گرفتاریوں کے خلاف سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال

سرینگر//وادی کشمیر میں انتظامیہ کی طرف سے حریت قئدین کی خانہ یا تھانہ نظر بندی اور جماعت اسلامی کے لیڈران وکارکان کی گرفتاری کے خلاف ہفتہ کے روزشہر سری نگر کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ یو این آئی کو موصولہ تفصیلات کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے لبریش فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور جماعت اسلامی کے لیڈروں اور کارکنوں کی شبانہ گرفتاری کی خبر ہفتہ کی صبح پھیلتے ہی سرنگر کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال رہی۔ ریاست کی گرمائی راجدھانی سری نگر کے سیول لائنز کے گاؤ کدل، مائسمہ، بڈشاہ چوک، لالچوک، ریگل چوک، کوکر بازار، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ کے علاوہ شہر خاص کے نوہٹہ، خانیار،مہاراج گنج، صفا کدل اور دوسرے علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں معطل رہی تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی جزوی نقل وحمل جاری رہی۔ ادھر سری نگر کے تجارتی مرکز لالچوک میں واقع گھنٹہ گھر پر ہفتہ کی صبح شرومنی اکالی دل کے کارکنوں نے ترنگا لہرانے کی کوشش کی تاہم ریاستی پولیس نے بروقت کارروائی کرکے انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ قبل ذکر ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کونشانہ بنانے کے خلاف وادی کی تجارتی انجمنوں کی کال پر جمعہ کی سہ پہر سے سری نگر میں دکانداروں نے دکانوں کو بند کرکے احتجاج کیا۔ یو این آئی