48

ڈوڈہ میں بھی ملٹی پرپز ہیلتھ ورکرز کا احتجاج

محمد اصغر بٹ
ڈوڈہ//ریاست جموں و کشمیر کے دیگر حصّوں کی طرح ہی فیمیل ملٹی پرپز ملازمین نے ضلع صدر مقام ڈوڈہ احاطہ او.پی.ڈی ضلع ہسپتال ڈوڈہ میں زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا واضح رہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن سے وابستہ (ایف.ایم.پی.ایچ.ڈبلیو )ورکرس گزشتہ دو ماہ سے احتجاج پر ہیں آج احتجاج میں اْس وقت شدت آئی جب تمام متعلقہ ملازمین نے ہسپتال کے او.پی.ڈی کے کام کاج کو چھوڑ کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے دور افتادہ علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ضلع کا طبی نظام بْری طرح درہم برہم ہو کر رہ گیا جموں و کشمیر فیمیل ملٹی پرپز ہیلتھ ایسوسیشن ضلع اکائی ڈوڈہ کی ترجمان شکونتلا دیوی نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 53 یوم سے وہ ہڑتال پر ہیں مگر انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی نمائندہ ہماری مشکلات مطالبات کو سننے نہیں آیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سرکار کس طرح ہمارے مسائل کو لے کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ایک طرف جہاں ،،بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ،،کا دعویٰ کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب دو ماہ سے احتجاج پر بیٹھی خواتین ملازمین کی خیر سگالی کرنے کوئی نہ آیا ہے جو قابل افسوس ہے اْنہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے ورنہ وہ احتجاج میں مزید شدت لائیں گی اور تمام طبی سنٹروں کو بند کرکے احتجاج کریں گی چونکہ ہمیں سڑکوں پر نکلنے کے لئے ہمیشہ مجبور کیا جاتا ہے چھ ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم نے جہاں سے ملازمت شروع کی ہے وہاں پر ہی سبکدوش کر دیا جاتا ہے اس لئے ہماری ترقی کی جائے،اس کے علاوہ تنخواہ کو ڈی۔لنک کیا جائے، ایف. ایم. پی. ایچ. ڈبلیو کی گزشتہ پانچ برسوں سے بند پڑی ڈی. پی. سی کو لاگؤ کیا جائے، مذکورہ آسامی کے تحت بھرتی ملازمین کو ترقی دی جائے، نئے پبلک ہیلتھ سنٹروں میں تعیناتی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر 24 اکتوبر کو کشمیر چلو کال پر عمل کیا جائے گا جس کے بعد کی تمام صورت حال کے لئے سرکار ذمہ دار ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں