ریاست کو غیر یقینیت سے نکالنے کے لئے امن لازمی ’مجھے امن دو،میں مذاکراتی عمل کی پیروی کروں گی ‘ بین ایل او سی راستوں کو کھولنے کی وکالت کروں گی:محبوبہ مفتی

کنڈ (دیوسر)//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر کو غیر یقینیت کی صورتحال سے باہر نکالنے کے لئے امن کو لازمی قرار دیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن برقرار رکھیں تاکہ وہ مذاکرات اور افہام تفہیم کے ایجنڈے کو اعلیٰ سطحوں تک پہنچا سکے۔کنڈ دیوسرعلاقے میں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے لوگوں نے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھنے میں اپنا رول ادا کریں تاکہ بات چیت اور افہام وتفہیم کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے اور ریاست میں ایل او سی پر مزید راستے کھولے جاسکیں تاکہ سرحد کے دونوں اطراف کے لوگ ترقی اور خوشحالی کی راستے پر گامز ن ہوسکےں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا” مجھے امن دو،میں مذاکرات کی پیروی کروںگی ۔ اس کے علاوہ میں کرگل۔ اسکردو ، جموں ۔ سیالکوٹ اور نوشہرہ ۔ جھانجر جیسے راستوں کو کھولنے کی بھی وکالت کروں گی“۔ انہوں نے کہاکہ امن کی بدولت ہی دونوں اطراف کے لوگ ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں تک پہنچنے میںکامیاب ہوجائیں گے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت کا ہمیشہ یہ ایجنڈا رہا ہے کہ ریاست کے لوگوں کو تشدد کے بھنور سے باہر نکالا جائے اور ریاست کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کے لئے ایک مشاورتی عمل شروع کیا جائے اور جموں وکشمیر کو ملک کی ایک جدید اور مثالی ریاست میں تبدیل کرایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس ایجنڈے کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور عوامی بہبود کے کئی فیصلے لئے گئے ہیںجن میں 10ہزار نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لینا ، ڈیلی ویجروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانا اور تعمیر نو و وسیع اقتصادی منصوبہ جیسے اقدامات شامل ہیںجو حکومت نے پچھلے تین برسوں کے دوران اُٹھائے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں سرحدوں پر صورتحال کچھ حوصلہ بخش نہیں ہے اور آئے دِن ہلاکتوںاور تباہیوں کی اتنی خبریں سامنے آتی ہیں کہ سرحدی علاقوں کے لوگ بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کر تے ہیں۔ انہوں نے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا کہ 21ویں صدی میںجب لوگوں کو اچھے سکولوں ، اچھے ہسپتالوں اور بہتر خدمات کا مطالبہ کرنا چاہیئے تھا ، وہ اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے لوگوں کو لگاتار بٹوارے اور پاکستان و ہندوستان کے درمیان منافرت کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں اس بات سے دُکھ ہو رہا ہے کہ ریاست کا ایک عام شہری بالآخر غیر یقینیت کی مجموعی صورتحال تشدد اور تضاد کا شکار ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ریاست کے لوگ مارے جاتے ہیں ، ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے ، تعلیم اثر انداز ہو رہی ہے اور کیا کچھ نہیں ہورہا ہے ۔انہوںنے مزید کہا کہ جب حال ہی میں انہوں نے اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چستی ؒکی درگاہ پرحاضری دی ،وہاں اُن کے ساتھ ایک آفیسر ملاقی ہوا جنہوں نے ریاست کے نوجوانوں کی ذہانت اور صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی۔مگر افسوس یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنے آپ پر مظالم ڈھا رہے ہیں جس سے صرف ان کا ہی نقصان ہوتا ہے نہ کسی دوسرے کا ۔وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کے راستے سے دور رہے ۔انہوں نےکہا کہ پوری دنیا گواہ ہے کہ تشدد کے ذریعے سے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکلا ہے بلکہ اس کی وجہ سے مسائل میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر ، خوراک و سول سپلائز کے وزیر چودھری ذوالفقار علی ، ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے ، سابق ڈپٹی سپیکر اور پی ڈی پی کے نائب صدر محمد سرتاج مدنی اور کئی دیگر لیڈروں نے اجتماع سے خطاب کیااور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعلیٰ کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ وہ ریاست کو تشدد اور غیر یقینیت کے بھنور سے باہر نکال سکے ۔