پونچھ :انتظامیہ کی جی حضوری اور فوٹوسیلفیوںکا رحجان!

پونچھ :انتظامیہ کی جی حضوری اور فوٹوسیلفیوںکا رحجان!
عوام کے حقوق پر شبِ خون ماری
احوالِ پیر پنچال
الطاف حسین جنجوعہ
7006541602
اردلی(چپراسی) سے لیکر چیف سیکریٹری تک تمام سرکاری ملازمین عوام کے خادم یعنی خدمتگار ہوتے ہیں، جن کا مقصد وفرض عوام کی خدمت کرنا اور انہیں سہولیات بہم پہنچانا ہے کیونکہ انہیں ’خدمت کے عوض ‘عہدہ اور اہلیت کے مطابق خزانہ عامرہ(State Exchecqure)سے ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔خزانہ عامرہ کا پیسہ عام لوگوں سے بلواسطہ اور بلاواسطہ یعنی(ڈائریکٹ یااِن ڈائریکٹ)ٹیکس وصولی کی صورت میں پائی پائی جمع کیاجاتاہے ۔ہر روز انتہائی غریب شخص بھی کسی نہ کسی صورت میں خزانہ عامرہ میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ایک ماچس کی ڈبیہ لینے پر بھی چند پیسے ٹیکس کی صورت میں خزانہ میں جاتے ہیں ، اسی طرح کھانے پینے، روزمرہ استعمال کی چیزیں، پٹرولیم مصنوعات،ملبوسات غرض ہرچیز جس کی ہم بازاریادکان سے خریدکرتے ہیں،اُس پر ہم کچھ حصہ ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں،کسی میںیہ مقدار کم اور کسی چیز میں زیادہ ہوتی ہے لیکن ٹیکس یعنی محصول ضرور دیتے ہیں۔اسی طرح روزانہ جمع کئے جانے والے پیسہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ہوتی ہے، ان کی ٹرانسپورٹ کیلئے گاڑیوں، ایندھن ،اعلیٰ شان دفاتر اوروہاں پر بہترین ڈھانچے کا انتظام کیاجاتاہے۔باقی ماندہ پیسے سے لوگوں کی تعمیر وترقی اور فلاح کے لئے اسکیمیں اور پروجیکٹ شروع کئے جاتے ہیں جن کی زمینی سطح پر عمل آوری ’سرکاری ملازمین ‘کا فرض ِ اولین ہے لیکن بدقسمتی سے فتیہ شاہی دور میں سرکاری ملازمین نے عوام کی خدمت کرنے کی بجائے (خادم نہیں حاکم کے مترادف)ان پر راج کرنا، ان کا استحصال کرنا اور ان کے حقوق پر شبِ خونی ماری کا سلسلہ شروع کر رکھاہے، پوری ریاست میں یہی صورتحال ہے مگر اس موضوع پر ہم خاص طور سے خطہ پیر پنچال کے سرحدی ضلع پونچھ کا ذکر کریں گے جہاں افسران کے استقبالیہ اور الوداعیہ میں اتنی شاندار اور یادگار تقریبات ہوتی ہیں کہ افسران کو اتنی عزت اپنی پوری ملازمت کے دوران نہیں ملتی۔پونچھ ضلع میں سرکاری دفاتر کے اندر ’ورک کلچر ‘کی اتنی ابتر صورتحال ہے کہ الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔چند مفاد پرست افراد کی وجہ سے پورے ضلع کی عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔بنیادی سہولیات یعنی پینے کے صاف پانی، بجلی کی فراہمی، رابطہ سڑکوں، طبی سہولیات، سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری وغیرہ کا حال برا ہے۔برف باری ہویابارش یا کوئی اور ہنگامی صورتحال ضلع انتظامیہ مکمل طور Defunctہوکر رہ جاتی ہے، کنٹرول روم یا ایمرجنسی نمبرات مکمل طور بند رہتے ہیں، افسران کے فون نمبرات بھی سوئچ آف ہوجاتے ہیں، ناساز موسمی حالات میں عوام کو اللہ کے رحم وکرم پر ہی چھوڑ دیاجاتاہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی ضلع انتظامیہ کی آفیشل ویب سائٹ کئی کئی ماہ تک اپ ڈیٹ ہی نہیں کی جاتی۔اس کے برعکس ریاست کے دیگر اضلاع کے پونچھ ضلع کی آفیشل ویب سائٹ پر کم معلومات اور مختلف محکمہ جات اور افسران کے فون نمبرات اور ای میل وغیرہ موجود ہیں۔ اگر ہیں بھی تو کوئی اِن کو کوئی اٹھاتا تک نہیں دیتا۔ پونچھ ضلع میں چند افرادنے انتظامیہ کو ’ہائی جیک ‘کر کے رکھا ہے جس سے عام آدمی جس کا کوئی اثر رسوخ نہیں، جان پہچان نہیں، رشتہ داری نہیںکی دفاتر اور افسران تک رسائی انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے۔چندکھڑپنچوں ، چاپلوسوں اور رشتہ داروں، عزیز واقارب کے کام گھر بیٹھے فون پر بھی افسران کرتے ہیں تو عام بے سہاراآدمی کا کام کئی ماہ دفاتر کے چکر کاٹنے اور تمام لوازمات مکمل کرنے کے بعد بھی نہیں ہوتا ۔مجبوراًاس متاثرہ عام آدمی کو کام کروانے کے لئے دفاتر میں موجود سرکاری ملازمین یا پھر چند عوامی ٹھیکیدار جنہیں دوسرے الفاظ میں ایجنٹ کہاجائے توغلط نہ ہوگا، ان سے رجوع کرنا پڑتاہے، رشوت /کمیشن کے لین دین کے بعد ہی جاکر مسئلہ کا ازالہ ہوتاہے۔پونچھ ضلع میں جب بھی کسی پولیس یا سول انتظامیہ کے افسر جس میں خاص طور سے ضلع ترقیاتی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو(اے سی آر)، اسسٹنٹ کمشنر ڈولپمنٹ(اے سی ڈی)، ایس ایس پی، ایڈیشنل ایس پی، ایس ڈی پی او، ایس ایچ او ،سب ڈویژن مجسٹریٹ، تحصیلدار، بلاک ڈولپمنٹ افسر،نائب تحصیلدار، آر اینڈ بی اور پی ڈبلیو ڈی کے ایگزیکٹیو انجینئر/اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرز، پی ایم جی ایس وائی/منریگا افسران، سوشل ویلفیئر افسران یا دیگر کسی افسر کی تقرری ہوتی ہے تو چند سماج کے نام نہاد ٹھیکیدار جس سے عرف ِ عام میں یہاں ’سول سوسائٹی کے ممبران اور معززین کہہ کرپکاراجاتاہے، بھمبر گلی (بی جی)، جڑاں والی گلی ،دیرہ والی گلی اور پیر کی گل (وہ راستے جہاں سے پونچھ ضلع کے اندرباہری اضلاع سے انٹری ہوتی ہے)، پر درجنوں گاڑیاں لیکر ہار وسنگار لئے قافلہ کی صورت میں نو تعینات افسر کا والہانہ استقبال کرتے ہیں، پھر اس کو ڈھول، باجوں اور فلک شگاف نعرو¿ں کے بیچ ہیڈکوارٹر اور متعلقہ دفتر تک پہنچایاجاتاہے، وہاں پُروقار تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں مرزاغالب ، ڈاکٹر سرمحمد علامہ اقبالؒ،فیض احمد فیض اور دیگر برگزیدہ شعراءحضرات کے چنیدہ اشعار کے ساتھ افسر موصوف کی تعریف میں قصیدہ گوئی ہوتی ہے اور سپاسنامے پڑھے جاتے ہیں۔یہ سلسلہ یہی نہیں رکتا بلکہ افسر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کم سے کم پہلے ماہ اعزازی تقریبات ’Facilitation Functions‘کا انعقاد ہوتا ہے جس میں شال اور مومنٹو کے ساتھ افسر موصوف کو نوازا جاتاہے، اس پروقار تقریب میں سول اور پولیس انتظامیہ کے دیگر افسران کو بھی دعوت دی جاتی ہے، علاوہ ازیں عوام کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی صدفیصد شرکت یقینی ہوتی ہے جہاں پر نوتعینات افسر کے حق میں تعریفوں اور مداح سرائی کی طویل نشست ہوتی ہے اور اس کوآسمان کی بلندیوں پر پہنچایاجاتاہے۔ یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ وہ ایک پرُامن ماحول میں آگئے ہیں ، وہاں انہیں کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی، ان کی ہر ممکن کوشش رہے کہ ان کے دفتر کے اندر کوئی عام آدمی، غریب، بے سہارا اور مظلوم نہ آئے، کوئی میلے کچیلے کپڑے پہننے والا نہ آئے گا، ان کے خلاف آواز بلند نہ ہوگی ۔ وہ بلاکسی پریشانی کے دفتروں کے اندر بیٹھ کر کاغذی کارروائی عمل میں لاسکتے ہیں تاکہ ہربرس31مارچ سے قبل قبل زیادہ سے زیادہ خزانہ عامرہ کو چونا لگایاجائے۔ اشاروں اور استعارت وتشبہیات میں افسرموصوف تک یہ بات بھی پہنچا دی جاتی ہے، اس کے لئے صرف انہیں اتنا کرنا ہوگا کہ سول سوسائٹی کے ممبران اور معززین جن کی تعریف اوپر بیان کی گئی ہے، کا تھوڑا خیال رکھنا ہوگا۔دورانِ تقریبات اور پھراختتام پر فوٹو سیلفیوں(Photo Selfies)کا دور شروع ہوتا ہے، سیاسی ، سماجی اور غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کے عہدیداران افسر کے ساتھ تصویریں لیکر سوشل میڈیا(فیس بک، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ گروپوں میں شیئر)کرتے ہیں تاکہ اپنے زیر اثر حلقہ میں یہ تاثر دیاجائے کہ ہم انتظامیہ کے کتنے قریب ہیں۔کم سے کم ایک ماہ تک سلسلہ وار ایسی تقریبات میں شرکت اور اپنے حق میں قصیدے سن کر ’افسر موصوف‘بھی خود کو ساتویں آسمان پر پاتا ہے اور یہ تقریبات اس کے دل ودماغ پر ایسا اثرانداز ہوتی ہیں کہ اس کو پونچھ کے یہی چند اشخاص ہی ہرخاص وعام دکھائی دیتے ہیں،اُن کی بات ہی حرفِ اول وآخر لگتا ہے۔ دوسری طرف عام لوگ دفاترکے باہر اپنی مشکلات ومسائل کے ازالہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں جنہیں وہاں تعینات’اردلی اور چپراسی‘ سے یہی جواب ملتا ہے’ابھی صاحب نہیں ہیں، وہ میٹنگ میں گئے ہیں، بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے ‘۔ہر دن بیچارے عام لوگ یہی بات سن سن کر مایوس واپس لوٹتے ہیں۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ افسر موصوف دفتری اوقات’Office Hours‘کے دوران اپنے دفتر میں بیٹھ کر دوستوں یا چند جان پہچان کے لوگوں سے محوِ گفتگو ہوتے ہیں یا پھر فون پرچاٹنگ میں مصروف رہتے ہیں۔چپراسی کو ہدایت رہتی ہے کہ باہر سے دفتر پر چٹکی لگاکر رکھی جائے اور ان کے حکم کے بغیر اند ر کسی کو آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس وفاداری اور دن بھر جھوٹ بولنے کے لئے افسران چپراسی ‘کے ناز ونخرے بھی بردداشت کرلیتے ہیں پر انہیں یہ گوارا نہیں کہ عام آدمی انہیں اپنے دکھڑے سنا کر پریشان کر دے۔یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ’دفتری اوقات‘کے دوران افسران مختلف تقریبات میں مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں اور دفتروں کے باہرعوام کی بھیڑ کی کوئی پرواہ نہیں رہتی ہے۔چند افراد نے پونچھ ضلع میں انتظامیہ کو اس طرح ’ہائی جیک‘کر کے رکھا ہے کہ عام آدمی کا معمولی سے معمولی کام بھی کئی ماہ کے بعد جاکر بمشکل حل ہوتا ہے۔ ضلع کی سول اور پولیس انتظامیہ کی طرف سے بلائی جانے والی تعارفی میٹنگوں میں بھی صرف انہیں چند لوگوں کودعوت دی جاتی ہے، جو عام لوگوں کے مسائل اُجاگر کرنے کی بجائے زیادہ وقت افسران کی تعریف میں ہی گذارتے ہیں۔ پھر اگر صوبائی یا ریاستی سطح کا کوئی بڑا افسر یا عوامی منتخبہ حکومت کے دوران کوئی وزیرضلع کا دورہ کرتا ہے، تو بھی انہیں چند لوگوں کو عوام کا نمائندہ’Public Representative‘بناکر پیش کیاجاتاہے جن سے افسران اپنے حق میں خوب تعریف کرواتے ہیں اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افسران لوگوں کی بہت خدمت کر رہے ہیں، سب ٹھیک ٹھاک چل رہاہے، ان افسران کو15اگست یا26جنوری کے موقع پر اعزازات سے بھی نوازا نے تک کی بات کہہ ڈالتے ہیں۔جب کسی افسر کا پونچھ سے تبادلہ ہوجاتاہے تو پھر ان نام نہاد ٹھیکیداروں میں سوگ کا ماحول قائم ہوجاتاہے، پھر سلسلہ وار الوداعی تقریبات ہوتی ہیں ، پھر قصیدہ گوئی اور تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں۔آخر میں پھر بی جی گلی، دیرہ کی گلی، جڑاں والی گلی یا پھر پیر کی گلی تک قافلہ کی صورت میں آکر ان افسرن کو الوداع کیاجاتاہے۔چند عوام کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی حد سے زیادہ جی حضوری اور فوٹوسیلفی کلچرنے پونچھ کا بیڑا غرق کر رکے رکھا ہے۔ مرکزی وریاستی سرکار کی طرف سے مختلف پروجیکٹوں اور اسکیموں کے تحت زمینی سطح پر کوئی عمل آوری نہیں ہورہی، زیادہ پیسے ایسے افراد کے میل جول سے افسران کی تیجوریوں کی زینت بن رہے ہیں۔پٹواری تک کئی کئی دن لوگوں کو یہ کہہ کر غائب رہتے ہیں کہ آج ڈی سی دفتر میں میٹنگ تھی، آج ڈویژنل کمشنر جموں میں میٹنگ تھی، وغیرہ وغیرہ۔آفس ٹائمنگ کے دوران افسران کا دفتروں سے غیر حاضر رہ کر نجی تقریبات کا حصہ ہونا،عوام کی مشکلات نہ سننا ایک معمول بن کر رہ گیاہے۔اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں میں وقت پر ملازمین نہیں پہنچتے، اگر بائیومیٹرک حاضری نظام کی وجہ سے آتے بھی ہیں، تو دیانتداری سے ڈیوٹی سرانجام دینے کے بجائے اپنے ذاتی معاملات میں ہی الجھے رہتے ہیں۔پونچھ میں سرکاری دفاتر کے اندر اگر عام شخص کسی طرح سے اپنی مشکل افسر کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے، تو آگے سے جواب ملتا ہے” جناب اس وقت تو گورنر رول ہے، کچھ نہیں ہوسکتا، میں آپ کی مدد نہیں کرسکتا“وغیرہ وغیرہ۔ عوامی منتخب حکومت ہویا گورنر/صدرراج انتظامی کام کاج تو نہیں رکتا،خزانہ عامرہ سے آنے والی خطیر رقومات کا سلسلہ نہیں رکتا۔ پروجیکٹ اور اسکیمیں تو چلتی ہی رہتی ہیں تو پھر کیونکرپونچھ کی عوام پر یہ ظلم کیاجاتاہے۔پونچھ میں تعینات ہونے والے افسران کو بھی سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں دیانتداری اور انصاف پسندی سے کام لیں۔’ہائی جیکنگ نظام‘کوختم کر کے عام لوگوں کو تک اپنی رسائی یقینی بنائیں۔ عام اور بے سہارا افراد کے لئے دفاتر کے دروازے کھولیں اور ان کی مشکلات کو حل کریں۔عوام کو بھی سمجھنا چاہئے کہ افسران کو ان کے تئیں جوابدہ بنایاجائے، انہیں یہ باور کرایاجائے کہ آپ ’خادم ہو‘نہ کہ حاکم ۔افسران کا احتساب ہو اور ان سے کام لیاجائے نہ کہ ان کو پلکوں پر بٹھاکر اپنا استحصال کرایاجائے۔ افسران اور ملازمین کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ اس کے عوض خزانہ عامرہ سے خطیر رقم انہیں تنخواہ اور دیگر مراعات کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔اس ”حد سے زیادہ جی حضوری اور ہائی جیکنگ نظام “کے خاتمہ کے لئے ذی شعور افراد اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کا( قول وفعل )سے اپنا تعمیری رول ادا کرنا ہوگا، نہیں تو لوگوں کے جائز حقوق پر لوٹ ماری کا یہ عمل جاری رہے گا ۔اگرعوام کی طرف سے آئے روز شکایات ہوتی ہیں کہ افسران کام نہیں کرتے، اس کے لئے یہ چند افراد خاص طور سے ذمہ دارہیں جنہوں نے افسران کوقصیدہ گوئی کر کے ان کو ’خادم سے حاکم‘بنارکھاہے۔
٭٭٭٭٭
نوٹ:مضمون نگارپیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں
ای میل:[email protected]