کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ، اس کو ہم سے کوئی الگ نہیں کرسکتا: امت شاہ سی آرپی ایف اہلکاروںکا خوان رائیگاں نہیں جائے گا

یو این آئی
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کو ہم سے کوئی الگ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ لفظ ’مسئلہ‘ ملک کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کی دین ہے، جنہوں نے بقول ان کے بھارتی فوج کو ’پاکستان زیر قبضہ کشمیر‘ پر قبضہ کرنے سے روکا اور کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر گئے۔ امت شاہ اتوار کے روز یہاں بھگوتی نگر میں واقع جے ڈی اے پارک میں بی جے پی کے بوتھ انچارجوں کی ایک ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر حالیہ پلوامہ آئی ای ڈی دھماکہ میں جاں بحق ہوئے سی آر پی ایف اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فورسز کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ تاہم امت شاہ نے پلوامہ حملے کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں پر ہورہے حملوں کے متعلق کچھ نہیں کہا۔ اپنے چھبیس منٹ کی تقریر کے دوران بھاجپا صدر نے کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے علاوہ ملکی سطح پر قائم ہونے والے اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں جموں اور لداخ کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی۔ امت شاہ نے اپنی تقریر کے دوران ’جہاں ہوئے بلیدان مکھرجی وہ کشمیر ہمارا ہے، بھارت ماتا کی جے‘ جیسے نعرے لگوائے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز پر پلوامہ حملے کے مہلوک سی آر پی ایف اہلکاروں کو خراج عقیدت کرتے ہوئے کہا ’کچھ دن پہلے پلوامہ کے اندر پاکستانی حمایت یافتہ جنگجوئوں نے سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کو لڑنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ سامنے سے وار کرتے تو ہمارے جوان ان سے نمٹتے۔ یہ ایک نہایت بزدلانہ حملہ تھا۔ وہ (حملہ کرنے والے) دیش کی سیکورٹی پر سوالیہ نشان لگانا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’میں آج جموں وکشمیر کے عوام سے کہنے آیا ہوں کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کو ہم سے کوئی الگ نہیں کرسکتا۔ یہی وہ جموں و کشمیر ہے جس کو بچانے کے لئے جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ انہوں نے یہیں اپنی زندگی کا بلیدان دیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا عزم ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس سے ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا‘۔ امت شاہ نے کہا کہ پلوامہ حملے کے مہلوک جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا ’میں آپ لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ چالیس جوانوں کا جو خون جموں وکشمیر کی دھرتی پر بہا ہے، وہ خون راہیگاں نہیں جائے گا۔ اگر وہ (حملہ کرنے والے) سمجھتے ہیں کہ ان بزدلانہ حملوں سے وہ بھارت اور جموں وکشمیر کی سیکورٹی کو للکاریں گے ، شاید انہیں نہیں معلوم کہ وزیر اعظم مودی نے فورسز کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے‘۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ مودی سرکار نے ملی ٹینسی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا ’بی جے پی کی نریندر مودی سرکار 2014 میں اقتدار میں آئی۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس سرکار نے آتنگ واد کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ ہمارے محبوب لیڈر نریندر مودی نے بار بار کہا ہے کہ بی جے پی سرکار آتنگ واد کے تئیں زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے۔ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ یہ بار بار وزیر اعظم نے کہا ہے‘۔ انہوں نے کہا ’صرف کہا نہیں بلکہ عمل بھی کیا ہے۔ پاکستان کو دنیا میں الگ تھلگ کرنے کی بات ہو تو وزیر اعظم نے پاکستان سپانسرڈ آتنگ واد کے مسئلے کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے۔ گولی کا جواب گولی سے دینے اور آتنگ واد کے خلاف سخت کاروائیاں کرنے سے وزیر اعظم مودی کبھی پیچھے نہیں ہٹے‘۔ امت شاہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سابق وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کی دین ہے۔ ان کا کہنا تھا ’راہل بابا جموں وکشمیر کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہیں۔ میں راہل بابا کو جواب دینا چاہتا ہوں۔ اگر آج جموں وکشمیر مسئلہ ہے تو یہ آپ کے پرنانا جواہر لال نہرو کی وجہ سے ہے۔ سبھی چھوٹی ریاستوں کو سردار ولبھ بھائی پٹیل نے بھارت کے ساتھ ملایا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نے صرف کشمیر کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ حیدرآباد میں اس سے بڑا مسئلہ تھا، جونا گڑھ میں بھی اس سے بڑا مسئلہ تھا لیکن سردار پٹیل نے دونوں مسئلوں کو راتوں رات حل کیا۔ ہماری فوج پاکستان زیر قبضہ کشمیر پر قبضہ کرنے جارہی تھی، آپ کے پرنانا جواہر لعل نہرو نے فوجوں کو رکنے کا حکم جاری کیا اور خود مسئلے کو اقوام متحدہ لے کر چلے گئے۔ آپ فکر نہ کرنا یہ کانگریس کی سرکار نہیں بلکہ بی جے پی کی سرکار ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم جموں وکشمیر کو کبھی بھی بھارت سے الگ نہیں ہونے دیں گے‘۔ امت شاہ نے ریاستی کی علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ’ایک زمانہ تھا جب وکاس (ترقی) کا مطلب کچھ خاندانوں کا وکاس تھا۔ دلی میں گرانٹ منظور ہوتے تھے تو وہ دو خاندانوںتک ہی سمٹ کر رہ جاتے تھے اور جموں وکشمیر میں کوئی کام نہیں ہوتے تھے۔ جموں اور لداخ کے ساتھ بہت ناانصافی ہوتی تھی۔ مرکز میں 55 سال تک کانگریس کی جو سرکار چلی، اس میں جموں اور لداخ کے ساتھ انتہائی امتیاز بھرتا گیا۔ بی جے پی نے سرکار میں آتے ہی جموں اور لداخ کے لئے ترقی کے دروازے کھولے‘۔ انہوں نے کہا ’کانگریس، این سی اور پی ڈی پی ایک کنبے کی جماعتیں ہیں۔ یہ جماعتیں ریاست کے لئے نہیں بلکہ اپنے گھروں کے لئے کام کرتی ہیں۔ ابھی میں سنا رہا تھا کہ فاروق عبداللہ صاحب کہہ رہے کہ بی جے پی سرکار نے جموں وکشمیر کو کیا دیا؟ فاروق صاحب ہم تو یہیں بیٹھے ہیں چھٹیاں منانے کے لئے لندن نہیں جاتے‘۔ انہوں نے کہا ’ میں وادی کے نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جانچ کرو کہ ان کے بچے کہاں پڑھتے ہیں۔ وادی میں اسکولوں کو بند کرانے والوں کے اپنے بچے امریکہ اور لندن کے اندر پڑھتے ہیں۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ کس کے پیسوں سے پڑھتے ہیں؟ وہ جموں وکشمیر کے عوام کے پیسوں سے پڑھتے ہیں۔پی ڈی پی اور این سی نے جموں وکشمیر کے وکاس کو روکا ہے۔ نریندر مودی نام کا چوکیدار آیا تو پائی پائی جموں وکشمیر کے لوگوں تک پہنچائی۔ راہل بابا جو آپ کی سرکار 55 برس تک جموں وکشمیر میں نہیں کرپائی وہ ہم نے کرکے دکھایا‘۔ امت شاہ نے ملکی سطح پر قائم ہونے والے اتحاد پر کہا کہ ان کے پاس لیڈر ہیں نہ پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس گٹھ بندھن کا لیڈر کون ہے؟ جس گٹھ بندھن کا کوئی لیڈر ہے نہ کوئی پالیسی ہے ، وہ گٹھ بندھن دیش کا کچھ بھلا نہیں کرسکتا۔ یہ گٹھ بندھن نہیں بلکہ ملاوٹ کرنے والوں کا ٹولہ ہے۔ آج دیش کے اندر سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ یہ گٹھ بندھن والے دیش کو سیکورٹی فراہم کرسکتے ہیں۔ دیش کو سیکورٹی صرف وزیر اعظم مودی ہی دے سکتے ہیں۔ پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی چھاتی اگر کسی کے پاس ہے تو ہمارے محبوب لیڈر نریندر مودی ہیں۔ بھارت کو دنیا میں اگر سوپر پاور بننا ہے تو ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے اور وہ مودی جی کو 2019 میں دوبارہ ملک کا وزیر اعظم بنانا ہے‘۔