75

’دباڑہ رنگوڑہ ‘ جموں میں جے ڈی اے کی جبری شبانہ انہدامی کارروائی!

’دباڑہ رنگوڑہ ‘ جموں میں جے ڈی اے کی جبری شبانہ انہدامی کارروائی!
ڈیڑھ ماہ سے پچاس مسلم کنبہ جات بے یارومددگار
الطاف حسین جنجوعہ

جموں//سرمائی راجدھانی جموں کے شہر خاص کے تحت آنے والے ’دباڑہ رنگوڑہ ‘علاقہ میں انتظامیہ کے ظلم کا شکار50مسلم کنبہ جات کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔یکم اکتوبر2018کوجموں ڈولپمنٹ اتھارٹی کے افسران نے معہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی بھاری نفری شبانہ کارروائی کے دوران ’دباڑہ رگوڑہ‘ میں 36سے زائد پختہ مکانات پر مشتمل رہائشی کالونی میں انہدامی کارروائی عمل میں لاکر سب کچھ ملیا میٹ کر دیا۔خسرہ نمبر119’دباڑہ رنگوڑہ‘کی یہ رہائشی کالونی پچھلے 18برس سے قائم ہے جہاں پر ملی ٹینسی سے متاثرہ پونچھ، ڈوڈہ، بھدرواہ اور کرگل اضلاع سے آئے لوگوں نے اپنا بسیرہ کیا ہوا تھا۔ ان لوگوں کو انتظامیہ کی طرف سے بنیادی سہولیات جس میں بجلی کنکشن، پانی اور رابطہ سڑ ک وغیرہ فراہم کی گئی تھی۔ متاثرین کا الزام ہے کہ جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی نے یہ انہدامی کارروائی بغیر پیشگی نوٹس یا انتباہ دیئے شبانہ منظم طریقہ سے کارروائی عمل میں لائی جس میں بھاری سیکورٹی فورسز کا استعمال کیاگیا۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے یہ لوگ جس میں بزرگ ، خواتین اور شیر خوار بچے بھی شامل ہیں،کھلے آسمان تلے رہنے پر رہ رہے ہیں۔انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیںلیکن کہیں سنوائی نہیں ہورہی۔متاثرین کی شکایت ہے کہ ریڈکراس سوسائٹی اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے فراہم کی گئی امداد بھی انہیں نہیں دی جارہی۔ ریڈ کراس سوسائٹی نے بیس کے قریب خیمے(ٹینٹ)فراہم کئے تھے لیکن یہ خیمے متاثرین کو لگانے کی اجازت انتظامیہ سے نہیں مل رہی۔ متعلقہ پٹواری ، نائب تحصیلدار، تحصیلدار،ضلع ترقیاتی کمشنر اور صوبائی کمشنر جموں تک اس معاملہ پر بات چیت ہورہی ہے لیکن سیاسی عمل دخل کی وجہ سے متاثرین کی کوئی مدد نہیں ہورہی۔پیر کے روز ’جے اینڈ کے فورم فارم منٹیننگ پیس اینڈ ٹیریٹوریل انٹی گریٹی آف دی سٹیٹ‘نامی تنظیم کے بینرتلے صدر آئی ڈی کھجوریہ کی صدارت میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا۔ فورم جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ جے اے کاظمی نے بتایاکہ ’دباڑہ رنگوڑہ‘جموں کے شہر خاص میں آتا ہے جوکہ جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی کے تحت آتا ہی نہیں۔جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی کی شبانہ کارروائی غیر قانونی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ ایک جمہوری نظام حکومت اور فلاحی ریاست میں بغیر نوٹس دیئے رہائشی کالونی جوکہ 18برس سے قائم ہے ، میں انہدامی کارروائی عمل میں لاناغیر جمہوری، غیر قانونی عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ریڈ کراس سوسائٹی اور کچھ این جی اوز نے بے گھر کنبہ جات کو سرچھپانے کے لئے ٹینٹ اور کچھ ضروری سامان مہیا کیا لیکن محکمہ مال انتظامیہ متاثرین تک یہ سامان نہیں پہنچارہیں۔ان کے مطابق اس کالونی میں بیشتر لوگ ملی ٹینسی متاثرہ ہیں جوکہ نامساعد حالات کے دوران ڈوڈہ، پونچھ، کرگل، راجوری وغیرہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔موصوف نے بتایاکہ اس سلسلہ میں وہ جلد گورنر ستیہ پال ملک سے متاثرین کے ہمراہ ملاقات کریں گے۔فورم عہدادران رکن پارلیمان شیخ عبدالرحمن، صلاحکار پروفیسر ظہور الدین، صدرآئی ڈی کھجوریہ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے گذارش کی ہے کہ متاثرین کو جلد انصاف فراہم کیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں