وادی کے درماندہ مسافروں کا جموںبس اڈہ پر احتجاج وزیر عبدالرحمن ویری نے بس اڈہ کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//پچھلے چار روز سے جموں سرینگرقومی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے سرمائی دارالحکومت جموں میںہزاروں کی تعداد میں وادی کشمیر کے لوگ درماندہ ہیں۔جموں بس اڈہ پر مسافروں کی اتنی زیادہ بھیڑ ہے کہ پاو¿ں رکھنے کی جگہ نہیں۔جمعرات کو درماندہ مسافروں نے سرکاری کے خلاف احتجاج کیا ۔ انہوں نے بی جے پی۔ پی ڈی پی سرکار ہاے ہائے کے نعرے لگائے۔مظاہرین کا الزام تھاکہ ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہیں، حکومت کی طرف سے درماندہ مسافروں کے طعام وقیام کے لئے کوئی انتظام نہیں کیاگیا۔ دکاندار ان کی مجبوری کا فائیدہ اٹھاکر کھانے پینے کی اشیاءکی دوگنی چوگنی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔احتجاج میں شامل چند مسافروں نے بتایاکہ ہوائی جہاز کی قیمت فی سوار بڑھا کر25ہزار روپے کر دی گئی ہے جوکہ ان کے لئے دینا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر کشمیر میں یاتری اس طرح مشکل میں ہوتے تو، ان کے لئے خصوصی فضائی سروس کا انتظام ہوتا، پوری حکومت وہاں ٹوٹ پڑتی لیکن پچھلے چار روز سے وہ بس اڈ ہ جموں پر دربدر ہیں، حکومت ٹس سے مس نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر جموں سرینگر شاہراہ اسی طرح بند رہے گی وہ بھوک مری کا شکار ہوسکتے ہیں، لہٰذا انہیں اپنی منزلوں تک پہنچانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ درماندہ مسافروں کے لئے خصوصی فضائی سروس چلائی جائے۔ دریں اثناءمال ، حج و اوقاف کے وزیر عبدالرحمان ویری نے جموں بس سٹینڈ کا دورہ کر کر کے وہاں ضلع انتظامیہ کی طرف سے ان مسافروں کے لئے انتظامات کا جائزہ لیاجو سرینگر جموں قومی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے درماندہ ہوگئے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جموں ڈاکٹر ارون منہاس اور کئی دیگر افسران بھی وزیر موصوف کے ہمراہ تھے۔وزیر کو اس موقعہ پر انتظامیہ کی طرف سے اس حوالے سے کئے جارہے انتظامات کے بارے میں جانکاری دی گئی اور کہا گیا کہ ان لوگوں کے لئے قیام و طعام کی بہتر سہولیات رکھی گئی ہیں۔ویری نے مسافروں کے ساتھ استفسار کر کے ان کے مسائل غور سے سنے ۔انہوں نے اے ڈی سی جموں کو ہدایت دی کہ وہ کئی ہوٹل مالکان کی طرف سے زیادہ رقم وصولنے کے معاملے پر نظر رکھیں۔انہوں نے مسافروں سے کہا کہ وہ یہ معاملات فوری طور سے حکام کی نوٹس میں لائے۔وزیر نے ضلع انتظامیہ سے کہا کہ وہ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی ایک ٹیم فوری طور سے بس سٹینڈ روانہ کریں تاکہ ضرورت مند مسافروں کو طبی سہولیات بہم کرائی جاسکیں۔انہوں نے شاہراہ پر ٹریفک بحال ہونے کے فوراً بعد سرینگر اور دیگر اضلاع تک معقول ٹریفک دستیاب کرانے کی بھی ہدایت دی ۔