120

ملازمین کی مخاصمت اورحکومت کی مجرمانہ خاموشی!

ملازمین کی مخاصمت اورحکومت کی مجرمانہ خاموشی!
جمہوری نظام ِحکومت میں’ایگزیکٹیو ‘ایک اہم ترین ستون ہوتا ہے جس کے ذریعہ ہی عملی طور سبھی کام کئے جاتے ہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ کرنے اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میںملازمین ریڑھ کی ہڈی کی ماند ہیں۔ایگزیکٹیو یعنی انتظامیہ کو چلانے والے افراد کی بھی مشکلات ومسائل ہوتے ہیں، اسی لئے انہیں بھی جمہوری نظام حکومت میں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کریں، دھرنا دیں، پریس کانفرنس دیں یا اخبارات میں بیانات دیں لیکن جموں وکشمیر ریاست جہاں روزگار کا زیادہ تر انحصار سرکاری ملازمتوں پر ہی ہے، میں سرکاری ملازمین مذکورہ حق کا کچھ زیادہ ہی استعمال کرتے ہیں۔سرمائی راجدھانی جموں اور گرمائی دارالحکومت سرینگر میں شاہد ہی سال کے اندر کوئی دن ایسا خالی ہوتاہے جب کسی نہ کسی سرکاری محکمہ کے ملازمین احتجاج نہ کرتے ہوں، دھرنے پر نہ ہوں۔ریاست میں سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین کی ایسو سی ایشن، یونینز، آرگنائزیشن ، فورم اور فیڈریشنیں ہیں، جن کی طرف سے آئے روز احتجاجی کلینڈرجاری کئے جاتے ہیں۔آپ چاہئے ٹیلی ویژن پر خبریں دیکھو، سوشل میڈیا پر دیکھو یا پھر اخبارات پڑھو۔ روزانہ آپ کو ہڑتال کال، قلم چھوڑ ہڑتال، تالابند ہڑتال،سیکریٹریٹ چلو،جموں چلو، کشمیر چلو، اُدھر چلو، اِدھر چلووغیرہ کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ پھر طرح طرح کی دھمکیاں بھی دی گئی ہوتی ہیں، اگر سرکار نے یہ نہیں کیا تو ہم پانی بند کر دیں گے، بجلی لائن بند کردیں گے، پڑھائیں گے نہیں، سکول بند کر دیں گے، دفتر میں جانے نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ہماری ریاست میں یہ بھی ایک روایت بن گئی ہے کہ چاہئے چھ ماہ کے لئے جموں یا پھر سرینگر میںسیکریٹریٹ دفاتر کھلنے ہوں، اُس روز سرکاری ملازمین کی متعدد تنظیمیں متفقہ طور پر سرکار کا استقبال احتجاجی مظاہروں، ریلیوں سے کرتے ہیں۔ سیکریٹریٹ گھیراو¿ کال وغیرہ وغیرہ۔ان ملازمین وافسران کو عام لوگوں کی مشکلات ومسائل حل کرنے، انہیں خدمات بہم پہنچانے کے لئے نوکریاں ملی تھیں لیکن عام لوگوں کی مشکلات سے زیادہ ان ملازمین کو ہمہ وقت صرف اپنی فلاح وبہبودی، پرموشن،الائنسز،مراعات ، رعایت کی ہی فکر ستاتی رہتی ہے۔اُس غریب شخص کا کیا قصور ہے جوکئی کلومیٹر پیدل چل کر تحصیل وضلع صدر مقامات پر اپنی مشکل لیکر پہنچتا ہے تو آگے اس کو پتہ چلتا ہے کہ آج سوشل ویلفیئر محکمہ کے ملازمین ہڑتال پر ہیں، محکمہ مال ملازمین دھرنے پر ہیں، محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین نے کام چھوڑ ہڑتال کی ہے۔اس شخص پر کیا بیتی ہوگی، اس کی کیا یہ غلطی ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرتا ہے، اس کے ٹیکس سے ایک یہ ملازمین تنخواہ بھی حاصل کریں اورپھر اس کے مسائل بھی حل نہ کریں۔سرکاری ملازمین کی طرف سے ٹریڈ یونین بنانے پر دی گئی کھلی چھوٹ، ہمارے نظام کی بہت بڑی خرابی ہے۔ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ عام آدمی سخت پریشان حال ہے۔اہم ترین محکمہ جات بجلی ، پانی، دیہی ترقی، اسکول، صحت، سماجی بہبود، مال وغیرہ ہڑتال پر چلے جاتے ہیں جس سے لوگ گوناگوں مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کے لئے حکومت بھی برابر کی ذمہ دار ہے ۔اگر ملازمین کوئی احتجاجی مظاہرہ، دھرنا دیتے ہیں یا کوئی مطالبہ کرتے ہیں توفوری طور پر حکومت کے ترجمان کی طرف سے بیان جاری کرکے وضاحت کردینی چاہئے یہ مطالبہ جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو اس کو کب تک پورا کیاجائےگا اور پورا کرنے میں کیا کیا مشکلات ولوازمات ہیں۔حالت یہ ہے کہ سینکڑوں دن لگاتار احتجاج کر کے ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔ گذشتہ روز ہی محکمہ سماجی بہبود کی آنگن واڑی اور ہلپروں نے اپنے احتجاج کے100دن پورے کئے۔ یہ کیا اندھیر گردی اور ظلم وستم ہے۔ایک عام شخص آخر سوالی ہے کہ اس کو اس ناکردہ گناہ کی سزا دی جاتی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ سرکاری سطح پر ایک شعبہ یا سیل قائم کیاجائے جس کا کام صرف یہ ہوکہ ریاست بھر میں کہیں بھی کسی بھی سرکاری محکمہ کا ملازم ہڑتال کرے یا کوئی مطالبات کرے تو اس کوحکومت کی نوٹس میں لایاجائے، ان مطالبات بارے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام سے تفصیلات جمع کر کے ایک سرکاری بیان جاری کیاجائے تاکہ عام لوگوں کو پتہ چل سکے اور یہ ملازمین لوگوں کو بیوقوف بناکر آئے روز ہڑتال کا رُخ اختیار نہ کریں۔حکومت کا ساتھ ہی ٹریڈ یونین پرCheck and Balanceبھی رکھنا چاہئے کہ وہ غیر ضروری طور احتجاجی راستہ اختیار کے عام لوگوں کو پریشان نہ کریں۔ اس وقت ریاست میں ملازمین نے جوصورتحال پیدا کی ہے اس کے تئیں حکومت کا رویہ مجرمانہ خاموشی کے مترادف ہے ۔ سرکار اخلاقی، آئینی اور قانونی طور پر اس کے لئے عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں