ملک میں گذشتہ 22 برسوں میں 12 لاکھ کسانوں نے خود کشی کی مسائل کے حل کیلئے عدمِ تشدد کی راہ زیادہ طاقتور:اناہزارے ہندوپاک کے مابین لڑائی دونوں کے لئے ٹھیک نہیں،20 برس پچھلے چلے جائیں گے

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//ہندوستان میں بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے 80 سالہ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے ، انٹرنیشنل انٹی کرپشن اینڈ ہیومن رائٹس کونسل چیئرپرسن منجوت سنگھ کوہلی کی دعوت پردسہرا گراو¿نڈ جموں میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 23مارچ 2017کوجن لوک پال اور کسانوں کے مسئلہ پر نئی دہلی میں ہونے والی ایجی ٹیشن کا حصہ بنیں۔اناہزارے یا ریاست کا یہ اب تک کاپہلا دور ہ ہے۔انا ہزارے نے اپنے خطاب میں ملک کی موجودہ حالات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بارے بھی بات کی۔جموں وکشمیر میں سرحدوں پر پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال بارے انہوں نے کہاکہ جنگ دونوں میں سے کسی بھی ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’کب تک ہمارے جوان مارے جائیں گے؟ اپنے گھر کا کوئی مرجاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دکھ کیا چیز ہوتی ہے۔ لڑائی کرنا دونوں ملکوں کے لئے ٹھیک نہیں ہے، ہم لوگ بیس سال پیچھے چلے جائیں گے، لیکن اگر پاکستان نہیں مانتا ہے، تب تو کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے“۔ انہوں نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو مشورہ دیاکہ وہ لاٹھی اور بندوق کی بجائے پرامن راہ اختیار کریں،اس سے ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عدم تشدد زیادہ طاقتوار طریقہ ہے ،تشدد کے برعکس۔انا ہزارے کا کہناتھا” ملک گوناگوں مشکلات کا شکار ہے لیکن لاٹھی اور بندوق کے ذریعہ اس کا حل نہیں۔جتنا زیادہ ہم پر امن راہ اختیار کریں گے، اتنے ہی مسائل حل ہوں گے، عدم تشدد ، زیادہ طاقتور طریقہ ہے برعکس تشدد کے“۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے لوگ کوئی بیرونی نہیں، ہمارے اپنے بھائی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سال 2011میں انہوں نے ملک بھر میں ایجی ٹیشن چلائی ، اس دوران ایک واحد پتھر بھی نہ پھینکا گیا۔انہوں نے 2011میںچلائی گئی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا”میرے پاس سونے کے لئے ایک بستر اور کھانے کی ایک پلیٹ کے سوا کچھ بھی نہیں لیکن پر امن راہ اختیار کر کے پختہ عزم کے ساتھ چلائی گئی تحریک سے چھ منتریوں اور400کے قریب افسروں کو گھرجانا پڑا۔“23مارچ کو مجوزہ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں کہا کہ وہ جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کے لئے 23 مارچ سے قومی راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کریں گے۔ انہوں نے اپنے حمایتیوں سے کہاکہ وہ ایجی ٹیشن کو کامیاب بنانے کے لئے تیاریاں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسانوں کو ان کی محنت کا جائز صلہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے گذشتہ 22 برسوں کے دوران 12 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ حکومت کی طرف سے کسانوں کے لئے اعلان کردہ اقدامات صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، صرف آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھ کر للچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اناہزارے نے سوالیہ انداز میں کہاکہ 60سال سے زائد عمر کے کسانوں کو پنشن دینے کے لئے پارلیمنٹ میں التوا میں پڑے بل کیا کیا ہوا۔ کیوں پٹرول اور ڈیژل کو جی ایس ٹی زمرہ سے باہر رکھاگیاہے…. یہ اس لئے کہ وہ پارٹی اور اپنے چمچوں کو مستحکم بناناچاہتے ہیں تاکہ وہ ایک لاکھ روپے سے ایک ووٹ خرید سکیں۔مودی قیادت والی این ڈی اے سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انانے کہا ”مرکز میں سرکار ملک کے اندر جمہوریت کو مضبوط کرنے کی طرف گامزن نہیں بلکہ یہ برطانوی سامراج جیسا آمرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔انہوں نے مزیدکہا”پچھلے تین برس سے میں خاموش رہا، مجھے امید تھی کہ اچھے دن آئیں گے لیکن ڈیڑھ سال گذر چکے ہیں لیکن اچھے دن کہیں نظر نہیں آتے ، اس کے برعکس ہم برے دنوں کی طرف جارہے ہیں، اس وجہ سے میں بولنے اور ایجی ٹیشن دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہواہوں“۔انا ہزارے نے کہاکہ وہ اس پلیٹ فارم کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی طرح سیاست کے لئے استعمال کرنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا” اس مرتبہ میں بہت زیادہ احتیاط برت رہاہوں اور ممبران سے 100روپے کی بیان حلفی لے رہاہوں ، کہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی یا نظریہ کی حمایت نہیں کریں گے اور صرف سماج وملک کی خدمت کریں گے۔ اس طرح اب تک 5ہزار افراد نے حلف اٹھایا ہے اور وہ تحریک کا حصہ بنے ہیں اور یہ تحریک دن بدن مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ معروف سماجی کارکن نے کہا ’ حق اطلاعات کا قانون یعنی آڑ ٹی آئی ہم نے بنایا پورے ملک کے لئے۔ کیا لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ملا؟ یہ پورے دیش کے لئے قانون بن گیا۔ اس کے لئے میں آٹھ مہینے تک لڑتا رہا‘۔ انہوں نے جن لوک پال بل کے نفاذ کے لئے 23 مارچ سے رام لیلا میدان میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا ’لوک پال کے لئے 16 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران صرف پانی پر زندہ رہا۔ آخر سرکار کو قانون بنانا پڑا۔ قانون بن گیا مگر اقتدار میں آئے نئے لوگ اس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ اس لئے ایک بار پھر رام لیلا میدان میں احتجاج پر بیٹھنا پڑے گا‘۔ انہوں نے کہا ’میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تم زندہ ہوں، سماج اور دیش کے لئے زندہ ہوں۔ جس دن مروں گا، سماج اور دیش کی بھلائی کے لئے مروں گا۔ اس لئے 23 مارچ سے میں پھرسے احتجاج پر بیٹھ رہا ہوں۔ میرا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ابھی تک آٹھ قانون بن گئے ہیں۔ ان میں آر ٹی آئی اور گرام سبھا کا قانون قابل ذکر ہیں۔ ان کا فائدہ لوگوں کو مل رہا ہے‘۔تریپورہ میں جدید روس کے معمار ولادی میر لینن کا مجسمہ منہدم کردینے کی کاروائی کو اقتدار کے نشے میں انجام دی جانے والی کاروائی قرار دیتے ہوئے اناہزارے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجسمہ توڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ مجسمے پاگل پن کی وجہ سے نہیں بنائے جاتے۔ وہ ان شخصیات کے کام کی وجہ سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ مجسمہ اقتدار کے نشے میں توڑا گیا ہے۔ اقتدار کے نشے میں لوگ ایسا کرتے ہیں۔ جن کے مجسمے بنائے جاتے ہیں، انہوں نے سماج کے لئے کام کیا ہوتا ہے‘۔