خصوصی پوزیشن سے چھیڑکی گئی تو لوگ دوسرا جھنڈا اُٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے 35اے پرگول میز کانفرنس کی تجویز دی

نیوزڈیسک
سرینگر//دفعہ 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں کو اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا۔ انہوںنے کہاکہ اگر اس قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو پتہ نہیں کشمیر کے لوگ کونسا جھنڈا اُٹھائینگے۔ انہوںنے کہاکہ بطور وزیر اعلیٰ مرکزی قیادت نے اُس وقت جماعت اسلامی اور حریت لیڈروں کو گرفتار کرنے کا فرمان جاری کیا تاہم میں نے اُس فرمان کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ انہوںنے کہاکہ مرکز آگ سے کھیل رہی ہے اور اگر اس قانون کو ہٹانے کے بارے میں سوچا بھی گیا تو حالات 1947کی طرف بھیانک رخ اختیار کرئینگے۔ پی ڈی پی صدر کے مطابق مرکز نے صرف حریت اور پی ڈی پی لیڈروں کی سیکورٹی کو ہٹایا ہے۔ اپنی رہائش گاہ پر پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ اگر مرکزی حکومت نے دفعہ 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے پر تلی ہوئی اور لوگوں میںخو ف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ پی ڈی پی صدر کے مطابق اگر اس قانون کو ہٹایا گیا تو ریاست کے لوگ ترنگے کے بجائے دوسرا جھنڈا ہاتھ میں لیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ عدالت عظمیٰ میں 35اے معاملے پر مقدمہ چل رہا ہے تاہم دوسری جانب پوری وادی میں لوگ اس قانون کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سیاست سے بالا تر ہو کر تمام سیاسی پارٹیوں کو اس قانون کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔ انہوںنے نیشنل کانفرنس ، سی پی آئی ایم ، پی ڈی ایف اور دوسری ہم خیال تنظیموں کو اس سلسلے میں گول میز کانفرنس بلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال میں سیاسی پارٹیوں کو اس سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا چاہئے تاکہ مرکز تک یہ بات پہنچ سکے کہ ریاست کی سبھی سیاسی پارٹیاں اس قانون کو تحفظ فراہم کرنے کے متعلق یک زبان ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے کام کریں نہ کہ ریاست کو آگ میں جھونکے۔ انہوںنے کہا کہ پی ڈی پی اس وقت الیکشن کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے بلکہ اس قانون کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے زمینی سطح پر کام کررہی ہے اور لوگوں میں بیداری مہم بھی چلارہی ہے۔ حریت لیڈروں کی سیکورٹی ہٹانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہاکہ سیکورٹی صرف حریت اور پی ڈی پی لیڈروں کی ہٹائی گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ بات افسوس کے ساتھ کہنی پڑ رہی ہے کہ مرکزی حکومت سیاسی لیڈروں کو سیکورٹی فراہم کرنے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وحید پرہ سمیت کئی پی ڈی پی لیڈروں کو سیکورٹی کو ہٹایا گیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا کہ بطور وزیرا علیٰ مرکزی حکومت نے جماعت اسلامی اور حریت لیڈروں کو گرفتار کرنے کا فرمان جاری کیا تاہم اُس وقت مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کیا کیونکہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اور کسی کو صرف اس وجہ سے گرفتار کرنا کہ اُس کی سوچ الگ ہے ٹھیک نہیں ہے اور یہ جمہوریت کے منافی ہے۔