ایک اور چراغ گُل ہوا! معروف شاعر محمود الحسن محمود نہ رہے

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//اُردو ادب و صحافت کے سرخیل ،برصغیر کے اُردو ادب میں سند باد جہازی کے نام سے معروف چراغ حسن حسرت مرحوم کے گھر کا ایک اور چراغ گل ہو گیا ہے ۔ ان کے بھانجے معروف شاعر محمود الحسن محمود بدھ کو پونچھ میں انتقال کر گئے ہیں۔محمود الحسن محمود کو ان کی سنجیدہ اور پرمزاح شاعری کے لئے جانا جاتا تھا ۔۔ ان کی عمر80برس اور سات ماہ تھی۔4جولائی1937کو قصبہ پونچھ میں ہی منشی پیران دتہ سلہریا کے ہاں پیدا ہوئے محمود حسن محمودکاشمارریاست جموں وکشمیر کے اردو زبان کے سرکردہ شعرا میں ہوتا تھا۔ھیسا کہ بتایا گیا کہ وہ مرحوم چراغ حسن حسرت کے بھاجنے تو جو اُردو کے کہنہ مشق شاعر، صحافی ، اور انشائے پرداز تھے۔ ان کے پسماندگان میں 2بیٹیاں ہیں جب کا ان کا واحد بیٹا 18برس قبل انتقال کرگیا تھا۔ محمودحسن محمود پیشہ سے مدرس تھے اور سال 1992کو سنیئر ٹیچر کے طور ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔انہوں نے ریاستی وملکی سطح پر متعدد بار مشاعروں میں شرکت کی اور ریاست و بیرون ِ ریاست کے ادبی جریدوں میں چھپتے رہے۔ پیرپنچال خاص طور سے پونچھ ضلع میں منعقد ہوئے والے مشاعروں اور ادبی محفلوں کی اکثر وبیشتر وہی صدارت کرتے تھے۔ پونچھ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شعراءمیں بیشترنے براہ راست انہیں سے اصلاح لیتے تھے جن میں کے ڈی مینی، پردیپ کھنہ، لیاقت جعفری، انور خان، احتشام محتشم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے پہاڑی زبان میں بھی شاعری کی ہے لیکن زیادہ تر شاعری ان کی اردو زبان میں ہی ہے۔ ”اُوج خیال“ اور ”متاعِ خیال“ نام سے دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ 25فروری2013کو ریاستی اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجزنے ان کو اعزاز سے بھی نوازنے کے لئے ا خصوصی تقریب منعقد کی گئی تھی۔مرحوم متعدد ادبی تنظیموں کے ممبر بھی تھے۔ان کی شاعری کے متعلق اُردو کے معروف جدید شاعر شیخ خالد کرارّ کا کہنا ہے کہ ”وہ کلاسیکیت اور جدت طرازی کے سنگم پر کھڑے تھے اور انہوں نے اپنی شاعری کو گہری سنجیدگی کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے اسے مزاح کی لطیف آمیزش سے پروسا ہے جو اپنے آپ میں ایک نیا ڈکشن لئے ہوئے ہے۔“خالد مزید کہتے ہیں” کہ وہ پونچھ کی تابندہ ادبی روایت کے اہم کردار تھے “۔ انہوں نے روایتی شاعری کی بجائے عصری معاملات پر زیادہ شاعری کی ہے جس میں سچائی ان کا خاص موضوع رہاہے۔ ”ملی ٹینٹ“ نام سے ان کی ایک مشہور نظم تھی۔محمود الحسن محمود کی وفات پر متعدد سیاسی، سماجی، ادبی شخصیات نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیاہے۔ان کی وفات سے ریاست بالعموم اور بالخصوص پونچھ ضلع کے ادبی حلقہ میں ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۔