آصفہ عصمت دری اور قتل معاملہ میں نیا موڑ کرائم برانچ کا مقامی پولیس پر ثبوت مٹانے کا الزام، تحرییری طور ڈی جی پی کو آگاہ کیا

اڑان نیوز
نئی دلی //ماہ جنوری میں جموں کے ضلع کھٹوعہ میں ایک بدوی خاندان کی بچی کے ساتھ پیش آئے شرمناک واقعہ کے تعلق سے یہ اس بات کا انکشا ف ہواہے کہ مقامی پولیس نے واقعہ کے تعلق سے ثبوت مٹانے کی کوشش کی ۔ اس سلسلے میں واقعہ کی تحقیقات کررہی کرائم برانچ نے پولیس سربراہ کو تحریری طورپر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ نجی نیوز چینل نے کرائم برانچ کے سینئر آفیسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقتول بچی کے کپڑوں پر لگے خون
کے دھبوںاور کیچڑ کو مقامی پولیس نے فارنسک لیبارٹری بھیجنے سے قبل دھو ڈالا۔اور نہ ہی جائے جرم کو محفوظ کیا گیا ۔کرائم برانچ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے لکھے گئے خط کے مطابق نہ ہی واقعہ کے تعلق سے ثبوت کو اکٹھا کرکے محفوظ کیا گیا اور نہ ہی بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہونے کے بعدگاو¿ںمیں اس کی بازیابی کے لئے تلاشی لی گئی ۔تاہم کرائم برانچ نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واردات میں ملوث دو ایس پی اوز کی گرفتاری عمل لائی گئی ہے ۔ نجی نیوز چینل این ڈی ٹی وی نے سینئر پولیس آفیسر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کرائم برانچ نے پولیس چیف ڈاکٹر ایس پی وید کو تحریری طورپر آگاہ کیا ہے کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوںمیں مصروف ہے۔ پولیس سربراہ کو بتایا گیا آصفہ نامی آٹھ سالہ لڑکی کے کپڑوں پر لگے خون کے دھبوں کو بھی مٹایا گیا ہے اور اس طرح سے مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹا رہی ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے پولیس چیف ڈاکٹر ایس پی وید کو تحریری طورپر آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ جہاں پر واقع رونما ہوا پولیس اُس جگہ کو محفوظ نہ کر سکی ۔ رپورٹ کے مطابق کرائم برانچ کی جانب سے سنسنی خیز انکشافات کرنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جار ہی ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق چونکہ اب کرائم برانچ نے خود کہا کہ مقامی پولیس ثبوتوں کو مٹانے کی کوششوںمیں لگی ہوئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملوث ایس پی او ز کو بچانے کی کوشش کی جار ہی ہیں ۔ پولیس چیف پر فرض بنتا ہے کہ وہ کٹھوعہ میں تعینات پولیس آفیسروں کا فوری تبادلہ کرکے اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس چیف نے کرائم برانچ کو بتایا کہ ملوث پولیس آفیسروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ پولیس چیف کے مطابق جو کوئی بھی پولیس آفیسر یا اہلکار ثبوتوں کو مٹانے کے ضمن میں ملوث قرار پائے اُن کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔