بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کوجیت کے لئے’مودی بیساکھی ‘کاسہارا

بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کوجیت کے لئے’مودی بیساکھی ‘کاسہارا
بھاجپااعتمادیت کے بحران کاشکار
تین سالہ مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے انتخابی مہم کے دوران عوامی غیض وغضب کا سامنا
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//تین سالہ اقتدار کے دوران عوامی مسائل ومشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکام رہنے پر عوامی غیض وغضب کا سامنا کر رہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو اب کی بار بھی یہ امید ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں وہ ’مودی کرشمہ‘سے کامیابی حاصل کرلیں گے۔ بیشترامیدوار ’مودی بیساکھی‘کا سہارا لیکر ہی اپنے کشتی پار لگانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔کوئی قابل ذکر رپورٹ کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے اکثریتی امیدوار اپنے انتخابی منشورمرکزی سرکار کی طرف سے چلائی جارہی فلاحی اسکیموں کی لمبی چوڑی تفصیل شامل کی ہے اور چناو¿ مہم میں صرف مودی کے ہی گن گائے جارہے ہیں ۔اگر چہ جموں میونسپل کارپوریشن ودیگر میونسپل کمیٹیوں سے بی جے پی نے بیشتر نوجوانوں اور خواتین امیدواروں کو میدان میں اُتارا ہے تاہم بیشتر ’ اعتمادیت کے بحران ‘کا شکار ہیں کیونکہ ان کے عوامی نمائندے(اراکین اسمبلی)لوگوں کی دیرینہ مانگوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق گھر گھر انتخابی مہم کے دوران بی جے پی امیدواروں کو لوگوں سے کھری کھوٹی سننے کو مل رہی ہے کیونکہ اکثریتی رائے دہندگان بی جے پی لیجسلیچرز کی ناقص کارکردگی سے مایوسی کیونکہ وہ بجلی، پانی اور سڑک مسائل کو بھی حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جموں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلہ جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی اور چوہدری لال سنگھ کی طرف سے بنائی گئی’ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن‘سے وابستہ امیدواروں کو کافی حمایت ملتی نظر آرہی ہے۔نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بائیکاٹ ہونے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے ہی مضبوط قلعہ میں جیت کے لئے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم پربھی بھاجپا ورکروں میں کافی مایوسی پائی جارہی ہے ۔ بیشتر ورکروں کی شکایت ہے کہ مستحقین کو نظر انداز کیاگیاہے ۔جموں میونسپل کارپوریشن میں45کے قریب بھاجپا ورکر جنہیں ٹکٹ نہیں ملی ، وہ اپنی ہی پارٹی کے نامزد امیدواروں کے خلاف بطور آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہیں اندرونی خلفشار اور رسہ کشی کا شکار کانگریس متحد چہرہ عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بی جے پی کو مات دی جائے مگر اس کو بھی متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ متعدد پارٹی امیدوار جنہیں ٹکٹیں نہیں دی گئیں وہ پارٹی امیدوار کے خلاف ہی بطور آزاد بلدیاتی چناو¿ لڑ رہے ہیں۔ جموں میونسپل کارپوریشن کے متعدد وارڈوں کا دورہ کرنے اور لوگوں کی رائے جاننے سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ سنیئر بھاجپا لیڈران کے تئیں لوگوں میں کتنا غصہ ہے جوکہ پارٹی کو ہی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے لئے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے سینکڑوں پروجیکٹوں کی منظوری اور فراخدلانہ امداد ملنے کے باوجود بی جے پی۔ پی ڈی پی مخلوط حکومت جموں کے بڑے پروجیکٹوں پر کام شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جموں کے بیشتر ووٹروں کو اہم پروجیکٹ انگلیوں پر یاد ہیں، جن کا الزام ہے کہ جموں خطہ سے بی جے پی 25نشستیںجیتنے ، حکومت میں برابری کا حصہ ہونے کے باوجود بہتر سڑکیں، بلاخلل بجلی اور پانی سپلائی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی۔رائے دہندگان کا الزام ہے کہ بھاجپا وزراءجموں کو آزاد سیاحتی مرکز کے طور ترقی دینے میں ناکام رہے ہیں۔مقامی شہریوں کا دعویٰ ہے کہ متعدد پروجیکٹ جیسے کہ پیرکھو۔بہو فورٹ گنڈولہ پر کام شروع نہ کیاگیا، ایمز(AIIMS)کی تعمیر کا کام بھی شروع ہونا باقی ہے۔اب تک صرف محکمہ صحت وطبی تعلیم کے حکام کے حوالہ ایمز کی تعمیر کے لئے شناخت اراضی حوالہ کی گئی ہے۔ رائے دہندگان کا الزام ہے کہ وہ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ سامبر متی ریور فرنٹ ڈولپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت(MOU)پردستخط کرنے کے باوجود جموں ڈولپمنٹ اتھارٹی توی دریا فرنٹ کو ترقی دینے پر کام شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی طرح 70کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد منصوعی توی جھیل پروجیکٹ کا کام رکا پڑا ہے۔جموں ائرپورٹ توسیع منصوبہ بھی لٹکا ہواہے۔ تاریخی مبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کے تحفظ وترقی پر ترجیحی نہیں دی جارہی ۔بی جے پی ریاستی اکائی میں اندرونی لڑائی اور موجودہ بی جے پی لیجسلیچرز کی ناقص کارکردگی سے وہ سنیئرلیڈران جنہیں انتخابی مہم کو منظم کرنے کا کام سونپا گیا ہے ، وہ پریشان حال ہیں۔بلدیاتی انتخابات پر قریبی نگاہ رکھنے والے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان چناو¿ میں بی جے پی کا بہت کچھ داو¿ پر لگاہے۔ یہ نتائج ریاست میں آنے والے چناو¿ کے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر بی جے پی نے میونسپل چناو¿ میں اچھی کارکردگی دکھائی تو پارٹی ہائی کمان جس کے ہاتھ میں اس وقت مرکزی سرکار کی کمان ہے، وہ ریاست میں اسمبلی اور لوک سبھاچناو¿ کا بگل بجاسکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان چناو¿ میں ناکام رہنے پر بھاجپا لیڈر شپ اسمبلی انتخابات میں تاخیر کرسکتی ہے اور گورنر انتظامیہ کو ریاست کے تینوں خطوں میں بڑے ٹکٹ پروجیکٹوں کی تکمیل کے لئے مزید وقت دیاجائے گا۔