہ عہدیداران بھی موجود تھے۔ فاروق عبداللہ نے کہا ’پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کی کوششیں کرنی چاہیں۔ اگر کوششیں نہیں کیں تو وہ دنیا میں ایک دہشت گرد ملک قرار دیا جائے گا۔ پھر وہاں کے لوگوں کے لئے مصیبتیں آئیں گی‘۔ انہوں نے ہند پاک کشیدگی پر کہا ’جنگی صورتحال پیدا کرنے کی بڑی کوششیں ہورہی ہیں۔ آپ کو اللہ سے دعا مانگنی چاہیے کہ یا اللہ ہمیں جنگ سے بچا۔ آج تک چار جنگیں ہوئی ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت میں مضمر ہے‘۔ فاروق عبداللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پارلیمان رمیش کمار وانکوانی کے دورہ بھارت پر کہا ’مجھے خوشی ہے کہ عمران خان نے کل اپنے مشیر کو بھیجا تھا۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات چیت کی۔ ہمیں امید ہے کہ یہ جو جنگ کا ماحول بنا تھا، اس اقدام سے اس میں کمی آئے گی‘۔ انہوں نے پلوامہ حملے کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں مقیم کشمیریوں پر ہورہے حملوں پر کہا ’ہمارے بچوں اور دوسروے لوگوں پر جو مظالم ملک میں ڈھائے گئے اس کا ہمیں سخت افسوس ہے۔ اللہ کا کرم ہے کہ آٹھ نو دنوں کے بعد وزیر اعظم نے معاملے پر بات کی اور اس سے کشمیر کے خلاف پیدا ہونے والے ماحول میں کمی آئی۔ یاد رکھئے گا کہ ابھی بھی ملک میں وہ تنظیمیں ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہیں‘۔ نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ عوام کو ایک ہوکر فرقہ پرست عناصر کے مذموم منصوبے ناکام بنانے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا ’جموں وکشمیرکے عوام نے ہمیشہ فرقہ پرستی کے خلاف اپنی نفرت کا برملا اظہار کیاہے اور ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مشعل کو فیروزاں رکھا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ملک اور ریاست میں حالات سدھر جائیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ عوام ایک ہوکر فرقہ پرست عناصر کے مذموم منصوبوں ناکام بنائیں‘۔ فاروق احمد شاہ کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ شاہ صاحب نے انتظامیہ میں کلیدی عہدوں پر رہ کر لوگوں کی خدمت کی ہے اور نیشنل کانفرنس میں ان کی شمولیت سے یقینی طور پر پارٹی کو فائدہ ملے گا ۔ مجھے امید ہے کہ شاہ صاحب زمینی سطح پر پارٹی کی مضبوطی اور عوامی خدمات کیلئے کام کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ تھرڈ فرنٹ کے قیام کی کوششیں کشمیریوں کے منڈیٹ کو تقسیم کرنے کی ایک اور مذموم سازش ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کے ہل والے جھنڈے کو مکمل حمایت دیں تاکہ اس قسم کی کشمیر دشمن سازشوں کا توڑ ہوسکے۔کشمیر میں تھرڈ فرنٹ کے قیام کی کوششیں اس بات کو یقینی بنانے کی سازش کے کہ آئندہ انتخابات میں کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کے ساتھ نہ ابھر سکے اور کشمیریوں کی آواز مسلسل طور پر بے وزن رہے۔انہوں نے کہاکہ لداخ اور جموں میں ایسا کوئی بھی رجحان نہیں تو پھر وادی میں ہی تھرڈ فرنٹ کے قیام کی باتیں کیوں ہورہی ہیں؟عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر دشمن عناصر جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہی لوگ کشمیر میں گلی گلی اور گھر گھر نقلی لیڈر بنارہے ہیں۔ جس کی پیش گوئی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اپنی قید حیات میں کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ان تمام سازشوں کا توڑ اتحاد میں ہے اور نیشنل کانفرنس ہی ایک ایسی واحد عوامی نمائندہ جماعت ہے اور جس پر لوگ بھروسہ کرسکتے ہیں کیونکہ اس جماعت کی جڑیں ریاست کے تینوں خطوں میں پیسوت ہیں۔ ارونانچل پردیش میں صورتحال کی ابدتری پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ارونانچل پریش جیسی پُرامن ریاست اس وقت آگ کی شعلوں جل رہی ہے۔ وہاں کے عوام پشتینی باشندے درجہ میں کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ارونانچل پردیش کے حالات اُن لوگوں کیلئے چشم کشا ہونے چاہیں جو دفعہ370اور دفعہ35اے کو ختم کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے بھیانک نتائج نکلیں گے اور جموں وکشمیر میں ایسی آگ لگے گی جس کے شعلے دور دور تک جائیں گے۔فاروق احمد شاہ کا پارٹی میں مقدم کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ شاہ صاحب کا کیریئر بہت ہی عمدہ رہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ ضرورت مندوں اور غرباء کے لئے اپنا دست تعاون پیش پیش رکھا۔ مجھے امید ہے کہ نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد وہ اپنی غریب پروری اور عوام دوستی کی شخصیت کے ذریعے پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق شاہ نے کہا کہ عمر عبداللہ کی خلوص پر مبنی سوچ اور نیشنل کانفرنس کے تابناک ماضی، خدمات اور قربانیوں نے مجھے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے مائل کیا۔انہوں نے جموں وکشمیر کے عوام کے لئے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا وہ شیر کشمیر کے مشن کو آگے لے جانے کے لئے پارٹی کے اعلیٰ سے ادنیٰ فرد کیساتھ کام کریں گے ۔تقریب پر پارٹی کے ضلع صدر سری نگر پیر آفاق احمد، پارٹی لیڈران تنویر صادق، شوکت احمد میر، مشتاق احمد گورو، عمران نبی ڈار، صبیہ قادری، غلام نبی بٹ، احسان پردیسی، مدثر شہمیری اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔اس سے قبل تقریب کے افتتاح پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی کے محسن اور سابق جنرل سکریٹری شیخ نذیر احمد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔