’اب گیارہویں جماعت کا بھی بورڈ امتحان ہوگا‘

’اب گیارہویں جماعت کا بھی بورڈ امتحان ہوگا‘
ریاست کے بچوںکا محافظ ہوں، ان کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کی اجازت ہرگز نہیں:الطاف بخاری
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//اب ریاست جموں وکشمیر میں11ویں جماعت کے بھی بورڈ امتحانات ہوں گے۔یہ قدم طلبہ کو اپنی تعلیم کو زیادہ محنت کرنے اور بارہویں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے لیاگیاہے۔ کیونک اکثر10ویں کے بورڈ امتحانات پاس کرنے کے بعد گیارہویں میں ذہین ترین بچے بھی یہ جان کر پڑھائی میںسستی کرنا شروع کردیتے ہیں کہ گیارہویں تو وہ پاس کر ہی لیں گے۔ اس سے ان کی 12ویں جماعت میں امتحانی کارکردگی پر منفی اثر پڑتاہے۔یہ اعلان وزیر تعلیم سعید الطاف بخاری نے جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن(JKBOSE)جموں میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایاکہ صوبہ کشمیر اور سرمائی تعلیمی زون جموں میں رواں تعلیمی سال سے گیارہویں کے بورڈ امتحانات لئے جائیں گے۔وزیر تعلیم نے نجی تعلیمی اداروں کو منظوری دینے اور منسلک کرتے وقت قواعد وضوابط کا خاص پاس لحاظ رکھنے اترنے کو کہا ہے۔ انہوں نے جونجی تعلیمی ادارے قواعد وضوابط پورا نہیں کرتے ، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ وزیر موصوف نے انکشاف کیاکہ انہیں ایسی بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بڑی تعداد میں ایسے اسکول ہیں، جن کی JKBOSEبورڈ کے ساتھ رجسٹریشن کی مدت ختم ہوچکی ہے، جن کی تجدید نہ کی گئی، اس کے باوجود بھی ادارے چل رہے ہیں۔ شکایات ہیں کہ ایسے بھی ادارے ہیں، جوکہJKBOSEسے رجسٹرڈ شدہ/منسلک ہی نہیں لیکن جھوٹا دعویٰ کیاجارہاہے۔انہوں نے سیکریٹری محکمہ سکول تعلیم کو ہدایت کی کہ ایسے سبھی نجی اداروں کے متعلق اعدادوشمار جمع کئے جائیں ۔ الطاف بخاری نے کہا”بطور وزیر تعلیم میں جموں وکشمیر ریاست کے بچوں کا محافظ ہوں اور ان کے مستقبل کے ساتھ کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت ہرگز نہ دوں گا“۔وزیر تعلیم نے کہاکہ ان دنوں لگاتار ریاست بھر میں اخبارات، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بیرون ریاست اور بیرون مالک مختلف پروفیشنل وتکنیکی کورسز اور اعلیٰ ڈگریوں میں داخلہ کے اشتہارات اور پبلسٹی کی جارہی ہے، لیکن جن تعلیمی اداروں/کالجوں/یونیورسٹیوں کا ذکر ان اشتہارات میں ہے، کیا وہ قابل اعتبار ہیں، وہ درج شدہ ہیں، یا جعلی، ان کی باریک بینی سے چھان بین ہونی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بچہ کے ساتھ تعلیم کے نام پر کھلواڑ نہ ہو۔سید الطاف بخاری نے واضح کیاکہ”ریاست میں بیرون ریاست اور بیرون ممالک داخلہ کرانے والی جتنے بھی Cosultancyادارے ہیں،ان کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایاجائے کہ ان کے ذریعہ جن کالجوں/یونیورسٹیوں میں داخلے کروائے جارہے ہیں، وہ صحیح بھی ہیں یا نہیں، کنسلٹنسی سینٹرز پر یہ ذمہ داری اور جوابدہی بھی عائدہونی چاہئے ، ان پر مکمل مانیٹرنگ ہو اور ان پر لگام کسی جائے۔وزیر تعلیم نے اشاروں اشاروں میںJKBOSEکے اندر پائی جارہی خامیوں/کمیوں کو دور کرنے اور بورڈ ملازمین کو مزید جوابدہ ہونے کی تاکید کی۔انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ تعلیمی سال شروع ہونے سے کم سے کم ایک ماہ قبل تدریسی کتابیں تیار ہونی چاہئے۔ انہوں نے کتابوں کی اشاعت/پرنٹنگ کے معیار میں بھی بہتری لانے پرزور دیا۔اس سے قبل جے کے بوس ریہاڑی کے دفتر میں الطاف بخاری نے جے کے نالج نیٹ ورک ہب کا افتتاح کیا۔اس نالج نیٹ ورک ہب کے ذریعے سے دور دراز علاقوں کے طلاب کو آن لائن ای کتابوں ، لیکچروں تک رسائی کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین کے ساتھ استفسار کرنے کا موقعہ دستیا ب ہوگا۔وزیر نے اس دوران ویڈیو کانفرنس کے ذریعے طلاب کے ساتھ بات چیت کی۔ اس موقعہ پر تعلیم کی وزیر مملکت پریاسیٹھی بھی موجود تھے۔وزراءموصوف نے جے کے بی او ایس ای کے احاطے میں تین منزلہ اضافی بلاک کا سنگ بھی بنیاد رکھا۔