جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں ہلاکت خیز خودکش دھماکہ، 44 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک

سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ میں سری نگر جموں قومی شاہراہ پر جمعرات کو ایک ہلاکت خیز خودکش آئی ای ڈی دھماکے میں 44سی آر پی ایف اہلکار جاں بحق ہوئے۔ یہ وادی میں سیکورٹی فورسز کے خلاف اپنی نوعیت کا سب سے بڑا خودکش حملہ ہے۔ حملے کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کرے گی۔جنگجوﺅں کی جانب سے یہ تباہ کن خودکش دھماکہ ایک کار کے ذریعے کیا گیا۔ پاکستانی جنگجو تنظیم جیش محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ جیش محمد نے ایک مقامی خبررساں ایجنسی جی این ایس کو بھیجے گئے بیان میں خودکش حملہ آور کی شناخت عادل احمد ڈار عرف وقاص کمانڈو ساکنہ گنڈی باغ کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کرلی ہے۔ حملہ آور کی تصویر اور ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں سی آر پی ایف کی درجنوں گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حملے میں 44سی آر پی ایف اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘سی آر پی ایف کی 78 گاڑیوں کا ایک قافلہ جو 2574 اہلکاروں پر مشتمل تھا، جموں سے سری نگر کی جانب رواں دواں تھا کہ سہ پہر قریب ساڑھے تین بجے خودکش حملہ آور نے اپنی کار ایک بس کے ساتھ ٹکرادی’۔ انہوں نے بتایا ‘کار کے بس کے ساتھ ٹکر لگنے کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک بس جس میں 44 سی آر پی ایف اہلکار سوار تھے، سینکڑوں ٹکڑوں میں بٹ گئی، جبکہ متعدد دیگر بسیں بھی متاثر ہوئیں’۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دیگر گاڑیوں میں سوار سی آر پی ایف اہلکاروں، روڑ اوپننگ پارٹیز اور مقامی پولیس نے فوری طور پر بچاﺅ کاروائیاں شروع کرکے زخمیوں کو سری نگر کی فوجی چھاونی میں واقع 92 بیس آرمی اسپتال منتقل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قریب دو درجن سی آر پی ایف اہلکاروں کو جائے وقوع پر ہی مردہ پایا گیا جبکہ باقی سی آر پی ایف اہلکار اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
جائے وقوع پر پہنچنے والے آئی جی سی آر پی ایف (آپریشنز) ذوالفقار حسن اور آئی جی پی کشمیر سویم پرکاش پانی نے کہا کہ حملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ٹیمیں کام میں جٹ گئی ہیں جبکہ حملے کی ہر ایک زاویے سے تحقیقات کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جنگجویانہ حملہ تھا۔
مہلوک سی آر پی ایف اہلکاروں کا تعلق 76، 45، 176، 115 ، 92، 82، 75، 61، 35، 21، 98 اور 118 بٹالین سے ہے۔ مہلوک اہلکاروں میں سے قریب 10 ہیڈ کانسٹیبل جبکہ باقی کانسٹیبل تھے۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملے کے لئے استعمال کی گئی گاڑی میں ایک سو سے زیادہ کلو گرام وزنی آئی ای ڈی بم نصب تھا۔ یہ وادی میں 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش کے دوران اپنی نوعیت کا سب سے بڑاخودکش حملہ ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ خودکش دھماکے کے بعد سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی جبکہ ایک بڑے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن چلایا گیا۔