129

اجتماعی شادی کی مثالی تقریب

اجتماعی شادی کی مثالی تقریب
سماج میں مثبت تبدیلی لانے کی کامیاب کوشش،105جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک
اڑان نیوز
سرینگر//سرزمین کشمیرپرتیزی کیساتھ پھیل رہی سماجی برائیوں کے چلتے ایک غیرسرکاری انجمن نے سماج کومثبت طوربدلنے کی ایک کامیاب کوشش کرتے ہوئے شاد ی کی ایک پُروقاراجتماعی تقریب کااہتمام کیا،جس دوران بیک وقت105جوڑے رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔شہرمیں واقع امرسنگھ کلب اُسوقت ایک تاریخ سازعمل کاگواہ بن گیاجب یہاں شادی کی ایک ایسی منفرداورمثالی تقریب کااہتمام کیاگیا،جس دوران ایک سوسے زیادہ جوڑے بیک وقت رشتہ ازدواج میں بند ھ گئے ۔جموں وکشمیرجعفریہ کونسل کے زیراہتمام شادی کی اس اجتماعی تقریب کے دوران سبھی دولہے اوردُلہنیں ایک ہی قسم کالباس زیب تن کئے ہوئے تھے ،اورسماج کوبدلنے نکلے ان نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کے چہرے حشاش بشاش تھے جویہ ظاہرکررہے تھے کہ اُنھیں اپنے اس عمل پرفخرہورہاہے ۔شادی کی اس اجتماعی تقریب کے منتظمین کاکہناتھاکہ وہ اسے پہلے بھی اسی طرح شادی کی اجتماعی تقاریب کااہتمام کرچکے ہیں ۔ اتوارکے دن جب شادی کی یہ منفردتقریب ہورہی تھی توامرسنگھ کلب کھچاکھچ بھراہواتھاکیونکہ 105دولہے ،اتنی ہی تعدادمیں دولہنیں ،اُنکے رشتہ دار،اس تقریب کیلئے عطیات دینے والے اوردوسرے لوگ بھی بڑی تعدادمیں یہاں موجودتھے ۔جموں وکشمیرجعفریہ کونسل کے جنرل سیکرٹری اوراس تاریخی تقریب کے ایک اہم منتظم غلام رسول چکن نے یہاں موجودنامہ نگاروں کوبتایاکہ ایسی تقاریب کے کئی مقاصدہوتے ہیں ،
اولاًیہ کہ شادی کی آڑمیں کاروبار،نمودونمائش،دکھاوئے اوربے پناہ فضول خرچیوں پرلگام کسی جائے اوردوئم یہ کہ جووالدین اپنی بیٹیوں کے شادی کاخرچہ برداشت نہیں کرسکتے ،وہ اپنی بیٹیوں کوبہت ہی کم خرچے پرخوشی خوشی وداع کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسی تقریبات سے ہماری نوجوان نسل میں سماجی معاملات ومسائل کے تئیں مثبت رُجحان پیداہوجائیگا۔ غلام رسول چکن کاکہناتھاکہ اسے پہلے جعفریہ کونسل کے زیراہتمام سال2015،2016اور2017میں بھی شادی کی اجتماعی تقاریب کااہتمام کرچکے ہیں ،اورتب بالترتیب38،70اور75نوجوان جوڑے بیک وقت رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تھے ،اوروہ سبھی جوڑے خوشی خوشی اپنی زندگیوں کوآگے لے جارہے ہیں ۔انہوں نے آج امرسنگھ کلب میں منعقدہ شادی کی اس آج تک کی سب سے بڑی اجتماعی تقریب کے دوران جونوجوان لڑکے ولڑکیاں رشتہ ازدواج میں بندھنے جارہے ہیں ،اُن کاتعلق شمالی کشمیرکے مختلف علاقوں اورسری نگرسے ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی کی خواہش ظاہرکرنے کیلئے ہمارے پاس آکراپنانام رجسٹرکرواتے ہیں توہماری ٹیمیں دونوں کے گھرجاکراُن کے والدین سے بات کرتے ہیں تاکہ تسلی ہوجائے کہ کچھ غلط یاخلاف قانون نہیں ہورہاہے۔جموں وکشمیرجعفریہ کونسل کے ذمہ دارنے مزیدکہاکہ ایسی تقاریب کیلئے صاحب ثروت اوردینداراشخاص دل کھول چندہ دیتے ہیں یاکہ نقدوسامان بطورعطیات پیش کرتے ہیں ،اوریہ ساراسامان ان جوڑوں کوفراہم کیاجاتاہے تاکہ وہ اپناگھروباربغیرکسی پریشانی کے استوارکرسکیں ۔(بشمولات کے این این)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں