شراب پی کر، ہاتھوں میں ترنگاتھامے، تشدد کرنا کون سی وطن پرستی ہے…؟

شراب پی کر، ہاتھوں میں ترنگاتھامے، تشدد کرنا کون سی وطن پرستی ہے…؟
گوجر نگر میں بلوائیوں کے ہاتھوں ہوئی تباہی کا شکار 81سالہ سابقہ فوجی کا سوال
اڑان نیوز
جموں//پلوامہ فدائین حملہ جس سے پورا ملک سوگوار ہے، کی آڑ میں بلوائیوں نے جس طرح جموں کے گوجر نگر علاقہ میں مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا اور ضلع وپولیس انتظامیہ نے خاموشی اختیار رکھی ، وہ کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ علاقہ میں بلوائیوں کا شکار 81سالہ فالج زدہ سابقہ فوجی افسر کا گھر بھی ہوا جنہوںنے سال 1962کی جنگ کے دوران لداخ خطہ میں سرحد پر ملک کا دفاع کیاتھا۔ ہر ذی شعور افراد یہ وضاحت چاہتا ہے کہ شراب کے نشہ میں لت پت ہوکرہاتھوں میں ترنگا اُٹھائے، مخصوص علاقہ جات، مخصوص گھروں اور مخصوص گاڑیوں کو نشانہ بناکر جاں بحق سی آر پی ایف اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کیساطریقہ ہے؟۔محمد اسلم کا کہنا ہے کہ جو اس کے گھر پر ہوا، اس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیاتھا۔ وہ کہتے ہیں’’ہم سنتے تھے کہ گجرات اور دیگر علاقوں میں اس طرح کے دنگے ہوتے ہیں، لیکن اب یہاں اپنی آنکھوں سے اپنے ساتھ ایساہوتے دیکھا‘‘۔پولیس بلوائیوں کے ساتھ کھڑی تھی ، پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا ، جب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو یقین نہیں ہورہاتھا۔15فروری کو پلوامہ میں سی آ ر پی ایف کانوائے پر ہوئے حملہ کے رد عمل میں نوجوانوں نے اُن کے پڑوس اور اس کے گھر پر حملہ کیا، پڑوس میں گاڑیاں نظر آتش کر دیں جبکہ اس کے فرزند کا نیا خریدا ہوا آٹو رکشابھی توڑ دیا۔’نیوزپورٹل دی وائر‘سے بات چیت میں اسلم خان نے بتایاکہ ایس ایچ او، ایس ایس پی، ڈی ایس پی سب وہیں تھے، بلوائیوں نے سنگ باری کی اور کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے، پولیس فورس نے تاخیر سے شیلنگ اور ٹیر گیس داغے لیکن وہ صرف گوجر نگر کی طرف جبکہ بلوائیوںکو کچھ نہ کہا۔ اگر وہاں پر فوج نہ پہنچتی شاہد کیا سے کیا ہوجاتا۔اسلم خان اپنے بیٹے، بہو اور تین پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتے ہیںجن کا جسم جزوی طورفالج زدہ ہے۔ اُن کے بیٹے کا آٹو رکشا جس کو بلوائیوں نے توڑ دیا، وہ اسلم خان کو ملنے والی حقیر پنشن کے علاوہ واحد ذریعہ معاش تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوائیوں میں شامل ایک شخص جوکہ نشہ کی حالت میں تھا، نے ہاتھ میں بھارت کا جھنڈا اُٹھارکھا تھاو راس کو چوک کے وسط میں لہراتے ہوئے ’بھارت ماتا کی جے، انڈیا میں رہنا ہے تو وندے ماترے کہنا ہے‘‘، کے نعرے بلند کئے۔ وہاں پرموجود پولیس نے اس کو وہاں سے جانے کو کہا لیکن وہ نہیں گیا۔ چونکہ یہ شخص نشہ کی حالت میں تھا، وہ نیچے گر گیا، اس کے بعد ایک مسلم لڑکا دوڑ کر وہاںآیا اور جھنڈے کو اُٹھایا۔اسلم خان جس نے اپنے اہل خانہ کی خواہشات کے خلاف لداخ خطہ میں سال 1962کے دوران جنگ میں ملکی دفاع میں اپنی خدمات انجام دی تھیں، اس واقعہ سے کافی رنجیدہ اور دلبرداشتہ ہیں۔اس جنگ کے دوران بٹالین کے کافی اہلکاروں کی جانیں تلف ہوئی تھیں لیکن وہ فائربندی کی وجہ سے صحیح سلامت واپس گھر لوٹ آئے، اسلم خان جن کے والد بھی فوج میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے جذباتی انداز میں کہابھارتیہ جنتا پارٹی کیا سمجھتی ہے، ہم کون ہیں، بھاجپا نے ان نوجوانوں کو شراب پلائی اور ان کے ہاتھوں میں جھنڈے پکڑا دیئے ، ہم بھی توہندوستانی ہیں، اس طرح کی وارداتیں انجام دیکر کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘‘۔81سالہ سابقہ بزرگ فوجی نے سال 2008امرناتھ لینڈ ایجی ٹیشن ، جس سے ریاست بھر میں دو ماہ تک امن وامان کی صورتحال خراب رہی تھی ، کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ اُس وقت ایک بڑا ہجوم گوجر نگر سے ’بم بم بولے‘کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے گذرا تھا لیکن کوئی نا خوشگوار واقع پیش نہیں آیا تھا۔صرف اسلم ہی نہیں بلکہ ُان کے پڑوس میں رہنے والے لوگ بھی یہ مانتے ہیں بلوائیوں کا یہ حملہ اور دنگے دانستہ طور کرائے گئے اور انتظامیہ نے غنڈہ عناصر کو کھلی چھوٹ دی۔ایک مقامی شہری جوکہ پیشہ سے وکیل ہیں ،نے بتایاکہ اجہاں وہ رہتے ہیں، کھڑکیوں کا ایک ایک بھی شیشہ نہیں چھوڑا جوسنگ بازی سے ٹوٹا نہ ہو۔ سنگ باری سے بچے کافی خوفزدہ ہوگئے۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ڈی ایس پی، ایس ایس پی اور ایس ایچ او موقع پر موجود تھے جب گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور دیگر املاک کونقصان پہنچایاگیا، بجائے بلوائیوں کو روکنے کے، پولیس نے مقامی مسلم نوجوانوں کو خاردار تار لگاکر پیچھے رکھا۔ غنڈہ عناصر کو منتشر کرنے کے بجائے ٹیرگیس شلنگ گوجرنگر میں لوگوں کے گھروں کے اندر کی گئی۔پرتشدد مظاہرؤں کا یہ سلسلہ وارڈ نمبر6کے نزدیک سے شروع ہوا ۔اس وقت ڈی آئی جی، ایڈیشنل ڈی سی، تحصیلدار، مجسٹریٹ وغیرہ کوئی بھی موجود نہ تھا لیکن پولیس کی نفری بلوائیوں کی سے کہیں زیادہ تھی لیکن پھر بھی انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج نہ کیا۔ گاڑیاں جلانے سے ایک شخص کو بھی نہ روکا بلکہ شہیدی چوک اور ریزیڈنسی روڈ پر تو جب بلوائیوں نے گاڑیوں کو آگ لگادی تو پولیس نے مبینہ طور یہ تک کہاکہ ، اب آپ جاؤ ہوگیا۔ گوجر نگر کے ایک مقامی بزرگ نے بتایاکہ انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو فوج کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تو اس کے بتایا کچھ نہیں ہوگا، کرفیو کے احکامات صادر کئے گئے ہیں لیکن کس طرح کا کرفیو، پولیس خاموش تماشائی رہی؟۔ بلوائیوں نے گوجرنگر پل پر لگائے گئے پھولوں کے گملے بھی توڑ ڈالے۔ گاڑیاں جلائیں جس میں بھدرواہ کے سابقہ اسسٹنٹ کمشنر شفیق الرحمن کی بھی گاڑی تھی۔ جوگاڑیاں جلائی گئیں وہ وادی کشمیر کے علاوہ ڈوڈہ، پونچھ ، بھدرواہ اور کشتواڑ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تھیں۔ اس حوالہ سے ڈی ایس پی سٹی ورون جنڈیال کا کہنا ہے کہ ’’سنگ باری دونوں اطراف سے ہورہی تھی ، ہم نے دونوں اطراف ٹیر گیس شلنگ کی، ہم نے صورتحال اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور لاٹھی چارج بھی کیا‘‘۔سنگ باری اوردنگوں کا عمل صبح11بجے شروع ہوا اور کرفیو کے نفاذ کے بعد 5بجے جاکر صورتحال قابو ہوئی، آئی سے لیکر تمام سنیئر افسران موقع پر موجود تھے۔