بھائی چارہ کا گہوارہ سول سیکریٹریٹ بھی بلوائیوں کی میلی نظر سے متاثر

بھائی چارہ کا گہوارہ سول سیکریٹریٹ بھی بلوائیوں کی میلی نظر سے متاثر
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//پلوامہ فدائین حملہ کی آڑ میں سرمائی راجدھانی جموں کے مخصوص محلہ جات میں پرتشدد مظاہروں کے ساتھ ساتھ بلوائیوں نے سرکاری کوارٹروں جہاںدربار موو¿ ملازمین رہائش پذیر ہیں، کو بھی بلوائیوں نے اپنا نشانہ بنایا۔ سول سیکریٹریٹ جوکہ سیکولرازم اور ہندومسلم سکھ عیسائی بھائی چارہ کاگہوارہ رہاہے، بھی پہلی مرتبہ فرقہ پرستوں کی بھینٹ چڑھ گیاہے۔جانی پور، ٹوپ شیر خانیاں اور دیگر جگہوں میں سرکاری کوارٹروں پر حملوں اور سنگ باری کی وجہ سے سول سیکریٹریٹ ملازمین جن کی تعداد کم وبیش گیارہ ہزار ہے، عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے کو ملا ہے کہ سول سیکریٹریٹ ملازمین نے ڈیوٹی پر جانے سے انکار کر دیا ہے جنہیں حدشہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں اہل خانہ بلوائیوں کے مذموم عزائم کا شکار ہوسکتے ہیں۔جہاںکشمیر میں دربار مو ایمپلائز فیڈریشن (نان سیکریٹریٹ) نے جموں میں سول سیکریٹریٹ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی کے لئے احتجاجی راستہ اختیار کیا ہے، وہیں جموں میں سیکریٹریٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن نے بھی ڈیوٹی پر جانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اگر چہ گذشتہ روز گورنر کے صلاحکار کے کے شرما نے سیکریٹریٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے نمائندوں سے بات کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایالیکن ارکان مطمئن نہ ہوئے اور ڈیوٹیوں پر جانے سے انکار کر دیاتھا۔سیکریٹریٹ ایمپلائز ایسو سی ایشن صدر غلام رسول میر نے اڑان سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”ہم ہڑتال پرہیں نہ بائیکاٹ کیا ہے، ہماری صرف یہ مانگ ہے کہ ہمیں سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ ہم اپنے اہل خانہ کو وادی کشمیر منتقل کرسکیں“۔ انہوں نے بتایاکہ بچوں کے اسکول اب کھلنے جارہے ہیں، ہمیں ہر حال میں اپنے اہل خانہ کو لے ہی جانا ہے، اس لئے انتظامیہ سے ان کی گذارش ہے کہ وہ ہمیں سیکورٹی فراہم کرے کیونکہ حدشہ ہے کہ راستہ میں انہیں نقصان پہنچایاجاسکتا ہے “۔ بدھ کو سیکریٹریٹ کام پر جانے بارے پوچھے جانے پر غلام رسول نے کہا”مجھے نہیں لگتا کہ جس ملازم کے بیوی بچے یہاں ہیں، وہ انہیں چھوڑ کر ڈیوٹی پر جائے گا، کیونکہ کیا پتہ پیچھے ان پر حملہ کردیاجائے، اس وقت غیر یقینی صورتحال ہے اور ہم اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر ڈیوٹی پر جانے کی پوزیشن میں نہیں“۔موصوف کے مطابق منگل کے روز انتظامیہ کی طرف سے ان سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔دربار موو¿سول سیکریٹریٹ ملازمین کے سنیئرلیڈر راو¿ف نے بتایاکہ ”سول سیکریٹریٹ سیکولر ازم کا ممبا رہا ہے، بحیثیت ہم ہندو اور سکھ ہرملازم کے لئے خون دینے کو تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے جموں وکشمیر میں آج کل جوحالات بنے ہوئے، اس میں سول سیکریٹریٹ کو بھی کچھ عناصر نے اپنی میلی نظر کا شکار بناہے“۔ انہوں نے کہاکہ دربارموو¿ آپسی بھائی چارہ کی مثال ہے، لیکن جس طرح کا ذہنی تناو¿ کشمیرکے ملازمین میں پیش کیاگیاہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم یہاں اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر لوگوں کی خدمت کرنے آئے ہیں، اُن کی سبھی سے اپیل کی ہے کہ آپسی بھائی چارہ کا گہوار سیکریٹریٹ کو گندی سیاست کا شکار نہ بنایاجائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں سیکریٹریٹ میں معمول کے مطابق کام ہولیکن اس کے لئے انتظامیہ بھی ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے اور شرارتی عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ دربار موایمپلائز فیڈریشن نان سیکریٹریٹ کے ریاستی صدر اویس وانی نے بتایاکہ جب تک کہ ہر ایک ملازم یہ محسوس نہ کرے کہ اس کے ڈیوٹی جانے کے بعد اس کے گھر والے محفوظ ہیں ، وہ کام پر نہیں لوٹیں گے کیونکہ اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری اور ان کی پہلی ترجیح اپنی بیوی بچوں اور گھروالوں کی زندگی بچاناہے۔انہوں نے بتایاکہ گذشتہ روز دربار مو ملازمین کی میٹنگ میں یہی فیصلہ لیاگیاہے کہ تحفظ کی ضمانت تک ڈیوٹی جوائن نہیں کی جائے گی۔یاد رہے کہ واضح رہے کہ سیکریٹریٹ میں قریب 1400ملازمین ہیں جبکہ دربار مو کیساتھ دیگر دفاتر میں قریب 9000ملازمین مختلف دفاتر میں ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں۔