پیرپنچال و چناب کی سیاسی قیادت کے محاسبہ کا وقت !

پیرپنچال و چناب کی سیاسی قیادت کے محاسبہ کا وقت !
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی والی ’ انتظامیہ‘کی طرف سے گزشتہ روز لداخ خطہ کو ریاست کا تیسرا صوبہ درجہ دینے کے بعد صوبہ جموں کے خطہ پیر پنچال اور چناب میں سیاست تیز ہوگئی ہے۔سخت عوامی رد عمل کی وجہ سے سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے بھی بغیر وقت ضائع کئے خود کو متحرک کر دیا ہے ۔ ہفتہ کے روز کئی سیاسی لیڈران نے پریس کانفرنسوں اور عوامی اجلاس کا انعقاد کر کے خطہ پیر پنچال اور چناب کو بھی صوبہ کا درجہ دینے کی پرزور مانگ کی۔متعدد لیڈران نے احتجاجی راستہ اختیار کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے، چونکہ اب پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات نزدیک ہیں، عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کے لئے یہ سب کچھ کیاہی جائے گا اور آنے والے دنوں میں کئی ’گاندھی‘ہاتھ پاو¿ں مارتے دکھائی دیں گے۔سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری (خطہ پیرپنچال)اور ڈوڈہ، کشتواڑ ، رام بن (خطہ چناب)کی عوام کا عرصہ دراز سے یہ مطالبہ رہاہے کہ انہیں خود مختیار پہاڑی ترقیاتی کونسل کا درجہ دیاجائے جوکہ آبادی، رقبہ، دشوار گزار اور ناقابل رسائی علاقہ جات کے پیش نظر اس کے مستحق ہیں۔ان خطوں کی جائز مانگ کو نظر انداز کرنے کے لئے جہاں آج حکومت کو ذمہ دار ٹھہرارہی ہے وہیں کافی حد تک خطہ کی سیاسی قیادت بھی قصور وار ہے جن میں تعمیری سوچ کا فقدان رہااورہمیشہ عوامی مفادات کو مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھایا ۔آج تک اس حوالہ سے یہاں کے سیاسی لیڈران کبھی بھی مشترکہ پلیٹ فارم پر نہیں آئے،متحدہوناتو دور کی بات ان خطوں کے سیاسی لیڈران کی طرف سے مشترکہ طور کبھی بیان تک جاری نہ ہوا۔یوںتو اپنی سیاسی دکان چمکانے کیلئے ہمارے سیاستدان تعزیتی بیان دینے میں بھی ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہوتے ہیں لیکن اگر کبھی دھیان نہیں گیا تو وہ اِ س اہم اور تعمیری سوچ کی طرف کہ ”خودمختیار پہاڑی ترقیاتی کونسل“ پر لب کشائی کی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لداخ کو صوبہ کا درجہ ملناوہاں کی عوام کامتحد اور یک زباں ہونے کا پھل ہے۔کرگل اور لہہ اضلاع کی عوام نے بلالحاظ مذہب وملت نہ صرف متحدہوکر اِس اہم کاز کیلئے پریس کانفرنسیں کیں، احتجاجی مظاہرے کئے بلکہ حکومتی وانتظامی سطح پر اپنے مطالبات کو پہنچانے کے لئے بڑے بڑے سیاسی عہدوں کو لات ماری اور اپنی بالغ نظر ی ، سیاسی بصیرت اور اتحاد کا مثالی مظاہرہ کیا۔حالانکہ لہہ اور کرگل کی عوام کے مابین کئی اختلافات ہیں، جو کئی بار کشیدگی کی وجہ بھی بنے لیکن ہمیشہ خطہ کی جامع تعمیرو ترقی کے لئے خطہ کی عوام نے مذہبی اور سیاسی وابستگیوں سے بالاترہوکر لڑائی لڑی اوروسیع النظر ی کا ثبوت پیش کیا ۔لداخ کے رکن پارلیمان تھپسنگ چھیوانگ کی عہدہ سے دستبرداری اور سیاست سے کنارہ کشی، ہل ڈولپمنٹ کونسل لہہ کے چیف ایگزیکٹیو افسر کا استعفیٰ اور ساتھ ہی بھاجپا کے کئی سنیئرلیڈران کے اجتماعی استعفے سیاسی شعور اور جذبہ خدمت خلق کی وہ مثال ہے جس سے خطہ چناب اور پیرپنچال کے حکمران طبقے کو سبق سیکھنا چاہیے۔مرکز میں چونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں ہے، اس لئے لہہ اور کرگل سے پارٹی لیڈران نے استعفے دیکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جس سے ملکی وریاستی سطح پر بھاجپا کو شرمندگی بھی اُٹھانا پڑی اور مجبوراًلداخ کی عوام کے جائز مطالبہ کے آگے گھنٹے ٹیکنے پڑے۔پچھلے تین ماہ کے زائد عرصہ سے کرگل اور لہہ سے سبھی سیاسی جماعتوںکے لیڈران کے علاوہ بااثر مذہبی تنظیموں کے لیڈران نے درجنوں وفود کی صورت میں یکے بعد دیگرگورنر ستیہ پال ملک اور ان کے سبھی صلاحکاروں سے باری باری ملاقات کی۔ تفصیلی تحریری یادداشتیں پیش کیں جس میں اعدادوشمار اور حقائق کے ساتھ وضاحت کی کہ کیونکر وہ صوبہ کے حقدار ہیں۔اپنے مطالبہ کے حوالہ سے مکمل طور گورنر انتظامیہ کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی دباو¿ بھی بنائے رکھا ، نتیجہ کے طور پر بالآخر مرکزی سرکار کی ایماءپر گورنر انتظامیہ نے لداخ کو صوبہ کا درجہ دیا۔ خطہ پیر پنچال اور چناب کو خود مختیار پہاڑی ترقیاتی کونسل کا درجہ دینے کا مطالبہ عرصہ دراز سے کیاجارہاہے ۔ اس حوالہ سے قانون سازیہ میں متعدد اراکین نے قرار دادیں بھی لائیں مگر حکومت کی توجہ ملنا تو دور اپنے ہی خطہ کے ساتھیوں نے کبھی ساتھ نہ دیا،ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ اِن خطوں کو نظرانداز کی جانے کی اصل وجہ ہے ۔ اگر نیشنل کانفرنس کے کسی لیجسلیچر نے قرار داد/بل یا کسی اور طریقہ سے ہل ڈولپمنٹ کونسل کا مدعا اسمبلی/کونسل کے اندر اُٹھایا تو چناب وخطہ پیر پنچال سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکین قانون سازیہ جن کا تعلق کانگریس ، پی ڈی پی یا کسی دوسری جماعت سے تھا، نے کبھی تائید وحمایت نہ کی کہ شائد یہ اس کا کریڈٹ نہ لیاجائے۔سابقہ مخلوط حکومت میں پی ڈی پی اور بھاجپا کے لیڈران نے یہ کوششیں کیں تو دیگر جماعتوں سے ساتھ نہ ملا۔ انفرادی طور کم وبیش سبھی سیاسی جماعتوں اور تنظیموںکے لیڈران نے چناب اورپیرپنچال کو خود مختیار پہاڑی ترقیاتی کونسل کا درجہ دینے کی مانگیں کیں ہیں، اس کے لئے کئی بار احتجاجی دھرنے اور مظاہرے بھی ہوئے لیکن متحدہوکر اس کےلئے کوئی زور دار آواز بلند نہ ہوئی ۔ اکیلے اکیلے پریس کانفرنسیں، بیانات اور دھرنے ’نقارخانے میں طوطی کی آواز ‘کے مترادف ہیں۔ان بڑے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے یک زباں ہونا ہی واحد حل ہے۔ چناو¿کے پیش نظرلیڈران پچھلے ایک دن سے لوگوں کے غم وغصہ کو بھانپتے ہوئے جس طرح حرکت میں آئے ہیں، انہیں ہمدردیاں بٹورنے کیلئے’انتخابی سیاست‘کی بجائے متحدہوکر ’صدق دلی سے‘ان جائز مطالبات کے تئیں گورنر انتظامیہ کی توجہ مبذول کراکے انہیں حل کرانا ہوگا۔حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے سے زیادہ خطہ پیرپنچال اور چناب کی سیاسی قیادت کو اپنا محاسبہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ آیا آج تک انہوں نے ان مطالبات کے لئے کتنی صدق دلی سے کام کیا۔آج عوام کا غم وغصہ جائز اور بجا ہے لیکن ان کی بدقسمتی یہ رہی کہ جن ہاتھوں میں انہوں نے نمائندگی کی بھاگ ڈور تھامی ہے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انصاف نہیں کرپائے۔ جب تک سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈران متفقہ طورپر ایک پلیٹ فارم پر آکر جدوجہد شروع نہیں کرتے، کچھ ملنے کے آثار نہیں۔خطہ چناب اور پیر پنچال آبادی ،ر قبہ ، جغرافیائی محل وقوع اور موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہل ڈولپمنٹ کونسل کے اصل حقدار ہیں۔پیر پنچال اور چناب وسیع علاقہ پر پھیلے ہیں جن کی آبادی بھی لاکھوں میں ہے۔ کئی دشوار گذار علاقے ہیں جوکہ کم سے کم تین ماہ مکمل طور باہری دنیا سے کٹے رہتے ہیں۔خطہ چناب میں ضلع ڈوڈہ 8912مربع کلومیٹرپر پھیلا ہے جس کی کل آبادی سال 2011کی مردم شماری کے مطابق 409,936لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ ڈوڈہ کا انتظامی ڈھانچہ تین سب ڈویژنوں، 17تحصیلوں،17سی ڈی بلاک، 237پنچایتیں اور406گاو¿ں،03میونسپل کمیٹیوں پر مبنی ہے۔ ضلع کشتواڑ 7737مربع کلومیٹر،03سب ڈویژن،11تحصیلیں،13بلاک، 156گاو¿ں، پنچایتیں136، 01میونسپلٹی اور دو اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے۔جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پرواقع ضلع رام بن کی آبادی 283,713لاکھ ہے جوکہ آٹھ تحصیلوں، 116گاو¿ں،124پنچایتیں پر مشتمل ہے اور کل رقبہ 1,329مربع کلومیٹر ہے۔خطہ پیر پنچال میں راجوری ضلع 2630مربع کلومیٹرپر پھیلا ہے۔آبادی 642,416، پانچ سب ڈویژن،13تحصیلیں،19بلاک، 312پنچایتیں اور 390گاو¿ں اور 5میونسپل کمیٹیاں ہیں۔1674مربع کلومیٹررقبہ پر پھیلے پونچھ ضلع کی آبادی 476835لاکھ، سب ڈویژن2، 6تحصیلیں،11نیابتیں،11بلاک،228پنچایتیں،2بلدیاتی ادارے اور 178گاو¿ں ہیں۔