بغلیار پروجیکٹ سے پیدا شدہ ماحولیاتی چیلنجوں کے تئیں حکومت غیر سنجیدہ یہ لاپرواہی ’اتراکھنڈ‘جیسی تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے پولیوشن کنٹرول بورڈ، وائلڈ لائف، سائل کنزرویشن اور جنگلات محکمہ جات میں آپسی تال میل کا فقدان

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//قانون ساز اسمبلی کی 25رکنی ماحولیاتی کمیٹی نے بغلیار پن بجلی پروجیکٹ سے ماحولیات پر پڑنے والے منفی اثرات کی طرف حکومت اور متعلقہ محکموں کی عدم توجہی پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیٹی نے حدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر ترجیحی بنیادوں پرماحولیاتی پہلوو¿ں کوسنجیدگی سے نہ لیاگیاتو بغلیار پاور پروجیکٹ جموں وکشمیر ریاست میں ’اُتراکھنڈ ‘جیسی تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتاہے۔نہ صرف بغلیار بلکہ وادی چناب (ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع)میں تعمیر دیگر پن بجلی پروجیکٹوں سے پیدا شدہ ماحولیاتی مسائل پر بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ اسی دریاءپر ریاسی میں690میگاواٹ سلال ہائیڈرو الیکٹریک پروجیکٹ اور کشتواڑ میں390میگاواٹ کا ڈول ہستی پاور پروجیکٹ ہے۔بغلیار پروجیکٹ مرحلہ دوم جس کا افتتاح2015میں کیاگیاتھا، بھی 450میگاواٹ بجلی پیدا کر رہاہے۔محمد یوسف تاریگامی سربراہی والی اسمبلی کی ماحولیاتی رپورٹ کمیٹی نے اپنی تاز ہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر سے وادی چناب میں پیداشدہ ماحولیاتی چیلنجوں سے قدر نپٹنے کے لئے محکمہ جنگلات کو جورول نبھانا چاہئے تھا، وہ نہیں نبھایاجارہا۔شجرکاری ، تحفظاتی کاموں کے لئے فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود ان کا تصرف نہیں کیاجارہاہے۔ بغلیار پاور پروجیکٹ میں مرحلہ اول کے تحت محکمہ جنگلات کو5.88کروڑ اور مرحلہ دوم کے تحت13کروڑروپے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ محکمہ جے کے پی ڈی سی مزید فنڈز ریلیز کرنے کو بھی تیار ہے لیکن ان کو استعمال میں نہیں لایاجارہا۔کمیٹی نے بغلیار پروجیکٹ سے پیدا شدہ متعددماحولیاتی معاملات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بغلیار ڈیم کی تعمیر سے 30کلومیٹر لمبی جھیل بنی ہوئی ہے اس کے دونوں اطراف ڈھلان (Slop)مستحکم نہیں، لگاتارچٹانیں، درخت، ملباکھسک کر نیچے آکر ڈیم میں جمع ہورہاہے۔کمیٹی نے حدشہ ظاہر کیاکہ محکمہ کو ترجیحی بنیادوں پر ماحولیاتی مسائل کا ازالہ کرنے ہوگا ، بصورت دیگر یہاں بھی ’اتراکھنڈ ‘جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔کمیٹی رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ کے ’catchment Treatment Plant‘کے لئے 5.88کروڑ روپے محکمہ سائل کنزرویشن کے پاس پڑے ہیں لیکن انہیں استعمال نہیں کیاجارہا۔بغلیار پروجیکٹ کے مرحلہ دوم کے تحت 13کروڑ میں سے8ہزار واگذار کر دیئے گئے ہیں لیکن محکمہ جنگلات ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپایاکہ کس طرح سے ڈھلان(SLops)کو مستحکم کیاجائے گا۔ کمیٹی کے مطابق یا تو سائل کنزرویشن ایکسپرٹ کی مدد سے ہی ان پیسوں کو استعمال میں لائے یاپھرپی ڈی سی کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔کمیٹی چیئرمین نے محکمہ جنگلات، سائل کنزرویشن ،وائلڈ لائف اور پولیوشن کنٹرول بورڈ کو مل کر کام کرنے کو کہاہے۔مذکورہ محکمہ جات میں آپسی تال میل کا فقدان ہے اور خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے دوسرے پر ذمہ داریاں تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ماحولیاتی کمیٹی نے محکمہ کو ہدیات دی کہ اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ ماحولیاتی اثرات مینجمنٹ، مالیاتی اور خمایوں کو دور کیاجائے اور مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔کمیٹی نے پالیوشن کنٹرول بورڈ کومختلف چھوٹے پن بجلی پروجیکٹوں کا ماحولیاتی جائزہ لانے اور ماحولیاتی آڈٹ کرنے کو کہاہے۔ ماحولیاتی مینجمنٹ پلان کے تحت پروجیکٹ کے ارد گرد رہنے والے لوگوں کی تفصیلات، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرن پر بھی زور دیاہے۔اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ جنگلات کو این ایچ پی سی اور پی ڈی سی کی طرف سے وادی چناب میں شجرکاری وغیرہ کے لئے جوکروڑوں روپے دیئے گئے ہیں، انہیں کٹھوعہ، اودھم پور اور جموں کے کئی علاقوں میں خرچ کیاگیاہے۔