141

یٰسین ملک کنگن میں گرفتار

سرینگر// لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یٰسین ملک کو پولیس نے کنگن میںگرفتار کرلیا ۔تاہم اس سے قبل چھترگل کنگن میں لوگوں سے خطاب کے دوران یٰسین ملک نے الزام عائد کیا کہ بھارت اور اسکے مقامی آلہ کار عرصہ دراز سے اور مسلسل کشمیریوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مکانیت کو مسدود کرک اور سیاسی قائدین و اراکین کو جیلوں اور زندان خانوں میں ڈال کر حکمران اور انکی پولیس و انتظامیہ دراصل کشمیری کو پشت بہ دیوار کررہے ہیں اور یوں تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو منگلوار کے روز کنگن میں گرفتار کرلیا گیا ، جہاں وہ حال ہی میں جاں بحق کئے گئے معصومین عامر حمید لون اور گوہر احمد راتھرکے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کیلئے گئے تھے۔بیان کے مطابق ملک یٰسین آج علی الصبح پولیس اور فورسز کی رکاوٹوں اور سختیوں کو درکنار کرتے ہوئے نیزکسی پیشگی اعلان کے بغیر چھترگل کنگن پہنچے ۔یہاں انہوں نے حال ہی میں جاں بحق کئے گئے معصوم عامر حمید لون کے گھر جاکر ان کے لواحقین کے ساتھ ملاقات کی اور وہاں منعقدہ تعزیتی جلسے میں بھی شرکت کی اور لوگوں سے خطاب بھی کیا۔ اس پرامن پروگرام کے اختتام پر یٰسین ملک گوہر احمد راتھر کے گھر کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں پولیس کی بھاری جمعیت نے انکا راستہ روک لیا اور انہیں زونل آرگنائزر بشیر احمد کشمیری کے ہمراہ گرفتار کرلیا ۔ اس سے قبل یٰسین ملک نے چھترگل میں تعزیتی جلسے سے خطاب کے دوران معصوم عامر حمید لون، گوہر احمد راتھر اور دوسرے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ’’ کشمیریوں کے جگر گوشے اور کھلتے پھول بھارتی ظالموں کی جانب سے پائوں تلے روندھے جارہے ہیںاور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو اس قتل و غارت اور انسانی المیے پر کوئی غم یا کوئی ندامت تک محسوس نہیں ہورہی‘‘۔ انہوں نے کہا’’ اگرچہ بھارت کے فوجی اور فورسز اس قتل و غارت اور نسل کشی میں براہ راست شریک ہیں لیکن اس کی ذمہ داری براہ راست اُن بھارت نواز سیاست کاروں اور جماعتوں کے سر بھی عائد ہے جو الیکشن آتے ہی کشمیریوں سے ووٹ لینے پہنچ جاتے ہیںاور اقتدار میں آتے ہی کشمیریوں کے بچوں اور جوانوں کو تہہ تیغ کرنے اور کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات جاری کرتے رہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ انہی ہند نواز سیاست کاروں جن میں یہاں کی سبھی جماعتیںشامل ہیں نے حال ہی میں کٹھوعہ کی معصوم بچی آصفہ کی بے حرمتی اور بہیمانہ قتل کرنے والوں کے حق میں مظاہروں میں شرکت کی لیکن حالات بدلتے ہی انہوں نے رنگ بدل کر اب شمعیں اور مشعل لے کر مظلوم آصفہ کے حق احتجاج شروع کررکھا ہے‘‘۔انہوں نے ’’ کشمیرمیں نہ رکنے والا قتل و غارت اور نسل کشی ہو کہ آصفہ واقعہ ‘ سبھی معاملات نے ہند نوازوں کی اصلیت کو عیاں و بیان کردیا ہے‘‘۔چیئرمین جے کے ایل ایف نے کہا ’’ بھارت اور اسکے ریاستی گماشتے عرصہ دراز سے اور مسلسل کشمیریوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔کشمیریوں کو تقسیم کرنے اوراس تقسیم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کرکے یہ لوگ دراصل کشمیر میں بھارتی مفادات کی رکھوالی چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ ہمیں مذہب، مسلک، علاقے اور زبان و نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے درپے رہتے ہیں اوراس کی ایک کھلی مثال ہمیں کنگن کے علاقے میں ہی ملتی ہے جہاں لوگوں کو کشمیری اور گجر نام سے تقسیم کرکے الیکشن کی جانب مائل کیا جاتا رہا ہے تاکہ ظالموں402____//

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں