88

اب تو ڈھیر ہے بارودوں کا

ایم شفیع میر
کیوں یہ خون خرابہ کیوں ؟
انساں خون کا پیاسا کیوں ؟
بچے بوڑھے مردو زن
کیوں ہے پڑے بے گور کفن؟
نیتائوں کی سیاست دیکھو
لڑوائو اور راج کرو
سیاست کو پروان چڑھانے
راکھ کئے کتنے ہی گھرانے
ہنستا بستا گلشن اُجڑا
کون سنے گا اب یہ دکھڑا
آس لگائے تھے جن سے ہم
وہ تحفے میں دیتے ہیں غم
پھولوں کایہ دیس کبھی تھا
اب تو …
ڈھیر ہے بارودوں کا
اٹوٹ انگ نہ کسی کی شہہ رگ
یہ تو اب بس کھیل ہے سیاسی
سیاست کے اس کھیل میں دن بھر
اِدھر سے گولی اُدھر سے پتھر
لاشوں کے انبار ہیں دیکھو
اِدھر بھی دیکھو، پار ہیں دیکھو
سنگ دل سیاسی نیتائوں نے
خون سے کرسی لال کی ہے
جو بیٹھے اس لال گدی پر
خونی اُس کا دل ہوجائے
پھر وہ اپنی سیاست برسوں
خون سے رنگین کرے ہے
کب تک یونہی خون بہے گا
ہم کو یہ بتلائو اب تم
کیوں یہ خون خرابہ کیوں ؟
انساں خون کا پیاسہ کیوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں