150

!اب پی ڈی پی بھی دہلی کےلئے با اعتماد نہیں رہی:سیاسی مبصرین

ریاست میں تھرڈ فرنٹ کی درپردہ کوششیں!اب پی ڈی پی بھی دہلی کےلئے با اعتماد نہیں رہی:سیاسی مبصرین
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//جموں وکشمیر ریاست خاص طور سے کشمیر کے اندر علاقائی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک کو مبینہ طور توڑنے کے لئے ’تھرڈ فرنٹ ‘کی شکل میں نیا متبادل تیار کرنے کے لئے درپردہ کوششیں تیزی سے جاری ہیں تاکہ اقتدار کے مرکز کی کشمیر سے جموں منتقلی یقینی بنائی جائے۔باوثوق ذرائع نے اُڑان کو بتایاکہ باغی ممبران کے ساتھ حکومت سازی اور جوڑ توڑ سے متعلق جو خبریں سیاسی وعوامی حلقوں میں گردش کر رہی ہیں، اس کے درپردہ زیادہ توجہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئے ایک مضبوط ’تھرڈ فرنٹ‘کو کھڑا کرنے پر مرکوزہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک تیر سے دو نشانے لگانے کے لئے منصوبہ بند طریقہ سے کام کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اول یہ کہ بی جے پی حتی المکان کوشش کررہی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے باغی ممبران کی حمایت حاصل کر کے جموں وکشمیر میں’ہندو وزیر اعلیٰ‘کے ساتھ حکومت تشکیل دی جائے جس کوپارٹی لوک سبھا انتخابات 2019میں زبردست ’الیکشن کارڈ ‘کے طور استعمال کریگی لیکن سخت دل بدلی قانون موجود ہونے کی وجہ سے ایسا ہونے کے امکانات زیادہ نہیں دکھائی دے رہے۔ دوئم مرکزی قیادت والی بھاجپاکی یہ بھی کوشش ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کشمیر کے اندر تھرڈ فرنٹ کی صورت میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے اپنی حکومت جموں وکشمیر کے اندر بنائی جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تین برس تک اقتدار میں رہنے کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت یہ اچھی طرح سے سمجھ گئی ہے کہ جب تلک ان کی زیر قیادت والی حکومت جموں وکشمیر کے اندر نہیں ہوگی ، تب تلک دفعہ370اور35-Aکی منسوخی کے لئے وہ کچھ نہیں کرسکتے، اسی لئے اب یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اپنے دم پرحکومت ریاست میں قائم کی جائے ۔ اقتدار کا مرکز”Power Of centre“کی کشمیر سے جموں منتقلی کے لئے پارٹی ہرممکن کوشاں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاجپا قومی صدر امت شاہ نے گذشتہ ماہ دورہِ ریاست کے دوران اس حوالہ سے اپنی پارٹی ریاستی قیادت کو مناسب ہدایات جاری کی ہیں جن کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے پچھلے چند دنوں سے پارٹی کے قومی نائب صدراور جموں وکشمیر میں امور انچارج اویناش رائے کھنہ جموں میں خیمہ زن ہیں جوکہ پارٹی لیڈران کے ساتھ میٹنگیں منعقد کر کے مکمل ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھاجپا کافی پرجوش دکھائی دے رہی ہے ،اویناش رائے کھنہ نے گذشتہ دعویٰ کیا ہے کہ پنچایت سے لیکر پارلیمنٹ تک جموں وکشمیرمیں کلین سویپ کریں گے۔ موصوف کا یہ دعویٰ یوں ہی نہیں بلکہ کافی اعدادوشمار، حساب وکتاب اور منظم حکومت عملی سے اخز نتائج کے بعد ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں صوبہ میں اتنا زیادہ نقصان نہیں ہونے والا ، جن حلقوں میں اس مرتبہ اس کو اپنی نیا ڈگمگاتی دکھائی دے رہی ہے وہاں پر جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کا ارادہ ہے تاکہ بعد میں اس پارٹی کی بھی حمایت حاصل کر کے جموں سے وزیر اعلیٰ بنانے کے خواب کی تکمیل کی جاسکے۔کشمیر کی سیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 19جون2000کو بلائے گئے خصوصی اجلاس کے آخری روز یعنی26جون2000کو نیشنل کانفرنس قیادت والی حکومت نے اسمبلی میں جموں وکشمیر کو اندرونی خود مختیاری دینے کے لئے جوقرار داد پاس کی تھی وہ ، ریاست کے اندر کسی بھی جماعت کے اکثریت حاصل نہ کرنے کا موجب بنی۔اٹانومی کی قرار داد پاس کرنا وہ غلطی تھی جس کی وجہ سے پھر نیشنل کانفرنس کبھی اقتدار میں نہ آسکی اور یہی پی ڈی پی کی صورت میں متبادل علاقائی سیاسی جماعت بننے کی وجہ بھی بنی۔ مبصرین کا مانناہے کہ سال 2015میں پی ڈی پی کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کو اُمید تھی کہ وہ جموں وکشمیر ریاست سے متعلق اپنے اہداف کی تکمیل کو یقینی بنائے گی جس میں سے بیشتر پورے نہ ہوسکے۔ البتہ اتنا فائیدہ ضرور ہوا کہ کشمیر کے کونے کونے تک بی جے پی کی رسائی ممکن ہوسکی۔ اب دہلی کو یہ محسوس ہوگیاکہ نیشنل کانفرنس کی طرح پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر بھی زیادہ اعتبار نہیں کیاجاسکتا، اب تیسرے فرنٹ کے لئے تیاریاں تیز کی گئی ہیں جس کی کامیابی کے لئے منہ مانگی قیمت بھی ادا کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب دہلی کی پوری توجہ اس بات پرمرکوز ہے کہ ’اقتدار کا محور ‘پاور سینٹر کی کشمیر سے جموں منتقلی کی جائے ، تبھی جاکر بہت سے اہداف کی حصولی ممکن ہوسکتی ہے۔ریاست کے سیاسی حالات پر گہری نگا ہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمر عبداللہ نے بھی گذشتہ روز ایک بیان میںتھرڈ فرنٹ کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اگر چہ یہ بات کہی کہ وہ تھرڈ فرنٹ، فورتھ فرنٹ یا کسی اور فرنٹ سے ڈرتے نہیں، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے ، شیر کشمیر نے بڑے بڑے فرنٹوں کا مقابلہ کیا، ان کی طاقت کا سرچشمہ ریاستی عوام ہیں لیکن حالات پر گہری نظر رکھنے والا ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ جموں وکشمیر میں وزارت ِداخلہ امور اور ’ڈیپ سٹیٹ ‘کی مرضی کے بنا پتہ بھی نہیں ہلتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں