آسیہ اندرابی کے بیان سے ملک کے مسلمانوں کو اتفاق نہیں آصفہ کیس ریاستی حکومت کی سفارش کے بغیر سی بی آئی کے حوالے نہیں کیا جاسکتا: ڈاکٹر جتندر سنگھ

یو این آئی
جموں//وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ملک کا کوئی مسلمان دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے بیان سے اتفاق نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ اشتعال بیان بازی کا نوٹس لیتا ہے اور صحیح وقت پر صحیح کارروائی کی جاتی ہے۔ جتیندر سنگھ ہفتہ کو یہاں نامہ نگاروں کی جانب سے دختران ملت کی سربراہ کے بیان سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا ”وہ محترمہ جو کہتی ہیں، اس کے ساتھ ملک کے مسلمان اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ ملک کا کوئی مسلمان نہیں کہتا کہ وہ ہندوستانی نہیں ہے“۔ قابلِ ذکر ہے کہ دختران ملت کی طرف سے جمعہ کے روز سری نگر میں یوم پاکستان کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف پاکستان کا قومی ترانہ ’پاک سرزمین‘ گایا گیا بلکہ پاکستان پرچم لہرانے کے علاوہ پاکستان کی تعریف میں نغمے بھی گائے گئے۔ نامعلوم جگہ پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کا ہر ایک مسلمان پاکستانی ہے اور دو قومی نظریے کی بنیاد پر جموں وکشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ تاہم ریاستی پولیس نے دختران ملت کی تقریب کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تنظیم کے خلاف پولیس تھانہ صورہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اشتعال انگیز بیان بازی کے مرتکب لوگوں کے خلاف صحیح وقت پر صحیح کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ایسی اشتعال انگیز بیان بازی کرتا ہے تو وزارت داخلہ اس کا نوٹس لیتا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ”جس طرح ہماری سرکار میں علیحدگی پسندوں کے خلاف این آئی اے کاروائی کی گئی، ایسی کاروائی گذشتہ پچیس تیس برسوں میں کبھی نہیں کی گئی۔ آسیہ اندرابی کیا، بڑے بڑے اندرابی تہاڑ جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔“۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاو¿ں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ کی تحقیقات کو سی بی آئی کو سونپنے کے کچھ تنظیموں کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی سفارش کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واقعہ کی انکوائری سی بی آئی سے کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ”سی بی آئی انکوائری تب ہوگی جب ریاستی حکومت اس کی سفارش اور تجویز پیش کرے گی۔ ہمیں سی بی آئی انکوائری کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انکوائری منصفانہ ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ سی بی آئی کو واقعہ کی انکوائری حوالے کی جائے گی اور وہ ایک فریق کی طرفداری کرے گا ۔ اگر لوگوں کو تحقیقاتی ایجنسی (کرائم برانچ) پر کوئی شبہ ہے تو تحقیقاتی ٹیم میں مزید لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے“۔ انہوں نے مزید کہا’ ’ہم نے ریاستی سرکار سے کہا ہے کہ مشتبہ لوگوں سے پوچھ گچھ بنا کسی ہراسانی کے کی جائے۔ کسی شخص سے پوچھ گچھ کرنا مطلوب ہو تو ایک ڈیڑھ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد اسے اپنے گھر جانے کی اجازت دی جائے۔ بلا وجہ کسی کو حراست میں رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر نابالغوں سے پوچھ گچھ کرنا مطلوب ہو، تو والدین کی موجودگی میں کی جائے“۔ کٹھوعہ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے ایک مخصوص طبقہ کے مطالبے کو منوانے کے لئے معرض وجود میں آنے والی ہندو ایکتا منچ نے کیس کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کے سپرد کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ایک ملزم ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ماہ ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ایجی ٹیشن کررہی ہے۔ یہ تنظیم کٹھوعہ میں ریلیاں نکالنے کے علاوہ ہڑتال بھی کرا رہی ہے۔ ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی (کرائم برانچ پولیس) ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں کرائم برانچ کے تحقیقاتی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیکر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں اور اس کے لئے ایجی ٹیشن کررہی ہیں۔ انہیں ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاو¿ں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔