وزیر اعلیٰ کا عوامی رابطہ پروگرام،ریاسی میں عوامی شکایات ازالہ کیمپ کا انعقاد بجلی کے بنیادی ڈھانچہ کیلئے ایک کروڑ، میٹرنیٹی ہسپتال، سنگڈی واکھسی میں کھیل کے میدانوں کےلئے30 / 30لاکھ روپے کی فراہمی کا اعلان

ریاسی//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عوامی رابطہ پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے آج ریاسی کا دورہ کیا اور وہاں عوامی شکایات کے ازالے کے کیمپ کا انعقاد کیا۔ کیمپ کے دوران وزیر اعلیٰ نے اس پہاڑی علاقہ کے درجنوں وفود اور سینکڑوں لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ ان لوگوں نے اپنے مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔خزانہ اور منصوبہ بندی کے وزیر مملکت اجے نندا، ارکان قانون سازیہ اعجاز احمد خان اور ممتاز احمد خان اس موقعہ پر موجود تھے۔وفود نے عمومی طور پر وزیر اعلیٰ کی لوگوں سے براہ راست ملاقات کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی ستائش کی ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کی ان کوششوں کو سراہا جو وہ دُوردراز اور مشکل ترین علاقوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے انجام دے رہی ہےں۔وفود نے یک روزہ طویل پروگرام کے دوران جو مطالبات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے ان میں ریاسی میں میٹرنٹی ہسپتال کو چالوکرنے ، ضلع ریاسی کو سیاحتی نقشے پرلانے ،کئی سڑکوں کی اَپ گریڈیشن اور ترقیاتی کاموں میں سرعت لانے شامل ہے۔ریاسی قصبہ سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے میٹرنٹی ہسپتال کو چالو کرنے ، قصبے کو سیاحتی نقشے پر لانے ، سولا پارک اور بھیم گڈھ قلعہ کے درمیان کیبل کار پروجیکٹ قائم کرنے ، سرسوٹ ۔ شوپیاں اور گلاب گڈھ ۔ نادی مرگ سڑکوں کی تعمیر ، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے ، گرڈ سٹیشن پر جاری کام میں سرعت لانے اور قصبے میں بچوں کی پارک کو ترقی دینے کا مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے میٹرنٹی ہسپتال کو چالو کرنے کے لئے 30لاکھ روپے ، سولا پارک کو ترقی دینے کے لئے 20لاکھ روپے اور قصبے میں بچوں کی پارک کے لئے 10لاکھ روپے واگذار کرنے کا اعلان کیا۔گلاب گڑھ علاقے سے آئے ہوئے کئی وفود نے گلاب گڑھ ۔ نادی مرگ سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیا تاکہ دونوں خطوں کے بیچ سڑک رابطہ قائم کیا جاسکے۔وفود نے مہور ، چسانہ اور گلاب گڑھ میں آئی ٹی آئی مراکز قائم کرنے، ایس ایم وی ڈی یو میں ضلع کے طلاب کے لئے داخلوں میں ریزرویشن ، مہور میں نرسنگ کالج کے قیام ، دجن ٹاپ اور اکھسی کوسیاحتی مراکز کے طور ترقی دینے کا مطالبہ کیا۔علاقے کے ایک اور وفد نے دیوال ، بہادر ، تلی اور شیر گڑھی میں بینکوں کی شاخیں کھولنے ، سنگڈی ۔ اکھسی میں کھیل کے میدانوں کو ترقی دینے اور خطے میں واٹر سپلائی سکیموں کی تکمیل میں سرعت لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے چسانہ ، مہور اور سنگڈی میں فروٹ منڈیوں کے قیام اور پونی میں کالج قائم کرنے اور مقامی ہیلتھ سینٹر کو اَپ گریڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔وزیرا علیٰ نے سنگڈی اور اکھسی میں کھیل کے میدانوں کو ترقی دینے کے لئے 30لاکھ روپے کی واگذاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے علاقے میں واٹر سپلائی سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔انہوںنے علاقے میں مزید بینک شاخوں کو کھولنے کے مطالبے میں غور کرنے کی یقین دہانی دی۔گجر و بکروال طبقہ کے ایک وفد نے علاقے میں موبائیل سکول قائم کرنے ، ان کی بستیوں میں ڈسپنسریاں کھولنے ، راشن کوٹا میں اضافہ کرنے ، شکاری ۔ بلاڑ سڑک کی ری الائمنٹ کرنے ، علاقے میں کئی سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے اور سونچل ۔ بلاڑ پُل کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ ٹھکرا کوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے علاقے میں ریسونگ سٹیشن کی تعمیر ، کھیل کود کی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے کھیل میدانوں کی تعمیر و ترقی ، پی ایم جی ایس وائی کے تحت رقومات کی واگذاری اور ججھ اور ٹھکرا کوٹ میں بینک شاخیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیرا علیٰ نے ٹھکراکوٹ میں ریسونگ سٹیشن قائم کرنے کے لئے 50لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس پروجیکٹ پر فوراً کام شروع کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے چنکرا میں واٹر سپورٹس کو ترقی دینے کی بھی ہدایت دی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے کورٹ کمپلیکس میں جگہ کی کمی کی وجہ سے اسے متبادل جگہ پر منتقل کرنے کے لئے زمین کی نشاندہی کرنے کی مانگ کی۔ اس ضمن میںوزیر اعلیٰ نے ضلع ترقیاتی کمشنر ریاسی کو ہدایت دی کہ وہ معاملہ پر غور کریں۔وزیر اعلیٰ نے کورٹ کمپلیکس میں متعدد سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کے لئے10 لاکھ روپے کی واگذاری کا اعلان کیا۔سلال سے آئے ایک وفد نے علاقہ میں پینے کے پانی کی قلت، کھیل میدانوں کی ترقی اور سلال کوٹلی سکول کی اپ گریڈیشن کا مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے سلال واٹر سپلائی سکیم کو ایک ہفتہ کے اندر کار گر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کنورجنس موڈ پر سپورٹس فیلڈ کو ترقی دینے کی بھی ہدایات دیں۔تھورو گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے علاقے میں گرڈ سٹیشن کو اَپ گریڈ کرنے ، ریونیو کمپلیکس پر جاری کام میں سرعت لانے ، دھر ماڑی اور ریاسی ۔ مہور ۔ دھرماری زیر تعمیر سڑک مکمل کرنے ، دھرماڑی کالج میں ہوسٹل قائم کرنے اور سائنس و سپورٹس مضامین کو متعارف کرنے کا مطالبہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے علاقے میں گرڈ سٹیشن کو اَپ گریڈکرنے کے لئے 36لاکھ روپے اور دھرماڑی میں کھیل کود کو ترقی دینے کے لئے 10لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔انہوں نے ریونیو کمپلیکس پر جاری کام میں سرعت لانے کی ہدایت دی۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر ریاسی کو ہدایت دی کہ وہ ریاسی ۔مہور ۔ دھرماڑی سڑک کوجلد مکمل کرنے کے سلسلے میں حائل رُکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات کریں۔ارناس کے ایک وفد نے علاقے میں طبی سہولیات کو اَپ گریڈ کرنے ، علاقے میں واٹر سپلائی سکیم کو مکمل کرنے اور منصف کورٹ اور ریلوے کلکٹر کے دفاتر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے بِڈا میں واٹر سپلائی سکیم کو مکمل کرنے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ ان کے دیگر مسائل پر غور کریں گی۔شکاری اور ڈُگری دیہاتوں کے وفد نے مہور اور چسانہ میں کنکٹیوٹی میں بہتری لانے کے لئے وی ۔سیٹس قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ارناس ہسپتال جانے والی سڑک کو اَپ گریڈ کرنے اور ٹھکرا کوٹ ہائی سکول کو اَپ گریڈ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے ارناس ہسپتال جانے والی سڑک کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے 20لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے گوبیاں ۔ گارڈاسڑک کے لئے ڈی پی آر تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی۔انہوں نے سکھہال میں کمیونٹی ہال تعمیر کرنے کے سلسلے میں 20لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔شیرگڈھی اور گلاب گڈھ کے ایک وفد نے سرسول ۔ شوپیاں سڑک کی تعمیر کا مطالبہ کیاتاکہ جموں اور کشمیر خطوں کے درمیان متبادل سڑک رابطہ فراہم کیا جاسکے ۔انہوں نے چونگراں ، سرسوٹ ، منجی کوٹ ، مالی کوٹ اور شبلاس علاقوں میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس مقصد کے لئے وزیر اعلیٰ نے 20لاکھ روپے کی واگزاری کا اعلان کیا۔تلوارا مائیگرنٹوں کے ایک وفد نے ان کی باقاعدہ بازآباد کاری کی مانگ کی۔ ایک اور وفد نے ارناس سے راجوری براستہ بدھل ریلوے لائن کو وسعت دینے اور چسانہ اور مہور میں خالی پڑی زیڈ ای اوز کی اسامیوں کو پُر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔ضلع کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی اور وفود وزیرا علیٰ سے ملاقی ہوئے اور انہیں اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔محبوبہ مفتی نے دِن بھر وفود کے مطالبات سنے اور یہ سلسلہ دیر رات تک جاری رہا ۔ کئی معاملات میں وزیر اعلیٰ نے عوامی شکایات کا ازالہ موقعہ پر ہی کرنے کی ہدایت دی جس کی وفود نے سراہنا کی۔وزیرا علیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل ، ڈویژنل کمشنر جموں ہمنت شرما، آئی جی پی جموں زون ڈاکٹر ایس ڈی ایس جموال ، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ اور منصوبہ بندی محکمہ کے سینئر افسران ، کئی محکموں کے سربراہاں ، انجینئر نگ ونگوں کے چیف ، ڈپٹی کمشنر ریاسی آر پرسنا ، ایس ایس پی طاہر سجاد بٹ صوبائی و ضلع انتظامیہ کے افسران ا س موقعہ پر موجود تھے۔ وزیرا علیٰ کا جموں صوبے کا یہ ساتواں عوامی رابطہ پروگرام تھا۔ اس سے قبل انہوں نے رام بن، ڈوڈہ ، کشتواڑ، راجوری ، کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع میں ایسے ہی عوامی رابطوں کے پروگرام منعقد کئے ۔انہوں نے ایسے ہی پروگرام وادی کشمیر کے پلوامہ ، اننت ناگ، کولگام ، بانڈی پورہ ، گاندربل ، کپواڑہ ، بڈگام اور بارہمولہ اضلاع میں بھی منعقد کئے جہاں سینکڑوں لوگوں نے انہیں اپنے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کیا۔