4روز بعد قومی شاہراہ جزوی بحال درماندہ گاڑیاں نکالی گئیں ، سینکڑوں مسافر ٹرانسشپ کر کے اپنی منزلوں کی طرف گئے

دانش وانی
بانہال // مسلسل گر آ نے والی پسیوں کے باعث بند جموں سرینگر قومی شاہراہ جمعرات شام 6 بجے کے قریب چوتھے روز جزوی طور پر گاڑیوں کی آمد و رفت کے لئے بحال کر لی گئی اور درماندہ مسافر گاڑیوں کو ترجیحی بنیاد پر ان کی منزلو ں کی طرف جانے کی جازت دی گئی ۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق شاہراہ کی توسیع پر مامور تعمیراتی کمپنیوں نے 5مشینیں اور مزدور لگا کر ماروگ کے قریب بھاری پسی کو جمعرات شام 6بجے کے قریب ہٹانے میں کامیابی حاصل کر لی جس کے بعد درماندہ گاڑیوں کو نکالا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کمپنیوں نے گزشتہ روز پسی گر آنے کے بعد ہی اپنی مشینری کام پر لگا دی تھی لیکن اوپر پہاڑی سے مسلسل ملبہ اور پتھر آ رہے تھے جس کی وجہ سے شاہراہ کی بحالی کے کام میں رکاوٹ پیش آتی رہی ۔اس دوران جمعرات کو بھی سینکڑوں مجبور مسافروں نے پیدل پسی عبور کی اور دوسری طرف سے گاڑیوں پر بیٹھ کر اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہوئے ۔وادی سے سینکڑوں مسافر ریل گاڑی سے بانہال ، وہاں سے ماروگ تک مقامی گاڑیوں میں پہنچے اور پسی کو پیدل عبور کر کے دوسری طرف کھڑی گاڑیوں میںجموں کی طرف روانہ ہوئے ۔ اسی طرح جموں سے وادی کی طرف جانے والے مسافر بھی گاڑیاں تبدیل کر کے بانہال پہنچے اور یہاں سے ریل گاڑی پر روانہ ہوئے ۔ درماندہ مسافروں نے الزام لگایا کہ مقامی انتظامیہ انہیں کوئی راحت پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہراہ کے بند ہونے کا ڈھابہ مالکان اور دوکاندار نا جائز منافع خوری کر رہے ہیں لیکن کوئی ان کی چیکنگ نہیں کر رہا ہے ۔ شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے وادی کے ساتھ ساتھ ضروری اشیائے خوردنی ، تیل ،پیٹرول و سبزیوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا جانکاروں کا ماننا ہے کہ شاہراہ کی چار گلیارہ توسیع پر مامور تعمیراتی کمپنیوں نے پراگرس نکالنے کے لئے کھدائی کے کام پر زیادہ توجہ دی ہے لیکن شاہراہ کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے ہیں ۔ ایک درماندہ مسافر ، جو پیشے سے سول انجینئر ہیں ، نے بتایا کہ تعمیراتی کمپنیوں کو کھدائی کے ساتھ ساتھ کریٹ لگانے اور راک بولٹنگ (Rock Bolting) بھی کرنی چاہئے تھی تاکہ کمزور چٹانیں اور ملبہ گرنے کے امکانات کم ہو جاتے ۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کمپنیاں زیادہ سے زیادہ کھدائی کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں اور شاہراہ کو بند ہ ونے سے بچانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے ۔ ۔ ٹریفک پولیس کا کہنا تھا کہ ماروگ کے مقام پر تعمیراتی ایجنسی کی طرف سے 5 کے قریب مشینوں کو کام پر لگا کر شام 6بجے ملبہ ہٹا نے میں کامیابی حاصل کر لی اور اس کے بعد درماندہ ٹریفک کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔ا±نہوں نے کہا کہ اگر پہاڑی سے دوبارہ ملبہ کھسک کر نہ آیا تو شام دیر تک درماندہ گاڑیوں کو ترجیحی طور پرآگے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔