پہاڑی قبیلہ کی طویل جدوجہد کا پہلا مرحلہ کامیاب !

پہاڑی قبیلہ کی طویل جدوجہد کا پہلا مرحلہ کامیاب !
3%ریزرویشن بل کو گورنر کی منظوری
مستحق افراد کی شناخت کے لئے حکومت الگ سے لائحہ عمل کا علان کرے گی
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//گورنر ستیہ پال ملک نے ریاست جموں وکشمیر پہاڑی قبیلہ کو سرکاری ملازمتوں میں تین فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق جموں اینڈ کشمیر ریزرویشن ترمیمی بِل2014 کو منظوری دی ہے۔یہ بل پچھلے گیارہ ماہ سے راج بھون میں گورنر کے دستخط کے لئے التوا میں پڑا تھا۔مجموعی طور راج بھون نے 5برس بعد اس بل پر بالآخر اپنی مہر ثبت کی ہے۔ گورنر ستیہ پال ملک نے بل پر اپنے دستخط کرتے ہوئے کہاکہ اس ترمیم سے پہاڑی طبقے کے لوگوں کا ایک الگ زمرہ تشکیل پائے گا۔پہاڑی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی شناخت کے لئے حکومت الگ سے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔گورنر موصوف کے مطابق دُور دراز علاقوں میں رہایش پذیر ہونے کی وجہ سے پہاڑی طبقے کو سخت اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ وہ سماج کے دیگر طبقوں کے ساتھ سماجی اور اقتصادی سطح پر مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔اس طبقے کو تعلیم اور صحت کی اچھی سہولیات بھی دستیاب نہیں رہتی ہیں۔پہاڑی طبقے کے لوگوں کو سرکاری نوکریوں میں مواقعے فراہم کرنے کے لئے یہ فلاحی قانون بنایا گیا ہے۔اس طرح پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کئی دہائیوں سے پہاڑی قبیلہ کے لوگ ایس ٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جوکہ مرکز کے حد اختیار میں ہے۔ سال 2014کو ، اُس وقت کی نیشنل کانفرنس۔ کانگریس مخلوط حکومت نے پہاڑی قبیلہ کو مرکز سے ایس ٹی درجہ ملنے تک جموں وکشمیر میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیاتھا، اس کےل ئے پانچ فیصد ریزرویشن بل کو قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں پاس کر کے راج بھون منظوری کے لئے بھیجا گیا لیکن گورنر نے اس پر کئی اعتراضات لگائے دیئے تھے جس سے یہ بل تعطل کا شکار رہا ۔ اعتراضات کو دور کرنے کے لئے ریاستی بیکورڈ کلاس کمیشن نے رپورٹ تیار کی جس میں پہاڑی مشاورتی بورڈ کے سابقہ سیکریٹری ڈاکٹر ذاکر حسین جن کے پاس بیکورڈ کلاس کمیشن کا بھی چارج رہا ،کا رول نمایاں رہا۔ بیکورڈ کلاس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں طبقہ کو3فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کی جس کی بنیاد پر فروری2018کو بجٹ اجلاس کے دوران محبوبہ مفتی قیادت والی۔ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت نے پہاڑی قبیلہ کے لئے تین فیصد ریزرویشن بل پاس کیا لیکن پھر سے گورنر این این ووہراہ نے اعتراضات لگائے۔ اُس وقت وزیر قانون وپارلیمانی امور عبدالحق خان نے گورنر کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات کو حل کرنے میں پہاڑی قبیلہ کے دیگر سرکردہ لیڈران کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا۔ اعتراضات کی تفصیلی وضاحت راج بھون روانہ کی گئی لیکن پھر بھی گورنرنے اس پر دستخط نہ کئے۔ بعدازاں ستیہ پال ملک کی بطور گورنر تعیناتی ہوئی ، کئی ماہ تک ان کی نوٹس میں یہ معاملہ لایا ہی نہیں گیا، پھر یکے بعد دیگر پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں سے وابستہ متعدد سنیئرپہاڑی لیڈران نے ستیہ پال ملک سے وفود کی صورت میں ملاقات کی اور انہیں زیر التواریزرویشن بل متعلق بتایاجنہوں نے بالآخر اس پر اپنے دستخط کر دیئے۔ پہاڑی قبیلہ کو یہ ریزرویشن نسلی اور زبان کی خصوصیت ، منفردتہذیب وتمدن ہونے کی صورت میں دی گئی ہے۔ اس طبقے کے لوگ زیادہ تر ریاست کے دور دراز علاقوں میں رہایش پذیر ہیں جن کی سماجی و اقتصادی حالتِ قدرِ کمزور ہے۔ سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ یہ لوگ بااختیار طبقے کے لوگوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ خیال رہے کہ1947کوءجموںوکشمیر کی پہاڑی قبیلہ کے لوگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا۔بٹوارے نے اس بااثر اور طاقتور قوم کو تقسیم کردیا جس کے بعد یہ لوگ جموں وکشمیر ریاست میں آج تک اپنے وجود اور تشخص کے لئے جدوجہد کرتے رہے ۔پہاڑی قبیلہ کی 70فیصد آبادی سرحد کے اُس پار چلی گئی اور 30فیصد جموں وکشمیر میں رہ گئی جس کو اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کے لئے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کرنا پڑی۔ سال 1970ءمیں پہاڑی کلچر اینڈ ویلفیئرفورم کا قیام عمل لاکر جدوجہد کا آغاز ہوا۔علاوہ ازیں مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں کے بینر تلے اجتماعی اور انفرادی طور پر متعدد شخصیات نے قوم کو اپنے کھوئے وجود کو دلانے کیلئے جدوجہد کی اور اقتدار میں آنے والی متعدد حکومتوں سے اپنے اس جائز مطالبہ کو منوانے کی بھر پور کوشش کی۔ قوم کی تعمیر وترقی، فلاح وبہبود اور اس کی تعلیمی، اقتصادی، سماجی وسیاسی بااختیاری کوئی ایک آدمی یا چند افراد نہیں کرسکتے بلکہ اس میں طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا رول ہوتاہے اور ایسا ہی پہاڑی قوم نے کیا ہے جس میں سبھی نے اپنی اپنی حیثیت، طاقت ، استطاعت کے مطابق کام کیا۔ اپنی خدمات انجام دیں۔ آج اگر پہاڑی قوم حکومتی سطح پر کچھ حدتک اپنی پہچان قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے تو اس کا سہرا ہر اس شخص کے سرجاتاہے جس نے بالواسطہ یا بلواسطہ ، ظاہری یاپوشیدہ رہ کر کام کیا ۔ان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجہ میں 20اکتوبر1989کو جموں وکشمیر حکومت کے کابینہ فیصلہ نمبر227بشمول گورنمنٹ آرڈرنمبر1439-GAD/1989بتاریخ26اکتوبر1989کو پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ کے لئے ریاستی مشاورتی بورڈ تشکیل دیاگیا ۔ سال1997کو گورنمنٹ آرڈرنمبر444-GAD/1997کے تحت پہلی مرتبہ سیاسی طور منتخب بورڈ کا قیام عمل میں لایاگیا ۔ریاستی کابینہ نے سال 1989کو کابینہ فیصلہ نمبر159کے تحت مرکزی سرکار سے پہاڑی قبیلہ سمیت 7قبائل کو ایس ٹی کادرجہ دینے کی سفارش کی ۔ 1991میں جب مرکز نے ریاست جموں وکشمیر کے 7قبائل بشمول گوجر بکروالوں کو ایس ٹی کا درجہ دیاتو پہاڑی قبیلہ کو نظر انداز کیاگیا جوکہ سفارش میں پہلے نمبر پر تھے۔14اکتوبر 1991کو اُس وقت کے جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکاری سے پہاڑیوں کے ایس ٹی مطالبہ کو پورا کرنے کی سفارش کی۔ 26دسمبر1993کو جموں وکشمیر کے گورنر کے وی کرشنہ راو¿ نے سرکاری طور مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود سیتا رام کیسری کو مکتوب لکھا جس میں پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کی پرزور سفارش کی۔ نہ صرف ریاستی سطح بلکہ ملکی سطح کے حکمرانوں نے بھی پہاڑی طبقہ کو جائز حق دلانے کا وعدہ کیا ۔ سال 2005کو آئے بھیانک زلزلہ کے وقت جب ،اُس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور اس وقت کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اوڑی کادورہ کیاتوزلزلہ متاثرین پہاڑیوں نے مالی امداد لینے سے انکار کرتے ہوئے مانگ کی کہ انہیں ایس ٹی کا درجہ دیاجائے۔ اس دوران مذکورہ تینوں شخصیات نے طبقہ سے وعدہ کیاتھا۔ سابقہ وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپئی کے دورہ کرناہ کے دوران بھی لوگوں نے یہی مطالبہ دوہرایا جس پر آنجہانی واجپئی نے یقین دلایاکہ ان کے مطالبہ کو پورا کیاجائے گا۔اس ضمن میں واجپئی نے مرکزی وزارت سماجی بہبود کو مکتوب بھی لکھاتھا۔29مئی 2001کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بطور وزیر اعلیٰ دوبارہ سے مرکزی حکومت سے اس کی سفارش کی۔ سال 2004اور2005میں جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی قیاد ت والی ریاستی کابینہ نے مرکز سے ایکبار پھر اس مطالبہ کی سفارش کی۔جموں وکشمیر اسمبلی میںمتفقہ طور قرار داد بھی پاس کی گئی جس میں مرکزی حکومت سے پرزور اپریل کی گئی کہ پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیاجائے۔جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ میں پہاڑی قبیلہ کو ایس ٹی دینے کی بات شامل ہے۔ مرکزی سرکار کی طرف سے مقرر کردہ تین مذاکراتکاروں نے بھی اس مطالبہ کی سفارش کی ۔سال2002میں ڈاکٹرسوشیل کمار اندورہ کی سربراہی والی لیبر اور ویلفیئر پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ جموں وکشمیر میں حدمتارکہ کے نزدیک رہنے والے پہاڑی طبقہ کا طرز زندگی گوجربکروالوں جیسا ہے اور انہیں بھی ایس ٹی درجہ دیاجانا چاہئے۔ سال 2007میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے کہاتھاکہ طبقہ کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کیاجائے۔ سب سے پہلے 1989ءمیں کابینہ آرڈر زیر نمبر 159کے تحت اس وقت کے ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دیگر طبقوں کے ساتھ پہاڑی عوام کو بھی ایس ٹی درجہ دیئے جانے کی مرکز سے پہلی بار سفارش کی ،جس کے بعد ہر گورنر نے اورپھر مفتی محمد سعید ، غلام نبی آزاد اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور آخری مرتبہ محبوبہ مفتی نے بھی مرکز کو سفارش بھیجی ہے۔ اس کے علاوہ کئی وفود جن میں کل جماعتی وفد اور مذاکرات کاروں کی ٹیم قابل ذکر ہیں،نے بھی پہاڑی عوام کو ایس ٹی دینے کی مرکز کو سفارش کی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے پہاڑی طبقہ کی اقتصادی وسماجی صورتحال جاننے کے لئے Socio-Economic Surveyکروایا جس نے بھی طبقہ کے حق میں اپنی مفصل رپورٹ پیش دی ہے، جس رپورٹ کوسابقہ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت نے ریاستی کابینہ میں منظوری دیکر اپنی سفارش کے ساتھ مرکزی حکومت کو بھیجا جہاں STمطالبہ زیرِ غور ہے۔تین فیصد ریزرویشن بل کو پر متعدد پہاڑی لیڈران نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آبادی کے تناسب سے کم سے کم ریزرویشن چھ فیصد ہونی تھی ، خیر جوہوا بہتر ۔انہوں نے امیدظاہر کی ہے کہ ایس ٹی مطالبہ کو بھی مرکز اپنی منظوری دے گی۔